Monday, 23 March 2026
  1. Home/
  2. Abu Nasr/
  3. Be Jan Bolta Hai Maseeha Ke Hath Mein

Be Jan Bolta Hai Maseeha Ke Hath Mein

رمضان کے آخری عشرے میں اُٹھائے جانے والے ایک حلف کا تلفظ روزے کی حالت میں سن کر ہماری بھی وہ حالت ہوئی جو ہمارے صوبے کے گورنر صاحب کی گورنری کا حلف اُٹھاتے وقت ہوئی ہوگی۔ بھلا کیسی حالت؟ اس مختصر سوال کا مسکت جواب جونؔ ایلیا مرحوم پہلے ہی دے گئے ہیں، جو آج بھی حسبِ حال، ہے۔ فرمایا:

کوئی حالت نہیں، یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے

ہمارے ہاں حلف اُٹھانے کی جو آشوب ناک صورت رائج ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ "اے کَلّے بندے دا کَم نئیں" یعنی اکیلا چنا اپنے بل بوتے پر آپ حلف اُٹھا کر بھاڑ نہیں پھاڑ سکتا۔ ایک طاقتور شخص حلف اُٹھواتا ہے تب جاکر دوسرا نحیف و نزار شخص حلف اُٹھا پاتا ہے۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ اوّل الذکر شخص حلف کی عبارت پڑھ پڑھ کر بولتا چلا جاتا ہے اور ثانی الذکر شخص رٹُّو طوطا (یا توتا) بنا اُسے دُہراتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پہلے شخص کو دوسرے شخص کا مسیحا جانیے۔ مسیحا کے ہاتھوں جو ہوتا ہے وہ نیچے ناسخؔ کے شعر میں آتا ہے۔

خوشی کی خبر یہ ہے کہ اِس اچانک اور غیر مترقبہ گورنری کا حلف اُردو میں لیا گیا اور اُردو میں دیا گیا۔ تاہم اُردو ذریعۂ تعلیم کا خاتمہ "بالانگریزی" ہوجانے کے باعث اُردو کی عام مانوس تراکیب سے ناواقفیت اب ہمارے خواص میں بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ یہ ناواقفیت ترقی کرتے کرتے بھلا کس اعلیٰ ترین درجے تک جا پہنچی ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حلف لینے والی اعلیٰ ترین شخصیت نے حلف کی تحریری اُردو عبارت کے مطابق گورنری کے فرائض کی "کما حُقّہ" انجام دہی کا ذکر کیا تو گورنر صاحب نے بھی اُنھیں کا اعلیٰ ترین نَیچہ تھام کر "کما حُقّہ" کے الفاظ دُہرا دیے۔ کم از کم "اُردوگو" گورنر صاحب سے تو ہمیں ایسی حُقّۃ نوشی کی اُمید نہ تھی۔ ممکن ہے کہ اُنھوں نے جان بوجھ کر یہ حُقّہ گُڑگُڑایا ہو، تاکہ حلف کی قید سے آزاد رہ کر اپنا پورا دور گورنری حُقہ گُڑگُڑاتے ہوئے ہی گزار دیں۔

حُقّہ کسے کہتے ہیں؟ صاحب! حُقّہ یوں تو زیورات، جواہرات اور عطریات رکھنے کی ڈبیا کو بھی کہتے ہیں، جیسا کہ رندؔ نے کہا:

بُوئے عطر آئی دماغِ جاں معطّر ہوگیا
زُلفیں تیری کیا کُھلیں، حُقّے کھلے عطّار کے

مگر عام لوگ جس شے کو حقہ کہتے ہیں وہ عطار کا حقہ نہیں، نواب زادہ نصراللہ خاں مرحوم والا حقہ ہے۔ تعریف کے مطابق چلم، پانی سے بھرے ہوئے ظرف اور ایک نالی یا ایک سے زائد نالیوں پر مشتمل ایک قدیم آلہ حُقّہ کہلاتا ہے جو تمباکو نوشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ چلم میں انگارے دہکا کر ان انگاروں کے اوپر تمباکو دھر دیا جاتا ہے یا تمباکو رکھ کر اُس پر دہکتے ہوئے انگارے دھر دیے جاتے ہیں۔ حُقّہ سُلگ اُٹھتا ہے۔ حقے کی نال یا نالیاں حقے کی نَے کہلاتی ہیں۔ نَے کا وہ سرا جو منہ میں لے کر گُڑگُڑایا جاتا ہے نَیچہ کہلاتا ہے۔ نیچہ تھام کر کش لیتے ہیں تو تمباکو کا دھواں پانی سے گزر کر (یا یوں کہیے کہ فلٹر ہوکر) پینے والے کے منہ میں جاتا ہے اور ناک سے خارج کیا جاتا ہے۔ یہ دھواں پہلی بار حقہ پینے والے کا حلق کڑواہٹ سے بھر دیتا ہے اور پیٹ میں پہنچتے ہی ایک غیبی گھونسا رسید کرتا ہے۔

حقہ پیتے ہوئے، حقے سے"گُڑگُڑ گُڑگُڑ" کی جو آواز نکلتی ہے اُس آواز کی بنا پر انگریزوں نے ہمارے حقے کو "Hubble-bubble" کا نام دے ڈالا۔ جب کہ جناب امام بخش ناسخؔ اِس گُڑ گُڑاہٹ کو "حضرتِ والا"کا معجزہ قرار دیتے ہیں:

حُقّہ جو ہے حضورِ مُعلّیٰ کے ہاتھ میں
گویا کہ کہکشاں ہے ثریا کے ہاتھ میں

ناسخؔ یہ سب بجا ہے، ولیکن تُو عرض کر
بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں

کہا جاتا ہے کہ حقے کا آبائی وطن ہندوستان ہے، مگر یہ منہ در منہ چلتے چلتے ایران، ترکستان اور عربستان سمیت دنیا کے بہت سے خطوں میں جا پہنچا۔ اُردو میں حقے سے متعلق کئی محاورے مستعمل ہیں مثلاً "حقہ بھرنا"یعنی چلم میں تمباکو رکھ کر آگ بھرنا، مراد یہ کہ پینے کے لیے حقہ تیار کردینا۔ "حقہ پینا" یعنی حقے کے کش لگانا۔ "حقہ تازہ کرنا" یعنی حقے کا پانی بدلنا اور نَے وغیرہ کو تر کرنا۔ حقہ لے کر چلنے کے لیے جو ملازم رکھا جاتا وہ "حُقّہ بردار" کہلاتا۔ مجازاً کسی حاکم یا کسی افسر کے خوشامدی اور چاپلوس مصاحب کو بھی حُقّہ بردار، کہہ دیا جاتا ہے۔

گاؤں، دیہات میں برادریوں کی جوبیٹھک بنتی ہے اُس میں بالعموم ایک ہی حقہ تمام حاضرین میں پھرایا اور گردش کروایا جاتا ہے۔ لوگ ایک ایک کش لگاکر حقہ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے جب کسی کو برادری سے نکالا جاتا ہے، مقاطعہ یا بائیکاٹ کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ "اُس کا حقہ پانی بند کردیا گیا"۔ ویسے "حقہ پانی کرنا" کسی کی خاطر تواضع اور میزبانی کرنا ہے۔ مگر" حقہ پانی بند کرنا" مقاطعہ کرنا ہے، کیوں کہ پھر اُسے برادری کی کسی محفل یا کسی تقریب میں آکر حقہ نوشی کا حق نہیں رہتا۔

حق کسے کہتے ہیں؟ حق کا مطلب سچائی، صداقت، انصاف اور راست بازی ہے۔ حق باطل کی ضد ہے۔ حق حق ہے اور باطل باطل۔ بالکل ٹھیک اور بالکل درست کے معنوں میں بھی حق، بولا جاتا ہے، جیسے "تمھارا کہنا حق ہے"۔ حق، اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کو حق تعالیٰ بھی کہا جاتا ہے۔ بحرؔ کہتے ہیں:

پھر مجھے کیا غم کسی بے درد کی بے داد کا
حق تعالیٰ سننے والا ہے اگر فریاد کا

کوئی شخص مرجاتا ہے تو وہ اللہ کے حضور حاضر ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ "وہ شخص جاں بحق" ہوگیا۔

حق، کا ایک مطلب مفاد، بھی ہے۔ کوئی بات کسی کے مفاد میں ہو تو کہا جاتا ہے کہ "یہ تمھارے حق میں بہتر ہے"۔ اسی طرح کوئی چیز سرکار کے مفاد میں ہو تو وہ "بحقِ سرکار ضبط" کرلی جاتی ہے۔ حق کا ایک اور مطلب ہے کسی شخص کا حصہ، اُس کا اختیار یا بزبانِ انگریزی اُس کا، Right جیسے کہا جائے کہ "یہ اُس کا حق ہے"۔ مراد ہے کسی شخص کا استحقاق اور دعویٰ۔ علاوہ ازیں صلے، بدلے اور معاوضے کو بھی حق، کہا جاتا ہے۔ مثلاً حقِ محنت، حقِ خدمت اور حقِ نمک وغیرہ۔ میر انیسؔ کہتے ہیں:

غازی ستم گروں سے وفا کرکے مر گئے
حقِ نمک جو تھا وہ ادا کرکے مر گئے

اپنا فرض پورا کرنا یاخدمت وغیرہ جس طرح کرنی چاہیے اُس طرح کرنے کو "حق ادا کرنا" کہتے ہیں۔ غالبؔ کا مشہور شعر ہے:

جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

"کسی فرض کو اس طرح ادا کرنا جیسے ادا کرنا چاہیے" کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اُردو میں بھی عربی ترکیب رائج ہے "کَمَا حَقَّہ، "۔ عربی میں حق کے بعد ہ، لگا کر اُس پر اُلٹا پیش ڈال دیتے ہیں اور پڑھتے ہیں "حَقَّ ہُو" جس کا مطلب ہے "اُس کا حق"۔ عربی کے لفظ "کَما" کا مطلب ہے جیسا۔ "او کما قال" کا مطلب ہے" یا جیسا کہا، جیسا فرمایا"۔ اس طرح"کَمَا حَقَّہ، " کا مطلب ہوا "جیسا کہ اس کا حق ہے"۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais