کراچی کے مشہور علاقے ملیر سے جناب محی الدین میر کا دلچسپ مراسلہ موصول ہوا ہے: "ہمارے ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جابجا "ٹریننگ انسٹیٹیوٹ" بنے نظرآتے ہیں۔ میرے محدود علم کے مطابق "Train" تو جانوروں کو کیا جاتا ہے۔ جب کہ انسانوں کی "تربیت" کی جاتی ہے۔ ، Trainکا مطلب سدھانا، ہلانا، مانوس کرنا، سکھانا یا گھسیٹنا ہے۔ ریل گاڑی کو بھی، Train اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ انجن اپنے پیچھے بندھے ہوئے ڈبوں کے پورے سلسلے کوگھسیٹتا لیے چلا جاتا ہے۔ عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ محض اغیار کی نقالی میں ہمیں، Trainکا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری زبان میں "تربیت" جیسا جامع لفظ موجود ہے۔ ملک کے اربابِ تعلیم اگر اپنے لڑکے لڑکیوں کو جانوروں کی اولاد سمجھتے ہیں تو بے شک انھیں، Train کیا کریں، لیکن اگر وہ انسان کے بچے ہیں تو اُن کی "تربیت" ہونی چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟"
صاحب! ہمارے خیال کو دفع کیجیے۔ علم ہمارا بھی بہت محدود ہے۔ جب کہ ہماری لاعلمی کی سرحدیں لا محدود ہیں۔ مگر ہم انگریزی کی کھکھیڑ میں نہیں پڑتے۔ بقول اقبالؔ:
کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
ہمیں آپ کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ تربیت، جامع لفظ ہے۔ اس لفظ کی جامعیت سے وہ لوگ خوب آگاہ ہیں جو لفظ رب، کی معنویت سے آگاہ ہیں۔ رب، کا مفہوم کسی بھی زبان میں محض ایک لفظ سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس دو حرفی لفظ میں جہانِ معنی آباد ہے۔
رب، کا مادّہ یا مصدر "ر ب ب" ہے۔ اس کا مطلب ہے پرورش کرنا، پالنا پوسنا اورضروریاتِ زندگی فراہم کرنا۔ نشوونما دینا، بڑھانا یا اضافہ کرنا۔ کسی چیز کو درجہ بہ درجہ ترقی دے کر کمال تک پہنچانا۔ سمیٹنا، جمع کرنا اور فراہم کرنا۔ خبر گیری کرنا، دیکھ بھال کرنا، نگرانی کرنا اور کفالت کرنا۔ فوقیت، بالادستی، سرداری اور حکم چلانا۔ مالک و مختار ہونا یا صاحبِ اقتدار ہونا۔ اللہ ان تمام معنوں میں "رب العالمین" ہے۔
رب کا لفظ انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ خود قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ یوسف کی آیت نمبر 42 میں آیا ہے کہ "پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اُس سے یوسفؑ نے کہا اپنے رب (یعنی اپنے آقا) سے میرا ذکر کرنا"۔
سورۂ یوسف ہی کی آیت 50 میں ہے: "جب پیغام لانے والا یوسفؑ کے پاس آیا تو یوسفؑ نے کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جاؤ اور اُس سے پوچھو کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ میرا رب تو ان کی چال سے باخبر ہے ہی"۔
اس آیت میں پہلا رب بادشاہِ مصر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ عربی میں باغ کو حدیقہ، کہتے ہیں اور باغ کی دیکھ بھال کرنے، پودوں کی پرورش و پرداخت کرنے اور انھیں پروان چڑھانے والے (مالی) کو رَبُّ الحدیقہ، کہا جاتا ہے۔ تجارت میں شراکت کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص مال لگاتا ہے اور دوسرا وقت اور محنت۔ مال لگانے والے کو معاشیات کی اصطلاح میں ربُّ المال، کہا جاتا ہے۔ گھر کے مالک یا صاحبِ خانہ کوربُّ ا لدّار اور ربّ البیت، کہتے ہیں۔ رب کی جمع ارباب ہے۔ ارباب بھی مالک و مختار ہی کے معنوں میں بولا جاتا ہے، مثلاً اربابِ اختیار یعنی اختیارات کے مالک لوگ۔ اربابِ اقتدار، طاقت و اقتدار کے مالک اور اربابِ بست و کُشاد حکومت کے کھلے اور ڈھکے معاملات کے مالک و مختار۔ محی الدین میرصاحب نے بھی اپنے مراسلے میں اربابِ تعلیم، کی ترکیب استعمال کی ہے، جس سے مراد یقیناً تعلیم کو فروغ دینے والے اور نظامِ تعلیم پر پورا پورا اختیار رکھنے والے لوگ ہی ہوں گے۔
رُبوبیت، کا لفظ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے پالنے، پرورش کرنے اور دیکھ بھال کرنے کا عمل۔ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رُبوبیت، بھی ہے۔ پرورش کے عمل ہی کی وجہ سے سوتیلے باپ کے گھر میں پرورش پانے والے لڑکے کو ربیب اور لڑکی کو ربیبہ، کہا جاتا ہے۔ دائی بھی ربیبہ، کہی جاتی ہے۔ سوتیلی ماں کو رابہ، کہتے ہیں، کیوں کہ وہ حقیقی ماں تو نہیں ہے مگر بچے کی پرورش کرتی ہے۔ یہودی اپنے مذہبی پیشواؤں کو اُسی طرح ربی، کہتے ہیں جس طرح ہم اپنے علمائے دین کو مولانا، کہتے ہیں۔
اتنی تفصیل بیان کرنے کا مقصد محض یہ بتانا تھا کہ تربیت، کا لفظ آیا کہاں سے۔ تربیت، کرنے والا بھی باغ کے مالی کی طرح اپنے زیر تربیت افراد کی دیکھ بھال کرتا ہے، اُنھیں علم و فن میں پروان چڑھاتا ہے، اُنھیں سکھاتا پڑھاتا ہے اور جس طرح کسی دیوار پر بیل چڑھائی جاتی ہے اُسی طرح وہ اپنے تلامذہ کو علم و فن کی بلندیوں پر چڑھاتا ہے۔ مالی گھاس پھوس اور نامطلوب پودوں کی کاٹ چھانٹ کرتا ہے۔ تربیت دینے ولا بھی نامناسب باتوں پر تنبیہ کرتا ہے، تہذیب کرتا ہے، گوشمالی کرتا ہے اور تادیب کرتا ہے یعنی ادب سکھاتا ہے۔ ان تمام کاموں میں اخلاص اور فرض شناسی لازم ہے۔ والدین کا فرض بھی اولاد کو صرف کھلانے پلانے، پالنے پوسنے اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے تک محدود نہیں۔ بچوں میں اچھے اوصاف پیدا کرنا بھی تربیتِ اولاد کا حصہ ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح کی حدیث نمبر 4977 میں آیا ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: والدین اپنی اولاد کو جو بہترین عطیہ دیتے ہیں وہ ان کی اچھی تربیت ہے"۔
والدین کی طرح اساتذہ بھی یہ عطیہ دیتے ہیں۔ اساتذہ کی تربیت بھی صرف علوم و فنون سکھا دینے تک محدود نہیں، شاگردوں کی سیرت وکردار کی تعمیر بھی تربیت میں شامل ہے۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبالؔ کہتے ہیں:
مرے حلقۂ سخن میں ابھی زیرِ تربیت ہیں
وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسمِ کج کُلاہی
مراد یہ کہ میرے دائرۂ درس میں ایسے درویش موجود ہیں جو حکمرانی کے طور طریقے جانتے ہیں، مگر ابھی ان کو اچھی طرح سکھانا، پڑھانا اور پروان چڑھانا باقی ہے۔ اقبالؔ تاعمر یہ کام کرتے رہے۔ کاش اقبالؔ کے تربیت یافتہ لوگ ہی ہمارے حکمران بن گئے ہوتے۔
تربیت کرنے والا مربی، کہلاتا ہے۔ جانوروں کو سدھانے والے یا، Trainerکی طرح مربی، محض کرتب سکھانے پر اکتفا نہیں کرتا۔ مربی، کے معنوں میں سرپرست، پشت پناہ، دست گیر، ہمدرد، مددگار، پرورش کرنے والا اور تعلیم و تربیت دینے والا کے مفاہیم بھی شامل ہیں۔ مربی کی خدمت کی جاتی ہے۔ فارسی کی ایک دلچسپ کہاوت ہے "مربی بیا، مربّہ بخور"۔ " مربی صاحب آئیے، مربّہ کھائیے"۔
اب رہا یہ معاملہ کہ ہم نے اپنے ملک میں تربیتی مراکز، قائم کرنے کے بجائے جابجا ٹریننگ سینٹرز، کیوں کھول رکھے ہیں، تو صاحب کیا عرض کریں؟ کچھ لوگوں کو قرآنِ مجید نے بھی جانوروں سے زیادہ بھٹکا ہوا (اَضل) قرار دیا ہے، اُنھیں کے لیے کھولے گئے ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آنکھیں رکھتے ہیں، مگر دیکھتے نہیں ("جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا؟")، یہ لوگ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں، دل و دماغ رکھتے ہیں مگر سوچتے نہیں، عقل رکھتے ہیں مگر اس سے کام نہیں لیتے۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ آپ پاکستانیوں کے آگے جو کچھ کریں وہ برطانوی زبان میں کریں۔
برطانوی زبان کو پاکستانیوں کے سر پر سوار کرانے والے ہمیں تو نفسیاتی مریض محسوس ہوتے ہیں۔ اُردو بول رہے ہوں گے تو اُردو کے الفاظ چھوڑکر بیچ بیچ میں انگریزی الفاظ استعمال کررہے ہوں گے یا اُردو بولتے بولتے اچانک فقروں کے فقرے انگریزی میں بولنے لگیں گے۔ پاکستانی تقریب میں انگریزی تقریر کررہے ہوں گے۔ کوئی شخص خدانخواستہ کسی جسمانی مرض میں مبتلا ہو تو سب کو بتاتا پھرتا ہے کہ وہ بیمار ہے۔ مگر نفسیاتی مرض میں مبتلا شخص مان کر ہی نہیں دیتا کہ وہ نفسیاتی مریض ہے۔