Friday, 15 May 2026
  1. Home/
  2. Abu Nasr/
  3. Kya Atish e Namrood Mein Ishq Khud Kooda Tha?

Kya Atish e Namrood Mein Ishq Khud Kooda Tha?

ان کالموں میں عموماً غلطی ہائے مضامین، ہی کی درستی کی جاتی ہے، مگر کبھی کبھی غلطی ہائے مفاہیم، کی درستی کی فرمائش بھی آجاتی ہے۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ مفہوم کی غلط فہمی بھی مضمون کی نافہمی سے ہوتی ہے۔ چناں چہ لاہور سے جناب محمداعظم فرمائش کرتے ہیں: "بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق۔ ایک مذہبی اسکالر کی طرف سے اس شعر پر اعتراض آیا ہے، جس سے سماجی ذرائع ابلاغ میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہے۔ اگر ممکن ہو تو رہنمائی فرمائیں۔ معترض کا کہنا ہے کہ ابراہیمؑ خود تھوڑا ہی کودے تھے، اُنھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ لہٰذا یہ بات ہی غلط ہے جو علامہ اقبالؔ نے اس شعر میں باندھی ہے"۔

جن مذہبی اسکالر، صاحب نے اقبالؔ کے اس شعر پر اعتراض فرمایا ہے، اُن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اُن کو مذہبی دانشوری، جہیز میں ملی ہے۔ اُن کی شہرت بھی اپنی نہیں، اپنے سسر کی مرہونِ منت ہے۔ واللہ اعلم۔ سسر کا ذکر آگیا ہے تو بتاتے چلیں کہ سسر کو اُردو میں خُسر بھی کہا جاتا ہے اور خُسر عربی میں خسارے کو کہتے ہیں۔ اِنَّ الُاِنُسَانَ لَفِی خُسُرِ۔

خسارے کے بعد نفعے کی بات بھی کہتے چلیں۔ جس علم و فن سے آگہی نہ ہو، اُس پر کوئی حکم لگادینا قطعاً غیر علمی رویہ ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4774 میں سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ، کا ایک قول نقل ہوا ہے۔ یہ قول ہر اُس شخص کو ہر وقت پیشِ نظر رکھنا چاہیے، جسے عالم، ہونے یا عالم، بننے کا دعویٰ ہو۔ سیدنا ابن مسعودؓ کے اُس قول کا اُردو میں مفہوم یہ ہے کہ

"یہ کہنا بھی علم، ہی ہے کہ میں نہیں جانتا"۔

اقبالؔ کو جاننے اور اُن کے اشعار کو سمجھنے کے لیے شاعری کی مبادیات کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ اقبالؔ کی استعمال کردہ لفظیات کا جاننا بھی ضروری ہے۔ اقبال کے شارح کو معلوم ہونا چاہیے کہ چراغِ مصطفویﷺ، سے اقبالؔ کی کیا مراد ہے اور شرارِ بولہبی، وہ کسے کہتے ہیں۔

عشق، بھی اقبالؔ کے اکثر اشعار میں محض عشق نہیں ایمانِ کامل، کا استعارہ ہے اور مظاہرِ ایمان، کی علامت۔ ایمان، کے مقابلے میں عقل پرستی، کو اقبالؔ سختی سے رد کرتے ہیں۔ کالم میں زیادہ گنجائش نہیں، نمونے کے چند اشعار دیکھ لیجے کہ اقبالؔ عشق، کسے کہتے ہیں:

صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیﷺ، عقل تمام بولہب

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی
تو ہے زُنّاریِ بت خانۂ ایّام ابھی

تو اقبالؔ کی اصل منزل ایمان، ہے۔ فلسفی ہونے کے باوجود اقبالؔ ایمان پر عقل، کی بالادستی قبول نہیں کرتے:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے

عقل کی دوڑ تو بس حواسِ خمسہ، تک ہے۔ اس سے آگے کا اسے کچھ سُجھائی نہیں دیتا اور عقل اکثر اپنے اِس عجز کا اظہار کرتی رہتی ہے کہ یہ بات سمجھ میں آئی نہیں۔ عقلیت پسندی یا عقلیت پرستی کے گنبد میں قید رہنے والے ایمان، کے مظاہر کو حیرت اور اچنبھے سے دیکھتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ عقل تو اسے تسلیم نہیں کرتی۔ عقلاً یہ محال ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ارے بھائی! معجزہ، تو کہتے ہی اُس مظاہرے کو ہیں جوعقل پرستوں کی عقلِ عاجز کو مزید عاجز کرکے رکھ دیتا ہے۔ بقول مولانا ظفرؔ علی خان:

وہ جنس نہیں ایمان، جسے لے آئیں دُکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقِل کو، یہ قرآں کے سیپاروں میں

عقل کے عجز کا یہی مظاہرہ اقبالؔ کے مصرعے بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق، کی عقلی تعبیر، کرتے ہوئے بھی کیا گیا ہے۔ کتنا سطحی اوربچکانہ اعتراض ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ آتشِ نمرود میں خود کہاں کودے تھے، انھیں تو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ "ارے بھئی کیوں پھینکا گیا تھا؟" کسی کم عقل بچے سے بھی پوچھیے تو یہی جواب دے گا:

"کیوں کہ آپؑ نے مشرکین کے معبود پاش پاش کردیے تھے"۔

بتوں کو پاش پاش کردینے کا یہی عمل تو خطرات میں کودنے کے مترادف تھا۔ وہاں کوئی عقل پِیٹا، موجودہوتا تو ضرور عقل دیتا کہ "اے ابنِ آزر! بت پرست طاقتور ہیں، بااختیار ہیں، برسراقتدار ہیں، اُن سے اِس وقتپنگا، لینا خلافِ عقل ہوگا۔ تم اکیلے ہو، کہیں الگ، کسی گوشے میں بیٹھ کر اللہ اللہ، کرتے رہو۔ ریاست کی رِٹ، کو چیلنج نہ کرو۔ تم نبی ہو، سیاست کرنا تمھارا کام نہیں ہے"۔ وغیرہ

مگر اُس نوجوان نے جس کا نام ابراہیمؑ تھا اور جس نے ہر معبودِ باطل سے منہ موڑ کر صرف اللہ وحدہ، لاشریک کی طرف اپنے آپ کو یکسو کرلیا تھا، تن تنہا وقت کے نمرود سے بھی پنگا، لے لیا۔ جب بت شکنی کے جرم، میں آپؑ کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اُس نے پوچھا: "تُو ہمارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کیوں کرتا ہے اور مجھ کو رب ماننے سے کیوں انکار کرتا ہے؟"

تو سیدنا ابراہیمؑ نے فرمایا: "میں صرف ایک اللہ کو اپنا رب مانتا ہوں۔ کسی کو اُس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔ ساری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق و مالک وہی ہے۔ تیرا رب بھی وہی ہے"۔

نمرود نے کہا: اگر میرے علاوہ کوئی رب ہے تو اُس کی کوئی ایسی صفت بیان کرجو مجھ میں نہ ہو"۔

حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا: "میرا رب وہ ہے جو لوگوں کو زندگی بخشتا ہے اور وہی لوگوں کو موت دیتا ہے"۔

نمرود نے کہا: "یہ کام تو میں بھی کرتا ہوں۔ میں بھی لوگوں کو زندگی بخشتا ہوں اور لوگوں کو موت دیتا ہوں"۔

اب سیدنا ابراہیمؑ نے اُس عقل مند، کو زندگی اور موت کا فلسفہ سمجھانے میں وقت برباد کرنے کے بجائے فرمایا: "اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، (اگر تُو رب ہے تو) تُو اسے مغرب سے نکال کر دکھا دے"۔

یہ سنتے ہی وہ کافر بھونچکا رہ گیا، اُس کے ہوش اُڑ گئے، ہکا بکا اور لاجواب ہوگیا۔ تواس پنگے، کا کیا نتیجہ نکلنا تھا؟ کابینہ نے فیصلہ کیا: "اگر تم اپنے دیوتاؤں کی مدد کرنا چاہتے ہو توآگ کاایک الاؤ بھڑکاؤ اور اس کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو"۔

اس فیصلے پر بھی، عشقِ الٰہی کی مثال بن جانے والے خلیل اللہؑ نے عقل کے خلاف، ہی کام کیا۔ کوئی مصالحت کی نہ کسی مصلحت سے کام لیا، کوئی معافی نامہ لکھا نہ اُس نمرود سے جان کی امان چاہی، بلکہ اپنے ایمان پر ڈٹے رہے، آخر:

"بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق"

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais