Sunday, 29 March 2026
  1. Home/
  2. Abu Nasr/
  3. Maqtool Ghalib Ke Mazar Wali Gali

Maqtool Ghalib Ke Mazar Wali Gali

حافظ غلام سرور صاحب کراچی میں بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے پنجاب میں مقیم ایک سابق آئی جی پولیس کی خودنوشت کا مطالعہ کررہے تھے۔ پڑھتے پڑھتے یکایک چونک اُٹھے۔ ہوا یوں کہ سبک دوش آئی جی صاحب نے یکے بعد دیگرے کئی افراد کے قتل کا ذکر کرنے کے بعد لکھ دیا کہ "اتنے قتلوں کے بعد"، اب حافظ صاحب ڈر کے مارے ریٹائرڈ آئی جی صاحب سے تو کچھ پوچھتے نہیں، ہم سے پوچھتے ہیں:

"کیا قتل کی جمع قتلوں درست ہے؟ اگر نہیں، تو قتل کی جمع کیا ہوگی؟"

صاحب! ہم نے تو صرف قتلے، کی جمع قتلوں، سنا ہے۔ قتلہ، (یا قتلا) قاش، پھانک، پارچے اور کھانے کی کسی چیز کے تراشے ہوئے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ اس کی تصغیر یا تانیث کے طور پر قتلی، بھی استعمال ہوتی ہے۔ مثلاً آلو کا قتلہ، گوشت کے قتلے اور برفی کی قتلی۔ شب برأت کے حلوے بھی اکثر قتلوں، ہی کی صورت میں تیار کیے جاتے ہیں۔ تو جناب! ، "اتنے قتلوں کے بعد"، اب ہم مزید کون سا قتلہ آپ کی خدمت میں پیش کریں؟

رہا یہ سوال کہ قتل کی جمع کیا ہوگی؟ تو اِس کا جواب بہت آسان ہے کہ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم نے قتل کی جمع کبھی کسی سے سنی، نہ کہیں پڑھی۔ ہاں دوہرے قتل اور تہرے قتل کی خبریں ضرور پڑھا کرتے تھے۔ حربی اور غیر حربی کی تمیز کیے بغیر اگر کوئی سب کو قتل کرنا شروع کردے تو یہ قتلِ عام، کہلاتا ہے، جیسا کہ میرؔ کے زمانے میں فوجی ٹوپی اوڑھ کر گوروں نے عاشق و معشوق سب کو بلا امتیاز قتل کر ڈالا تھا:

کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتلِ عام کیا

اُنھیں گورے ٹوپی والوں کے ہاتھوں قتلِ عام تو آج بھی برپا ہے۔ مٹھی بھر یہود کی خاطر براعظم یورپ اور براعظم امریکا کی مسیحی عسکری طاقتیں مسلمانوں کے بھرے پُرے شہروں میں آباد بچوں اور بچیوں کا ہر روز قتلِ عام کررہی ہیں، بقول حکیم مومن خان مومنؔ:

کرتا ہے قتلِ عام وہ اغیار کے لیے
دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے

ہاں تو، کوشش ہو رہی تھی قتل کی جمع جاننے کی۔ اُردو اور عربی لغات چھان مارنے کے باوجود نہ جان پائے، تو ہم نے خود اجتہاد کرکے قتل کی جمع بنانے کی ایک حقیر سی کوشش کر ڈالی۔ قبر کی جمع قبور اور رسم کی جمع رسوم کے وزن پر قتل کی جمع قتول، تجویز کی۔ مگر معلوم ہوا کہ عربی میں قتول، اُس شخص کو کہتے ہیں جو بہت قتل کرتا ہو۔ بہت قتل کرنے والے کوتو قتّال، بھی کہا جاتا ہے اور بہت قتل کرنے والی کو قتّالہ۔ ہمارے ہاں قتّال کو تو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مگر قتّالہ کو محبوبہ بنا لیا جاتا ہے۔ اُس قتّالہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے مقتولین اپنے آپ کو تو اُس کا قتیل، قرار دیتے ہیں، مگرخود اُس کو خونیں قاتل قرار دینے کو تیار نہیں۔ ذوقؔ کو اسی بات پر تو اعتراض تھا:

ترے قتیل بتاتے نہیں تجھے قتّال
جب اُن سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں

قانون میں قتل کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قتلِ عَمَد یعنی ارادہ کرکے، جان بوجھ کر، دیدہ و دانستہ اور بغض و عداوت سے کسی کو مار ڈالنا۔ دوسرا قتلِ شبہۂ عمد یعنی دو افراد لڑ رہے ہوں اور ایک کے ہاتھوں دوسرا قتل ہوجائے توشبہہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس نے جان بوجھ کر مارا ہوگا۔ تیسرا قتلِ خطا یعنی ارادے کے بغیر، محض غلطی سے کوئی شخص مارا جائے، مثلاً پتھر پھینکا، کسی کو جا لگا اور وہ مرگیا، سڑک پر کوئی گاڑی کے نیچے آکر دم توڑ گیا، یا شکار کے لیے کسی جانور کو نشانہ بنایا مگر انسان اُس کی زد میں آگیا وغیرہ وغیرہ۔ چوتھا قتل دفاعی قتل، کہلاتا ہے۔ کوئی شخص کسی حملہ آور سے اپنی جان بچانے کی کوشش میں اُسے مار ڈالے تو ذاتی دفاع کے لیے کیا جانے والا یہ قتل اکثر قانونی نظاموں میں جائز سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی مسلح ڈاکو کسی کے گھر میں گھس کر اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی کوشش کرے تو اُس کو مار ڈالنا دفاعی قتل ہوگا اور قتلِ برحق ہوگا۔

قتل سے متعلق کئی محاورے اور تراکیب اُردو میں بھی رائج ہیں۔ بھلے زمانوں میں جب لڑائی فقط لڑنے والوں کے درمیان ہوتی تھی، دُوبدو اور دست بدست، تو اُس وقت کی خوں ریز جنگ کو قِتال، کہا جاتا تھا۔ اب تو دُور ہی سے قتلِ عام ہوجاتا ہے۔ قتل و خوں ریزی کے مقابلے کو مقاتلہ، بھی کہتے ہیں۔ جب یہ مقابلے ہوتے تھے تب میدانِ جنگ کو مقتل، کہا جاتا تھا۔ آج شہری آبادیوں کے گلی کوچے ہی نہیں گھر بھی مقتل بنے ہوئے ہیں۔ مقتل کے لیے قتل گاہ، کی ترکیب بھی رائج ہے۔ عدالت سے کسی کو قتل کرنے کے احکام جاری ہوجائیں تو آج کل اس دستاویز کو، Death Warrant کہنے کا رواج ہے، مگر اس کے لیے محبوب علی خان آصفؔ نے اپنے مشہور شعر میں قتل نامہ، جیسی بلیغ ترکیب استعمال کی ہے، یہ شعر فیضؔ صاحب نے بھی اپنی ایک غزل میں نقل کیا ہے، بلکہ پوری غزل ہی اس شعر کی تضمین ہے:

لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی

محضر اُس کاغذ کو کہتے ہیں جس پر عدالت کی مہر اور دستخط ہو۔ کوئی بھی دستخط شدہ دستاویز محضر کہی جا سکتی ہے۔ متعدد افراد کے دستخطوں سے پیش کی جانے والی درخواست بھی محضر ہوتی ہے۔ ویسے محضر، کے لفظی معنی ہیں حاضر ہونے کی جگہ۔ اسی وجہ سے تھانہ کچہری بھی محضر خانہ، تھا۔ خیر یہ باتیں تو محض محضر، کے ضمن میں بر سبیلِ تذکرہ آگئی ہیں۔ آج کا موضوع توقتل و قاتل و مقتول و قتیل ہی ہے۔

محبوب کے ہاتھوں قتل ہو جانا ہمارے شاعروں کا محبوب مشغلہ ہے۔ اِس قتل کے لیے بڑی تیاری کی جاتی ہے۔ غالبؔ کہتے ہیں:

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا؟

چچا کا کفن باندھنا تو خیر اپنے لواحقین و پسماندگان کو بازار کی بھاگ دوڑ سے بچانے کے لیے تھا، مگر تیغ باندھ کر کیوں گئے؟ شاید محبوب کو بھاگ دوڑ سے بچانے کے لیے کہ اب محبوب یہ عذر مقتول کو نہیں پیش کر سکتا تھا کہ میرے کنے تیغ تو ہئی نہیں، کا ہے سے قتل کروں؟

عام آدمی قتل ہوجائے تو دنیا کے تمام مشاغل اور ہر قسم کے جھنجھٹ سے آزاد ہوجاتا ہے۔ کچھ کرنے کے قابل رہتا ہے نہ کچھ کرپاتا ہے۔ مگر شاعر ایسی ڈھیٹ شے ہے کہ قتل ہوجانے کے بعد بھی شعر کہتا رہتا ہے، باز نہیں آتا۔ میر تقی میرؔ مقتول ہوئے تو محبوب سے دست بستہ درخواست کی کہ اب وہ غصہ تھوک کر اُن کی لاش اُٹھوانے میں ورثا کی مدد کرے:

قتل کیے پر غصہ کیا ہے؟ لاش مری اُٹھوانے دو
جان سے ہم بھی جاتے رہے ہیں تم بھی آؤ، جانے دو

چچا غالبؔ مابعدِ قتل اپنے محبوب کی پشیمانی پر ہائے مارتے ہوئے پائے گئے:

کی مرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ
ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

یہی نہیں، پریشان و پشیمان محبوب کو مقتول نے اپنی تدفین کے ضمن میں بھی ایک مخلصانہ مشورے سے نواز ڈالا۔ اُسے مشورہ دیا کہ

اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتل
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے؟

غالباًشاعریہ نہیں چاہتاتھا کہ کوچۂ محبوب کو "مقتول غالبؔ کے مزار والی گلی" کہا جائے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais