تاندلیاں والا ضلع فیصل آباد سے شبیر علوی صاحب لکھتے ہیں: "آپ نے لکھا ہے نمک سے نمکین، رنگ سے رنگین اور سنگ سے سنگین بنا ہے۔ جتنا ہم جانتے ہیں سنگ پتھر اور ساتھ، کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جب کہ سنگین، کے معنی کچھ مختلف بنتے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔ ہم اپنے علم میں اضافے کے لیے جاننا چاہتے ہیں"۔
ساتھ، رفاقت یا صحبت، کے معنوں میں سنگ، کا لفظ ہمارے ہاں ہندی زبان سے آیا ہے۔ فی الوقت اس سے بحث نہیں۔ ہندی کے سنگ سے سنگی تو بنتا ہے، سنگین نہیں بنتا۔ ہاں سنگی کبھی کبھی خود سنگین ہو جاتا ہے۔ سوجنابِ مقصودؔ جعفری نے اپنے ایک سنگی سے یوں کہا:
مجھ کو تو ہر اِک دوست دغا دے کے گیا ہے
تم دوست اگر ہو تو دغا کیوں نہیں دیتے؟
پچھلے کالم میں قاعدہ بیان کیا گیا تھا کہ فارسی زبان میں ی ن، (ین) لگا کر اسم سے صفت بنا لی جاتی ہے۔ تو ظاہر ہے کہ سنگین والا سنگ فارسی کا ہے، جس کے معنی پتھر، یا حجر، کے ہیں۔ مگر سنگین کے صرف وہی مطالب نہیں، جن کی سنگینی سے آپ پریشان ہوگئے ہیں۔
سنگ، اسم ہے۔ اِس اسم سے جو صفت بنائی گئی ہے، وہ صفت ہے سنگین۔ سنگین کا مطلب ہے پتھر کا بنا ہوا، یا پتھریلا۔ جیسے سنگین مجسمہ، سنگین دیوار، سنگین عمارت اور سنگین فرش۔ لیکن جب ہم اسم سے صفت بناتے ہیں تو اس صفت کو اُس کے حقیقی یالفظی معنوں کے علاوہ کچھ مجازی معنوں میں بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ یعنی اس لفظ کے کچھ صفاتی معانی اس سے اُدھار یا مستعار لے لیتے ہیں۔ اس عمل کو استعارہ، کہا جاتا ہے۔ چناں چہ سنگین، کا لفظ بھی اپنے حقیقی معنوں کے علاوہ بہت سے مجازی معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔ ان بہت سے استعاراتی معنوں میں بھاری، وزنی، گراں، بوجھل، سخت، مضبوط، ٹھوس، اُستوار، مستحکم، دیرپا، شدیداور خطرناک وغیرہ شامل ہیں۔ شاید خطرناکی ہی کی وجہ سے برچھی یا نیزے کو بھی سنگین، کا نام دیا گیا ہے۔
اِن مجازی معنوں ہی کی وجہ سے بہت بھاری قصور کو سنگین جرم، کہا جاتا ہے، سخت سزا کو سنگین سزا، کہتے ہیں اور کسی معاملے کی سختی، گرانی یاشدت کو اُس معاملے کی سنگینی، قرار دیا جاتا ہے۔
سنگ، خود بھی اپنے حقیقی معنوں کے علاوہ مجازی یا استعاراتی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کی پیش گوئی تھی کہ
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
یہاں سنگ زنی، سے مراد یہ نہیں ہے کہ اہلِ وطن نے شاعر کو پتھر مار مار کے لہولہان اور حلیے سے بے حلیہ کر دیا تھا۔ شاعر کی مراد طنز و تعریض، طعنے تشنوں اور ایذا رسانی سے ہے۔ بے رحم شخص کو سنگ دل، کہا جاتا ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کا دل پتھر کی طرح سخت ہے۔
کسی لفظ کے وضعی معنوں (یعنی حقیقی معنوں سے اخذ کر دہ صفاتی یا استعاراتی معنوں) کا استعمال ہماری روز مرہ زندگی میں عام ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آہن، لوہے کو کہا جاتا ہے۔ لوہا سخت اور بے لچک ہوتا ہے۔ لوہے کی اس صفت کو، دیکھیے کہ ہم مجازی معنوں میں کس کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ وہ شخص جو سخت سے سخت حالات کاانتہائی سختی سے مقابلہ کرتا ہے، مصائب و مشکلات پیش آنے کے باوجود کسی قسم کی لچک نہیں دکھاتا اور فولادی عزم و ارادہ رکھتا ہے، اُسے ہم "مردِ آہن" کہہ دیتے ہیں۔ حالاں کہ وہ بھی گوشت پوست ہی کا بنا ہوا انسان ہوتا ہے، لوہے کا نہیں۔ اسی طرح اگر یہ جتانا مقصود ہو کہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے بہت سختی سے پیش آیا جائے گا، اُنھیں سخت سزا دی جائے گی اورسزا دینے میں کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی، تو اس مقصد سے سرکار کی طرف سے دعویٰ کر دیا جاتا ہے کہ
"مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا"۔
یہ الگ بات کہ آہنی ہاتھوں سے تو کیا؟ جرائم سے نمٹنے والے اپنے گوشت پوست کے ہاتھوں سے بھی نہیں نمٹتے۔ بلکہ مجرموں سے تو اکثر کاغذی ہاتھوں، سے نمٹ لیا جاتا ہے۔ خیراب کاغذی نوٹوں کا استعمال بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ لین دین سب آن لائن، ہونے لگا ہے۔ چناں چہ سرکار کو اب دعویٰ یوں کرنا چاہیے کہ
"مجرموں سے غیر مرئی ہاتھوں سے نمٹ لیا جائے گا"۔
دعوے اور بھی بہت سے ہیں، جن میں استعاراتی زبان استعمال ہوتی ہے۔ یعنی الفاظ کو ان کے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال کیا جاتاہے۔ مثلاً ایک لفظ ہے "شیر"۔ جتنا ہم جانتے ہیں یہ لفظ چار ٹانگوں اور ایک دُم والے ایسے خونخوار جنگلی جانور یاخطرناک درندے کے لیے بولاجاتا ہے جس کے دھاڑنے ہی کی آواز سے ڈر لگتا ہے۔ جنگل کے جانور ہی نہیں کڑیل سے کڑیل انسان بھی اُس کی دھاڑ سن کر دوڑ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری دنیائے سیاست میں اس قسم کے نعرے لگائے جاتے ہیں کہ
"فلاں ساڈا شیر اے"۔
تو اس نعرے سے یہ مراد نہیں لی جاتی کہ فلاں صاحب کی چار ٹانگیں ہیں، ایک دُم ہے، خونخوار ہیں، درندے ہیں اور غریب انسانوں کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں۔ بلکہ مراد یہ لی جاتی ہے کہ فلاں لیڈر بہت بہادر ہے۔ وہ کسی سے نہیں ڈرتا اور سب اُس سے ڈرتے ہیں۔ ہاں اگر ایسے شیر کو کوئی "بَھؤُ" کرکے ڈرا دے تووہ سیدھا لندن بھاگتا ہے۔ جب کہ شیخ ابراہیم ذوقؔ اِس سیدھے پن کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں:
پھرتا ہے سیلِ حوادث سے کہیں مَردوں کا منہ
شیر سیدھا تیرتا ہے وقتِ رفتن آب میں
"آب آب ہونا" بھی استعاراتی محاورہ ہے۔ اسے اُردو میں "پانی پانی ہوجانا" بھی کہا جاتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص کہے کہ
"میں تو یہ منظر دیکھ کر پانی پانی ہوگیا"
تو حقیقی معنی نہیں لیے جاتے۔ یہ نہ سمجھ لیجے گا کہ منظرِ مذکور دیکھ لینے کے بعد شخصِ مذکور کو بالٹی میں بھر کر لانا پڑا ہوگا۔ بلکہ اس سے مراد شرمندہ ہونا یا خفیف ہوجانا لیا جاتا ہے۔ آدمی واقعی شرمندہ ہو تو پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہو جاتے ہیں۔
پسینہ صرف شرمندگی یا حبس والی گرمی بھگتنے ہی سے نہیں آتا۔ انسان سخت محنت کرتا ہے تب بھی پسینہ بہ نکلتا ہے۔ خون کے متعلق بھی سب جانتے ہیں کہ یہ سُرخ رنگ کا ایک مائع ہوتا ہے جو رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے۔ مگر جب کوئی مزدور صبح سے شام تک محنت کرنے کے بعد حاصل ہونے والی اُجرت سے اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول بھروانے جاتا ہے تو اُس سے پٹرول کی قیمت کے علاوہ لیوی اور ٹیکس، کے نام پر جبری بھتہ بھی لے لیا جاتا ہے۔ ایسے موقعے پر کہا جاتا ہے کہ "اس غریب کے خون پسینے کی کمائی سے عیاشیوں کے لیے لیاگیا قرضہ ادا کیا جا رہا ہے۔ تب ہی تو لیوی، ختم ہو رہی ہے نہ عیاشیاں"۔
تو یہاں خون پسینے کی کمائی سے مراد سخت محنت کی کمائی ہے۔ کیوں کہ انسان جب سخت محنت کرتا ہے تو رگوں میں خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے اور پسینہ بہنے لگتا ہے۔
اسی طرح مٹی، پتھر، اینٹ اور گارے سے بنائیگئی اوٹ، آڑ یا پردے کو دیوار، کہا جاتا ہے۔ مگر جب یہ کہا جائے کہ
"موصوف سود کے خاتمے کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہوگئے"
تو اس سے مراد موصوف کا انسان کی جون سے یکایک مٹی، پتھر، اینٹ اور گارے سے بنی ہوئی دیوار میں بدل جانا نہیں لیا جاتا۔ سمجھ لیا جاتا ہے کہ موصوف اس راہ میں رکاوٹ بن کر عدالتِ عظمیٰ میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
خواب انسان نیند کی حالت میں دیکھتا ہے۔ مگر جب کوئی شخص اپنی خلوتوں میں یہ کہے کہ "ٹرمپ کو نوبل انعام دلوانا میرا خواب تھا"۔
تو اس کا مطلب یہ نہیں لیا جائے گا کہ اُنھوں نے نیند کی حالت میں کوئی سہانا یا خوشامدانہ خواب دیکھا ہے۔ ایسے فقروں سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ یہ میری تمنا تھی، خواہش تھی، آرزو تھی اور، اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
اے صاحبو! آج کا یہ کالم محض کالم نہیں ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کے الفاظ میں:
"جو بھی کچھ ہے، محبت کا پھیلاؤ ہے۔
پیار کا گھاؤ ہے۔
تیرے میرے ابد کا کنارہ ہے یہ۔
استعارہ ہے یہ!"