سوشل میڈیا پر بعض لوگ جو آج کل مختلف وجوہات کی بنیاد پر افغان طالبان حکومت کے حامی یا سہولت کار بنے ہوئے ہیں، ایک بات بڑے جوش وخروش سے دہراتے ہیں کہ افغان طالبان نے پاکستان میں سویلین کو نشانہ نہیں بنایا جبکہ پاکستان کے حملوں میں افغان سویلینز نشانہ بن رہے ہیں۔
یہ بات عملی طور پر تو غلط ہے ہی، حقائق اس کی تردید کرتے ہیں، مگر نظریاتی طور پر بھی یہ کیسے ممکن ہے؟ افغان طالبان پر سب سے بڑا الزام ہی یہ ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو سپورٹ اور فنانس کر رہے ہیں۔ یہ صرف پاکستان نہیں کہہ رہا۔ یہی شکوہ افغانستان کے کم وبیش تمام ہمسایوں کو ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹیں اس کی تائید کرتی ہیں۔ دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والے سویلینز کے سب سے بڑے دشمن ہی ہوتے ہیں۔ درحقیقت افغان طالبان حکومت اور ان کے ذمہ داران نے ایک نہایت نامناسب اور غلط طرزعمل اختیار کر رکھا ہے، وہ ہے سفید جھوٹ بول دینا۔ پاکستانی حملوں کے حوالے سے ان کے بیشتر دعوے جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔ اکثر فیک اور اے آئی جنریٹیڈ ویڈیوز جاری کر دی جاتی ہیں۔ حالانکہ آج کل بچے بھی اے آئی کی بنی ویڈیوز کی شناخت کر لیتے ہیں۔
امیر خان متقی ان کے وزیرخارجہ ہیں، معتدل اور میچور آدمی سمجھے جاتیہیں۔ حال مگر ان کا یہ ہے کہ چینی وزیرخارجہ سے فون پر بات ہوئی۔ اس بات چیت پر مبنی بیان افغان حکومت نے جاری کیا، اس میں لکھا تھا، "چینی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کی سول آبادی کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے"۔ لوگ حیران ہوئے کیونکہ یہ ایک بہت اہم اور سنگین بات تھی۔ چینی وزیرخارجہ اس طرح کا پاکستان مخالف بیان کیسے دے سکتا تھا، وہ بھی جب حقیقت اس کے برعکس ہو۔
وہی ہوا کہ فوری طور پر چینی سفارت خانے کو اپنی طرف سے بیان جاری کرنا پڑا جس میں یہ جملے تھے ہی نہیں۔ یعنی ایک طرح سے چینیوں نے صاف کہہ دیا کہ افغان ترجمان نے جھوٹ بولا ہے، دروغ گوئی کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسی ہی گھٹیا حرکت تب کی گئی تھی جب کابل میں امیر خان متقی اور چینی وزیرخارجہ کا اجلاس ہوا۔ تب بھی چینی جاری کردہ بیان پر ناخوش ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دو ہی چیزیں ایکسپورٹ ہو رہی ہیں، خود کش بمبار یا اب خود کش ڈرون۔ یہ دونوں پاکستانی عوام اور پاکستان کو نشانہ بنانے کے لئے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے میں مسلسل ایسے ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ تیراہ کی وادی میں ایک گھر پر ڈرون حملہ ہوا۔ دھماکہ ہوا، دھواں اٹھا اور جب گرد بیٹھی تو ایک ہی خاندان کے تین افراد اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ چند زخمی ہسپتال پہنچا دیے گئے۔ یہ اس نئی دہشت گردی کی علامت ہے جو آہستہ آہستہ سرحدی علاقوں میں سر اٹھا رہی ہییعنی ڈرون دہشت گردی۔ دنیا بھر میں ڈرون زیادہ تر ریاستوں کے ہتھیار رہے ہیں۔ ہمارے خطے میں ایک نئی اور خطرناک تبدیلی یہ ہے کہ اب دہشت گرد گروہ بھی اس ٹیکنالوجی تک پہنچ رہے ہیں اور افغان طالبان جیسی حکومتیں انہیں سپورٹ کر رہی ہیں۔
افغان طالبان اب مارٹر گولوں سے بھی اسی دہشت گردی کا کام لے رہے ہیں۔ دو دن قبل باجوڑ کے علاقہ سالارزئی میں افغان طالبان کی جانب سے پھینکے گئے مارٹر گولے سے ایک ہی گھر کے چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ تیراہ کا واقعہ اور اب باجوڑ میں مارٹر حملہ اسی بدلتی ہوئی جنگ کی ایک جھلک ہے۔ ایک چھوٹا سا ڈرون، ایک مارٹر شیل اور چند لمحوں میں ایک گھر اجڑ گیا۔
گزشتہ دو برسوں میں اس کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آ چکے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ مختلف حملوں اور گرفتار دہشت گردوں کی تفتیش سے بارہا یہ اشارے ملتے رہے ہیں کہ سرحد کے اُس پار موجود ٹھکانے اور نیٹ ورک پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے حالیہ دنوں میں افغانستان کے اندر موجود بعض دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی فضائی کارروائیاں کیں۔
ان کارروائیوں کا مقصد افغانستان یا اس کے عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ ہدف صرف وہ انفراسٹرکچر تھا جہاں سے پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں معتبر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے سے واضح طور پر گریز کیا گیا۔ لیکن اس کے بعد جو ردعمل سامنے آیا وہ خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
افغان طالبان نے اپنی غلطیوں کو سدھارنے اور ٹی ٹی پی کی حمایت سے دستبردار ہونے کے بجائے الٹا ڈھٹائی اور جارحیت کو شعار بنایا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اندر بعض شہری علاقوں کی طرف دیسی ساختہ ڈرون بھیجے گئے۔ ان ڈرونز کی تکنیکی صلاحیت محدود تھی، اس لیے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں ہوا۔ مگر اس عمل نے ایک تشویشناک ذہنیت کی نشاندہی ضرور کی۔ مسئلے کی جڑ کو ختم کرنے کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کرنا شاید کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔
سرحدی علاقوں کے لوگوں کی زندگی ویسے ہی آسان نہیں۔ غربت، پسماندگی اور دہائیوں کی جنگ نے اس خطے کو پہلے ہی تھکا دیا ہے۔ ایسے میں جب مارٹر گولے گھروں پر گرنے لگیں یا ڈرون شہری آبادی کے اوپر منڈلانے لگیں تو یہ بڑی زیادتی ہوگی۔
اس صورت حال کا ایک اور پہلو بھی ہے جو کم دکھائی دیتا ہے مگر کم اہم نہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کے ساتھ ساتھ ایک اطلاعاتی جنگ بھی چلتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف کہانیاں گردش کرنے لگتی ہیں۔ کہیں ریاستی اداروں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کہیں سازشی نظریات پھیلائے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے، عوام میں کنفیوڑن پیدا کرنا اور اعتماد کو کمزور کرنا۔ دہشت گردی صرف بندوق یا بارود سے نہیں لڑی جاتی۔ بیانیے اور اطلاعات کی جنگ بھی اس کا حصہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے۔
بات سادہ ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، دہشت گردوں کی سپورٹ ختم کر دیں۔ پورا مسئلہ اور بحران یکایک ختم ہوجائے گا۔ ایسا مگر ہو نہیں رہا۔ افغان طالبان ایک بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف ایک بہت خطرناک پراکسی وار کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان میں آگ بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں، بارود پر تیل چھڑک رہے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ایسی آگ خود انہیں جھلسا کر رکھ دے گی۔ کاش افغان طالبان میں سے کچھ لوگ اپنی قیادت کو اس غلط ٹریک پر جانے سے روک سکیں۔ کاش۔