Thursday, 10 September 2026
  1. Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Baldiyati Nizam Subon Ka Mutbadil Nahi

Baldiyati Nizam Subon Ka Mutbadil Nahi

نئے صوبے بنانے کی بحثیں چل رہی ہیں، یہ اچھی بات ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے نیشنل ڈیبیٹ چلنی چاہیے۔ بس اس میں فکری مغالطے نہ پیدا کئے جائیں۔ جیسے یہ کہنا درست نہیں کہ نئے یونٹ بنانا ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ نہیں بلکہ اس سے ملک مضبوط ہوگا۔

اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام لایا جائے، وہ نئے صوبوں کا متبادل ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ یہ دونوں بالکل الگ باتیں ہیں۔ ہمار یہاں جیسے ہی ٹاک شوز میں جیسے ہی یہ تذکرہ ہو، فوراً لسانی تقسیم، علاقائی تعصب اور وفاق کے کمزور ہونے کے خطرے گنوائے جانے لگتے ہیں۔ اس کے بعد ایک بظاہر نہایت معقول مشورہ سامنے آتا ہے کہ بھائی نئے صوبے بنانے کی کیا ضرورت ہے، بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا دیجیے، سارے مسئلے خود ہی حل ہوجائیں گے۔

یہ مشورہ سننے میں بھلا لگتا ہے، مگر یہ ادھورا، نامکمل اور تشنہ حل ہے۔ مسئلہ کا یہ پورا تو درکنا آدھا علاج بھی نہیں۔ بااختیار بلدیاتی نظام بلاشبہ پاکستان کی اشد ضرورت ہے، لیکن وہ نئے صوبوں کا متبادل نہیں۔ یہ حکمرانی کی دو الگ سطحیں ہیں، دونوں کے کام مختلف ہیں۔ ہمیں دونوں چاہییں، ایک کو دوسرے پر قربان کرنے سے بات نہیں بنے گی۔

یہ درست ہے کہ بلدیاتی حکومت عام آدمی کے سب سے قریب ہوتی ہے۔ صفائی، پانی، گلیاں، نالیاں، محلے کی سڑک، مقامی ٹرانسپورٹ، پارک، بنیادی صحت کے مراکز، یہ سب اسی کے ذمے ہونے چاہییں۔ ایک منتخب میئر یا ضلع ناظم یہ کام کسی صوبائی سیکرٹری سے کہیں بہتر کر سکتا ہے، کیونکہ اسے اگلے الیکشن میں انہی گلیوں میں ووٹ مانگنے جانا ہے۔

سوال مگر یہ ہے کہ کیا کوئی ضلع اپنی تعلیمی پالیسی بنا سکتا ہے؟ کیا وہ یونیورسٹیوں، بڑے ہسپتالوں، صنعتی زونز، بین الاضلاعی شاہراہوں، آب پاشی کے نظام، پولیس اور پورے خطے کے ترقیاتی بجٹ کا فیصلہ کر سکتا ہے؟ حتیٰ کہ لاہور جیسا بڑا شہر کیا ایسی پالیسیاں بنا سکتا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔

بلدیاتی ادارہ خدمت فراہم کرتا ہے، صوبہ پالیسی بناتا اور وسائل بانٹتا ہے۔ ضلعی حکومت کسی منصوبے پر عمل درآمد کر سکتی ہے، پورے خطے کی ترقیاتی سمت متعین نہیں کر سکتی۔ ایک مضبوط ضلع بھی صوبائی اسمبلی، کابینہ، سیکرٹریٹ اور اپنے بجٹ کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل کہنا حکمرانی کی دو مختلف منزلوں کو گڈ مڈ کرنا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق کے بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے۔ اصولی طور پر یہ درست اور تاریخی قدم تھا۔ عملاً مگر ہوا یہ کہ وفاقی مرکزیت کی جگہ صوبائی مرکزیت نے لے لی۔ اسلام آباد سے نکلے ہوئے اختیارات لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ پہنچ کر وہیں ٹک گئے۔ صوبائی حکومتوں نے اپنے اضلاع کے ساتھ وہ فیاضی کبھی نہیں دکھائی جس کا مطالبہ وہ ہر روز وفاق سے کرتی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے کسی دور افتادہ ضلع جیسے بہاولپور یا اس کی تحصیل احمد پورشرقیہ کے کسی مکین سے پوچھئیے کہ وہ بتائیے کہ اس کی قسمت کا فیصلہ اب اسلام آباد کے بجائے لاہور میں ہوتا ہے تو اسے کیا فرق پڑا؟ وہ جو جواب دے گا، اسے آپ نہ ٹی وی پر نشر کر پائیں گے نہ اخبار میں چھپ سکتا ہے۔

نئے صوبوں کی بحث میں ایک بات ہم بھلا دیتے ہیں کہ صوبائی سرحدیں مقدس لکیریں نہیں۔ انہیں ہم خود بدلتے آئے ہیں۔ بہاولپور ایک الگ ریاست تھی، پھر انیس سو چون، پچپن میں ون یونٹ کے تحت سب کچھ سمیٹ کر مغربی پاکستان کے ایک صوبے میں ڈال دیا گیا۔ انیس سو ستر میں ون یونٹ ٹوٹا تو نقشہ ایک بار پھر بدلا۔ گویا جن لکیروں کو آج مقدس کہہ کر ہر بحث بند کر دی جاتی ہے، وہ خود کئی بار بن اور بگڑ چکی ہیں۔

سندھ میں نئے یونٹ بنانے کی مخالفت زیادہ ہو رہی ہے، دراصل وہاں اس حوالے سے حساسیت خاصی بڑھ چکی ہے، سلیقے سے وہاں بات سمجھانے کی ضرورت ہے۔ تاہم باقی پاکستان اور خاص کر پنجاب میں نئے یونٹ بنانے کی مخالفت کی کوئی تک یا وجہ موجود نہیں۔ اس لئے کہ پنجاب کے اگر دو تین یونٹ بن جائیں تو سب کو فائدہ ہے۔ نئے یونٹ بنانے سے گورننس بھی بہتر اور فنڈز لاہور سے دور واقع اضلاع پر بھی خرچ ہو پائیں گے۔

پنجاب میں سندھ کی طرح کوئی اربن، رورل کوٹہ ہے اور نہ ہی یہاں پر سن آف سوائل یا مہاجر کا ایشو ہے۔ یہاں پرجو ہجرت کرکے آئے، وہ سب پنجابی ہی تھے، وہی جٹ، راجپوت، گجر، ارائیں وغیرہ۔ اس لئے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ مثال کیطور پر اگر فیصل آباد اورسرگودھا ڈویژن پر مشتمل نیا صوبہ بن جائے تو لاہور والوں کو کیا نقصان ہوگا؟ کچھ بھی نہیں۔ اسی طرح اگر پنڈی ڈویژن الگ صوبہ بن جائے تب بھی لاہور یا سنٹرل پنجاب کو کئی مسئلہ نہیں۔ یہی جنوبی پنجاب کا معاملہ ہے۔

کے پی میں ہزارہ صوبہ بنانے کے حوالے سے تو خود صوبائی اسمبلی میں قرارداد منظور ہوچکی ہے جبکہ جنوبی اضلاع ڈی آئی خان، ٹانک، وزیرستان، بنوں، لکی مروت، کرک وغیرہ کیساتھ مزید اضلاع شامل کرکے نیا صوبہ بن جائے تو مقامی سطح پر بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔

اسی وجہ سے میری تجویز تو یہ ہے کہ یہ کام شروع تو کر دیا جائے، پنجاب اور کے پی کے پہلے نئے یونٹ بنا لیں، بلوچستان میں بھی ایسا ہوسکتا ہے، اگلے مرحلے پر پھر سندھ میں بھی نئے یونٹ بن جائیں گے، یہ عمل ایک بار شروع ہوجائے تو پھر رک نہیں سکتا۔

دنیا میں انتظامی اکائیوں کو غیر متبدل شے نہیں سمجھا جاتا۔ بھارت نے دو ہزار میں اتراکھنڈ، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ بنائے، دو ہزار چودہ میں تلنگانہ الگ ریاست بنی۔ نائجیریا نے اپنی اکائیاں تین سے بڑھا کر چھتیس کر دیں۔ ان ملکوں نے نقشے کی تبدیلی کو جذباتی معاملہ نہیں سمجھا، گورننس بہتر بنانے کا ذریعہ جانا۔ ہمارے ہاں مگر بہت وقت ضائع کر دیا گیا۔

اعداد پر ذرا غور کیجیے۔ انیس سو سینتالیس میں موجودہ پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ تیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ آج اکیلے پنجاب کی آبادی بارہ کروڑ سے اوپر ہے، یعنی دنیا کے بیشتر ممالک سے بڑا انسانی مجموعہ۔ ایک وزیراعلیٰ، ایک کابینہ اور ایک سیکرٹریٹ اتنی بڑی آبادی سے انصاف کیسے کرے گا؟ وزیراعلیٰ صاحب اگر اپنے آخری ضلع تک پہنچنے کا پروگرام بنا لیں تو انتخابی مدت کا بڑا حصہ راستے ہی میں گزر جائے۔

نئے یونٹ بنائے جائیں اور پھر وہاں پر مضبوط بلدیاتی نظام بھی دیا جائے۔ اگر لاہور کی مرکزیت ملتان منتقل ہو جائے اور ملتان اپنے اضلاع کے ساتھ وہی سلوک کرے جو لاہور کرتا رہا، تو عام آدمی کو فائدہ نہیں ملے گا۔ بلدیاتی حکومت اختیار شہری کی گلی تک لے جاتی ہے، نیا صوبہ اس کے پورے خطے تک۔

امید رکھنی چاہیے کہ اس اہم ایشو پر سیاست نہیں کی جائے گی اور عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نئے یونٹ بنیں گے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui