Friday, 04 September 2026
  1. Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Faryal Gohar Bamuqabla Jamal Shah: Kon Sacha, Kon Jhoota?

Faryal Gohar Bamuqabla Jamal Shah: Kon Sacha, Kon Jhoota?

فریال گوہر ہماری معروف اداکارہ ہیں۔ بڑی حسین و جمیل خاتون ہیں۔ پرجمال، پروقار شخصیت کی حامل۔ میری جنریشن میں نجانے وہ کتنوں کا کرش رہی ہوں گی۔ تاہم حسین فنکاروں کی شائد یہ کمزوری یا مجبوری ہوتی ہے کہ وہ گزرتے وقت کو پہچان نہیں پاتے اور چاہتے ہیں کہ ہمیشہ انہی کے گرد دنیا گھومتی رہے۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہو پاتا۔ ایسے میں پھر پبلسٹی لینے، توجہ حاصل کرنے کی عجب کوششیں ہوتی ہیں اور گاہے یہ مریضانہ حد تک جا پہنچتی ہیں۔

چند دن قبل فریال گوہر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں فرمایا کہ مجھ پر شادی کے بعد بے پناہ تشدد ہوتا رہا۔ خاوند لیدر بیلٹوں سے مارتا تھا، اسی مار کی وجہ سے میرا حمل بھی ضائع ہوگیا۔ مجھ پر بہت سختی تھی، گھر کے دروازے کے سامنے پردہ لگا رہتا، ساس کا شٹل کاک برقعہ پہن کر باہر جا پاتی وغیرہ وغیرہ۔

یاد رہے کہ فریال گوہر کے خاوند معروف اداکار، فنکار جمال شاہ تھے۔ اب جس کسی نے کبھی فریال گوہر سے ملاقات کی یا بطور صحافی انہیں کور کیا، انٹرویو کیا، ان کی گفتگو سنی، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ فریال کیسی طنطنے والی اور ٹھسے والی خاتون تھیں، بڑے رعب داب اور جلال کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گزاری، کسی صحافی میں بھی اتنی جرات نہیں ہوتی تھی کہ کوئی الٹا سیدھا سوال کر سکے۔ جمال شاہ ایک بڑے فنکار ہونے کے ساتھ دھیمے لہجے میں بات کرنے والی شخصیت ہیں۔ کوئی بھی آدمی یہ نہیں مان سکتا کہ فریال گوہر کی لیدر بیلٹؤں سے پٹائی ہوئی ہو اور وہ پھر بھی کئی سال تک جمال شاہ کے ساتھ رہی ہوں۔ ناممکن۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر خدانخواستہ جمال شاہ ایسا کرتا تو فریال جیسی خاتون نے رات کو اس کا نرخرہ ہی کاٹ ڈالنا تھا۔

فریال کسی چھوٹی فیملی سے تعلق نہیں رکھتی تھیں، ان کی بہن مریحہ گوہر اجوکا تھیٹر کی بانی تھیں اور بہت ایکٹؤ فیمنسٹ۔ ان کی والدہ خدیجہ گوہر پچاس ساٹھ ساٹھ سال قبل ہی فیمنسٹ اور بہت ایکٹؤ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ تھیں۔ یعنی انہیں بھرپور قسم کی فیملی سپورٹ میسر تھی۔ بالفرض وہ ڈؤمیسٹک وائلنس کا شکار ہوجاتیں تو ان کی فیملی ان کے ساتھ کھڑی ہوتی اور جمال شاہ کا جینا حرام ہوجاتا۔

واضح طور پر فریال گوہر نے دروغ گوئی کا مظاہرہ کیا۔ واقعاتی شواہد اور منطقی اعتبار سے ان کا دعویٰ تسلیم ہونے والا نہیں۔ پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی چند ہفتے قبل ہی یہ دونوں ندا یاسر کے شو میں اکھٹے ہوئے، جس میں فریال گوہر نے ہنس ہنس کر اپنی پرانی یادیں تازہ کیں، رومانی یادیں بھی خوش ہو کر سنائیں۔ الٹا جمال شاہ بے چارہ محجوب سا، شرمندہ شرمندہ بیٹھا تھا، یہ سوچ رہا ہوگا کہ پروگرام میری بیوی بھی دیکھے گی تو یہ باتیں نہ ہی ہوتیں تو اچھا تھا۔

سوال یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے چمڑے کی بیلٹؤں سے اپنی بیوی کو اتنا مارا ہو کہ اس کا حمل ضائع ہوجائے، وہ عورت ایسے درندے کو کیسے بھول سکتی ہے؟ اس کے ساتھ چلو مزید کئی سال بھی شادی میں گزار دئیے مگر اب اتنے برسوں بعد ٹی وی شو میں کیوں اسے پرانی محبتیں یاد آگئیں اور وہ سب کچھ بھلا کر رومانٹک باتیں کرتی رہی اور پھر چند دنوں بعد ہی وہ دھماکہ کر دیا، جمال شاہ کے لئے شدید ایمبریسمنٹ والا۔

جمال شاہ کا ردعمل البتہ نہایت باوقار اور بہت خوبصورت رہا۔ اس نے فریال کے الزامات کی تو تردید کی، بتایا کہ فریال کا حمل برطانیہ میں ایک کتے کے کاٹنے کی وجہ سے ضائع ہوا، جس کے ظاہر ہے ثبوت بھی موجود ہیں۔ جمال شاہ نے فریال کے بیان کے باوجود ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ ایک تنقیدی جملہ بھی نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ ہم نے پانچ سال شادی میں گزارے، نہیں بن سکی تو اچھے طریقے سے الگ ہوگئے۔ میں نے کبھی ایک جملہ بھی فریال گوہر کے خلاف نہیں کہا اور نہ اب کہوں گا۔ ان سوشل میڈیا خبروں پر آپ جو مرضی رائے بنا لیں، میں فریال گوہر پر جوابی حملہ نہیں کروں گا۔

ٹوئٹر پر بعض لوگوں نے جمال شاہ پر تنقید کی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ میری دوسری شادی کو بیس سال ہوگئے ہیں، میری دو بیٹیاں، ایک بیٹا ہے۔ آپ میں سے جو بھی چاہے میری گھر آ کر فیملی سے ملے، پتہ چل جائے گا کہ یہ کبھی ڈؤمیسٹک وائلنس کا شکار نہیں ہوئے۔

مجھے فریال گوہر کے بیان ہی سے اس کے جھوٹے اور ممکنہ طور پر نفسیاتی مریض ہونے کا پتہ چل گیا تھا، افسوس کہ ہماری بہت سے محترم خواتین بھی ہمدردی یا فیمنزم کی لہر میں بہہ جاتی ہیں۔ حالانکہ صاف پتہ چل رہا ہے کہ اس بی بی نے غلط بیانی کی ہے۔

جمال شاہ نے جس وقار کا مظاہرہ کیا، جس شائستگی اور اعلیٰ ظرفی سے بات کی اور اپنی سابق بیوی کو نشانہ نہیں بنایا، یہ ان کے خاندانی ہونے کا ثبوت ہے۔

اس واقعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمیں یک طرفہ کہانیوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے، دوسرے کا موقف سننا چاہیے۔

مزید یہ بھی کہ عورت ہر وقت اور ہر جگہ مظلوم نہیں ہوتی۔ کہییں وہ مظلومیت کا ڈرامہ بھی کر سکتی ہے، خودترسی کی ماری ہوتی ہے اور کبھی اپنے سابق ریلیشن کو بدنام کرنا ہی مقصد ہوتا ہے۔

جب میشا شفیع نے علی ظفر پر الزام لگائے تھے تب ہی مجھے لگا تھا کہ ان میں وزن نہیں ہے۔ وہی ہوا۔ علی ظفر نے فائٹ کی، عدالت میں لے گیا اور پھر ہر جگہ فیصلے میشا شفیع کے خلاف ہی آئے۔ ایک ثبوت بھی وہ پیش نہیں کر سکی بلکہ اس الزام والے واقعے کے بعد اسکی بہت سے ویڈیوز سامنے آئیں جہاں وہ علی ظفر کے ساتھ ہنستی مسکراتی، خوش باش پرفارم کر رہی یا گپیں لگا رہی۔ کوئی عورت اپنے ساتھ بدسلوکی یا ہراسمنٹ کرنے والے وحشی مرد کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے؟ اگر وہ ایسا کرے گی تو پھر شکوک تو پیدا ہوں گے۔

مجھے شمع جونیجو کا ٹوئٹ اچھا لگا کہ بہت سی فرضی اور گھڑی ہوئی سٹوریز بھی مارکیٹ میں آتی ہیں اس لئے دوسری طرف کا موقف اور طرزعمل بھی دیکھنا چاہیے۔

جمال شاہ نے اپنی شائستگی، وقار اور اعلیٰ ظرفی سے فریال گوہر کو بری طرح پسپا کر دیا ہے، رئیل ناک آوٹ۔

فریال گوہر کے رویے پر افسوس ہوا، مگر بطور صحافی اس بی بی کے حوالے سے برسوں پہلے ہمارے تمام حسن ظن ٹوٹ گئے تھے، لیکن چھوڑیے ان سکینڈلز کی ڈرٹی دنیا میں کیا جانا۔

بہرحال سیکھنے والی بات یہی ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی اٹھ کر الزام لگا دے تو فوری مان لینے کے بجائے جوابی موقف بھی لینا چاہیے، اس الزام کا تجزیہ بھی کر لیا جائے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui