Tuesday, 01 September 2026
  1. Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Kya Trump Latini America Ko Wapis Apni Jaib Mein Daal Rahe Hain?

Kya Trump Latini America Ko Wapis Apni Jaib Mein Daal Rahe Hain?

پچھلی قسط میں بات یہاں آ کر رکی تھی کہ لاطینی امریکا کی دائیں بازو کی قوتیں اب صرف اپنے اپنے ملک میں الیکشن نہیں جیت رہیں، ان کے درمیان ایک سرحد پار سیاسی نیٹ ورک بھی بن رہا ہے۔ اس نیٹ ورک کا ایک اہم مرکز خود لاطینی امریکا میں نہیں، واشنگٹن میں بنتا جا رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تبدیلی کے خالق ہیں یا صرف اس پر سواری کر رہے ہیں؟ کیا میلی، بوکیلے اور باقی رہنما ٹرمپ کے شاگرد ہیں؟ کیا امریکا ایک بار پھر اس خطے کو قابو کر رہا ہے جسے وہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اپنے زیراثر علاقہ یا بیک یارڈ سمجھتا آیا ہے؟

ایک بات تو خیر ہمیں مان لینی چاہیے۔ لاطینی امریکا کی نئی رائٹ ونگ ٹرمپ نے پیدا نہیں کی۔ ارجنٹائن کی دو سو گیارہ فیصد مہنگائی واشنگٹن سے نہیں آئی تھی۔ ایکواڈور کے منشیات کے کارٹل ٹرمپ کی تخلیق نہیں۔ چلی میں امیگریشن پر بے چینی اور کولمبیا میں مسلح گروہوں کا ناسور بھی مقامی پیداوار ہے۔ یہ اپنے اپنے ملک کے بحران تھے اور انہی نے ووٹر کو دائیں طرف دھکیلا۔

ٹرمپ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ان الگ الگ مقامی بغاوتوں کو ایک بڑی بین الاقوامی کہانی میں سمو دینے کا موقع پہچان لیا۔ چوبیس اگست کے نیویارک ٹائمز نے صفحہ اول پر جو رپورٹ شائع کی، اس میں ایک واقعہ ایسا ہے جو پڑھ کر میں کچھ دیر سوچتا رہ گیا۔ کولمبیا کے نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریئیا کوئی بڑا بین الاقوامی نام نہیں تھے۔ فلوریڈا میں ٹرمپ کے ڈورل ریزارٹ میں ہونے والے ایک علاقائی اجتماع میں وہ بھی پہنچے۔ ٹی بریک میں ان کی ملاقات اوہائیو کے کولمبین نژاد امریکی سینیٹر برنی مورینو سے ہوگئی۔ یہ اتفاقیہ ملاقات ان کی قسمت بدل گئی۔ مورینو نے بات امریکی حکام تک پہنچائی، معاملہ اوپر گیا اور آخر میں ٹرمپ کی توثیق مل گئی۔ چند ماہ بعد وہی صاحب کولمبیا کے صدر تھے۔

غور کریں تو ایک پورا پیٹرن، راستہ اور روڈ میپ بن چکا ہے۔ فلوریڈا کے کسی اجتماع میں پہنچ جائیے، کسی امریکی سینیٹر یا مشیر سے علیک سلیک بڑھائیے، وہ آپ کا نام اوپر پہنچا دے اور پھر ٹرمپ کی ایک توثیق آپ کے ملک میں آپ کا انتخابی قد اونچا کر دے۔

امریکا لاطینی امریکا کی سیاست میں پہلے بھی مداخلت کرتا رہا ہے اور اکثر انتہائی بھونڈے اور تباہ کن انداز میں۔ چلی میں انیس سو تہتر کا فوجی انقلاب، الیندے حکومت کے خلاف امریکی سرگرمیاں اور اس کے بعد کا خون خرابہ کون بھول سکتا ہے؟ آج کا فرق یہ ہے کہ پہلے بہت کچھ سی آئی اے کے خفیہ کمروں میں ہوتا تھا، اب کھلے عام، سوشل میڈیا پر اور انتخابی جلسوں میں ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے ڈورل کے اجلاس میں مذاق میں یہ تک کہہ دیا کہ انہیں اپنی توثیق سے لوگوں کا جیتنا اچھا لگتا ہے، کیا اس کا کوئی معاوضہ مل سکتا ہے؟

اب ارجنٹائن کے حکمران خاویر/حاویر میلی کی طرف آئیے، جو خطے میں ٹرمپ کے سب سے نمایاں نظریاتی ساتھی ہیں۔ دونوں کا انداز ملتا جلتا ہے۔ روایتی اشرافیہ پر حملہ، مخالف کو ناکام نظام کی علامت بنا دینا، سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال اور اپنے حامیوں کو کسی بڑی نظریاتی جنگ کا سپاہی سمجھنا۔ میلی کے حامی اس دوستی کا ایک ٹھوس فائدہ گنواتے ہیں، امریکی خزانے کی بیس ارب ڈالر کی مالیاتی سہولت۔ یاد رہے کہ پاکستان نے بھی حال ہی میں امریکہ سے ویسی مالیاتی سہولت مانگی ہے۔

تاہم میلی کے لئے سب اچھا نہیں۔ ابھی حال ہی میں برازیل جا کر میلی نے اپوزیشن کے صدارتی امیدوار فلاویو بولسونارو کی حمایت میں جلسے سے خطاب کیا اور میزبان ملک کے صدر لولا دا سلوا کو چور اور سوشلسٹ کچرا کہا۔ یہ ایک خوفناک سفارتی بلنڈر تھا۔ ارجنٹائن کا صدر برازیل کے موجودہ صدر کو ایسے کیسے کہہ سکتا ہے؟ وہ بھی خود برازیل جا کر۔ سفارتی تعلقات بگڑ گئے۔ برازیل نے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور جنوبی امریکا کی دو بڑی معیشتوں کے تعلقات عشروں کے بدترین بحران میں جا پہنچے۔

برازیل ارجنٹائن کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ بعض عالمی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ برازیل سے بگڑتے تعلقات ارجنٹائن کی معاشی بحالی اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی واپسی کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کئی امریکی ماہرین نے لکھا کہ اس لڑائی میں ارجنٹائن کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں، فائدہ صرف میلی کے ذاتی برانڈ کو ہے۔

سپین کے ساتھ بھی میلی کے تعلقات خراب ہوئے اور وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی اہلیہ کے بارے میں ان کے بیانات پر سپین نے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ ارجنٹائن عالمی ادارۂ صحت سے بھی نکل چکا ہے۔ یوں ایک طرف واشنگٹن سے بیس ارب ڈالر کی مالیاتی سہولت ہے، دوسری طرف سب سے بڑے تجارتی شراکت دار سے جھگڑا اور یورپ میں سفارتی کشیدگی۔ وہ آدمی جو ملکی معیشت میں ایک ایک پیسے کا حساب مانگتا ہے، خارجہ پالیسی میں یہ حساب کیوں نہیں کرتا؟ جواب شاید یہ ہے کہ ملکی محاذ پر وہ ماہر معاشیات ہے اور بین الاقوامی محاذ پر نظریاتی کارکن۔

اس نئے سیاسی بندوبست کا ادارہ جاتی چہرہ شیلڈ آف دی امریکاز ہے۔ مارچ میں فلوریڈا کے ڈورل میں اس کا افتتاحی اجلاس ہوا جس میں خطے کی امریکا نواز حکومتیں اکٹھی ہوئیں۔ موضوع منظم جرائم، منشیات کے کارٹل اور علاقائی سلامتی تھا۔ واشنگٹن اس قربت کے بدلے مالیاتی مدد، فوجی تعاون، انسداد منشیات میں شراکت اور سب سے بڑھ کر وائٹ ہاؤس تک براہ راست رسائی دے سکتا ہے۔

اس عمارت یا چلو کشتی کہہ لیں، اس میں ایک بڑا سوراخ ہے۔ خطے کے دو سب سے بڑے ملک، برازیل اور میکسیکو، لاطینی رائٹ ونگ کے اس نئے سیاسی دائرے سے باہر ہیں۔ آپ پورے خطے میں منظم جرائم کے خلاف تعاون کا نظام بنانا چاہتے ہیں، مگر دو سب سے بڑی علاقائی طاقتیں ہی ساتھ نہیں۔

امریکی سرپرستی ہمیشہ فائدہ بھی نہیں دیتی۔ ہم پاکستانی اس احساس سے خوب واقف ہیں۔ ہماری سیاست میں امریکا نواز اور امریکا مخالف ہونے کے طعنے چھ سات عشروں سے چل رہے ہیں۔ لاطینی امریکا کی یادداشت میں امریکی مداخلت کے زخم ہم سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ ٹرمپ کی حمایت آج انتخابی اثاثہ ہے، کل بوجھ بھی بن سکتی ہے۔

اب اس کھیل کے سب سے بڑے میدان کی طرف چلتے ہیں یعنی برازیل۔

اکتوبر کے انتخاب میں موجودہ صدر لولا دا سلوا اور فلاویو بولسونارو آمنے سامنے ہیں۔ چوبیس اگست کے ایک سروے میں پہلے مرحلے میں لولا اکتالیس اور فلاویو سینتیس فیصد پر تھے، مگر ممکنہ دوسرے مرحلے میں فرق چھیالیس بمقابلہ پینتالیس رہ جاتا ہے۔ یعنی مقابلہ عملاً برابر ہے۔

برازیل خطے کا سب سے بڑا ملک، سب سے بڑی معیشت، برکس کا اہم رکن اور چین کا سب سے قیمتی لاطینی امریکی شراکت دار ہے۔ فلاویو جیت گئے تو واشنگٹن کے گرد بننے والے نیٹ ورک کو براعظم کی سب سے بڑی طاقت مل جائے گی۔ لولا جیت گئے تو برازیل اس لہر کے سامنے ایک بڑا بند بنا رہے گا۔

یہیں چین اس کہانی میں داخل ہوتا ہے۔

پچھلے دو عشروں میں بیجنگ نے خطے میں جو جگہ بنائی ہے، وہ نعروں سے نہیں مٹے گی۔ تانبا، لیتھیم، سویا، تیل اور لوہا وہاں سے چین جاتا ہے اور چینی سرمایہ انفراسٹرکچر میں پھیلا ہوا ہے۔ کیا نئی پرو امریکا رائٹ ونگ چین کو نکال باہر کرے گی؟ میرا خیال ہے، نہیں۔ زیادہ ممکنہ صورت یہ ہے کہ سلامتی کے معاملے میں یہ حکومتیں امریکا کے قریب جائیں گی، چین کے حساس منصوبوں پر سخت شرائط لگائیں گی، مگر تجارت جاری رکھیں گی۔ یعنی سلامتی امریکا سے، تجارت دونوں سے۔ ہوشیار حکومتیں واشنگٹن اور بیجنگ کی رقابت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گی۔

ماضی کی لیفٹ والی گلابی لہر کے مقابل اس نئی دائیں بازو سیاست کے لیے نیلی لہر یعنی بلو ویو کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ ایک باقاعدہ سیاسی لہر بن چکی ہے؟

پرانی گلابی لہر کے پاس ایک مربوط نظریہ تھا، فلاحی ریاست، دولت کی تقسیم اور واشنگٹن سے فاصلہ۔ آج کی رائٹ ونگ میں ایسا اتفاق نہیں۔ اس کے باوجود یہ محض اتفاق سے ایک ہی زمانے میں جیت جانے والے لوگ بھی نہیں۔ یہ ایک دوسرے کی حمایت اور ایک دوسرے کے نسخے نقل کر رہے ہیں، مشترک زبان بول رہے ہیں اور واشنگٹن انہیں اکٹھا بیٹھنے کا پلیٹ فارم دے رہا ہے۔ یوں یہ ایک سرحد پار جڑی ہوئی نئی نیلی لہر بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

ووٹر کے تقاضے مگر آج بھی سادہ اور مقامی ہیں۔ مجھے جرم سے بچاؤ، قیمتیں نیچے لاؤ، روزگار دو۔ ان ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کی سیاست البتہ تیزی سے بین الاقوامی اور نظریاتی ہوتی جا رہی ہے۔ یہی اس تجربے کا سب سے کمزور جوڑ ہے۔

پہلا بڑا فیصلہ اکتوبر میں برازیل کرے گا۔ فلاویو بولسونارو جیت گئے تو اس نیلی لہر کو محض صحافیوں کی گھڑی ہوئی اصطلاح کہنا مشکل ہو جائے گا۔ لولا جیت گئے تو معلوم ہوگا کہ اس لہر کی حدود ابھی باقی ہیں۔

اس پوری کہانی کا شاید سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ووٹر نظریاتی کتابیں لے کر پولنگ بوتھ نہیں جاتا۔ وہ اپنے ساتھ مہنگی روٹی، غیر محفوظ گلی محلہ، بے روزگاری اور ناکام حکومت کا تجربہ لے کر جاتا ہے۔ جو سیاست دان اسے تحفظ، معاشی سکون اور بہتر حکمرانی کی امید دلا دے، ووٹر اسے خاصی دور تک جانے کی اجازت دے سکتا ہے۔

یہ اجازت مگر ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ گلابی لہر والے بھی کبھی اپنی انتخابی کامیابیوں کو مستقل نظریاتی فتح سمجھ بیٹھے تھے۔ انجام ہم سب کے سامنے ہے۔ نیلی لہر والے یہ سبق یاد رکھیں تو ان کے لیے اچھا ہے، نہ رکھیں تو لاطینی امریکا کا پینڈولم اپنا راستہ خود جانتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ ٹرمپ سیٹھ کچھ زیادہ قابل اعتبار نہیں۔ یہ وہاں گرائے گا جہاں زمین دلدلی ہو اور کھڑا بھی نہ ہوا جائے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui