Monday, 02 November 2026
  1. Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Liaquat Baloch Sahab Par Tanqeed Kyun?

Liaquat Baloch Sahab Par Tanqeed Kyun?

لیاقت بلوچ صاحب نے اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمن کی تائید کی اور ان کا دفاع کیا۔ اس پر جماعت کے احباب خاصے ناراض اور خفا ہیں، بعض نے تو تحریریں بھی ہیں تاہم اندرونی سرکل میں تو سنا ہے کہ خاصے لوگوں کو شکوہ ہے کہ بلوچ صاحب نے یہ کیا کر ڈالا۔

میں آج کل اپنی ویب سائٹ کے کاموں میں بہت زیادہ الجھا ہوا ہوں، ویسے بھی تھکن اتنی زیادہ ہے کہ ادھر ادھر کے پنگے لینے کی ہمت ہی نہیں۔ یہ بات مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ معترض جماعتی احباب کیا لیاقت بلوچ سے یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ ایسے وقت میں مولانا فضل الرحمن پر پتھر ماریں گے یا ان کے خیال میں بلوچ صاحب کو مزے سےبیٹھ کر تماشا دیکھنا اور پاپ کارن کھانے چاہئیں؟

میرے خیال میں لیاقت بلوچ صاحب نے وہی کیا، جو انہیں کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی اس وقت اپوزیشن کی سیاست کرنا چاہ رہی ہے، اس کے لئے انہیں دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ سہی، ان کے ساتھ فاصلہ تو نہیں بڑھانا چاہیے۔ اپوزیشن کی سیاست تحریک انصآف کر رہی ہے اور اب جے یوآئی بھی اسی صف میں شامل ہوچکی۔ جماعت اسلامی بھی ادھر ہی کھڑی ہے تو اسے پھر مولانا کی دلجوئی ہی کرنی چاہیے ناں؟

ویسے لیاقت بلوچ صاحب نے اپنے ایک بیان سے بیک وقت تین کام کئے یا کہہ لیں تین تیر چلا لئے۔

انہوں نے جماعت اسلامی پر سے یہ الزام ختم کر دیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر سیاست کر رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر موقف اختیار کر رہی ہے۔ جےیوآئی اور مولانا اسٹیبلشمنٹ کے اس وقت معتوب ہیں۔ اگر جماعت اسلامی کا اتنا اہم ذمے دار ایسے وقت میں معتوب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑا ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جماعت اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر نہیں ہے۔

دوسرا خود لیاقت بلوچ صاحب پر ہمیشہ سے تنقید کی جاتی ہے کہ وہ مقتدر قوتوں سے رابطہ اور تعلق رکھتے ہیں، لاہوری گروپ پر ہمیشہ تنقید کی جاتی ہے اور اس سے مراد جناب لیاقت بلوچ اور ان کے ساتھی ہی ہوتے ہیں۔ اپنے اس بیان سے بلوچ صاحب نے اپنی پوزیشن واضح کر دی اور یہ بتا دیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر نہیں ہیں۔

تیسرا جے یو آئی اور روایتی دیوبندی مدارس کے دینی حلقے میں جماعت اسلامی کے حوالے سے ہمیشہ ایک ناپسندیدگی، مغائرت سی موجود رہی ہے، بہت سے لوگوں کو یہ شبہ رہا ہے کہ جماعت اسلامی جے یوائی اور مولانا فضل الرحمن کے دل سے مخالف ہے اور موقعہ آنے پر ان کے خلاف چلی جاتی ہے۔ اب یہ شبہ یا الزام بھی دور ہوا۔ مولانا پر یہ مشکل وقت ہے اور اس میں جماعت اسلامی کی قیادت نے ان کی کھل کر حمایت کی ہے۔

باقی مجھے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ لیاقت بلوچ صاحب نے یہ بیان سوچ سمجھ کر دیا ہے، میرے حساب سے تو ان کی امیر جماعت حافظ نعیم صاحب سے مشاورت بھی ہوئی ہوگی۔ بلوچ صاحب کا یہ بیان دراصل جماعت اسلامی کی قیادت کی پالیسی اور سوچ کو ظاہر کر رہا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر اب تک جماعت کی قیادت کو کھل کر اس بیان سے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے، لیاقت بلوچ صاحب کونوٹس دینا چاہیے بلکہ انہیں نظم سے الگ کر دینا چاہیے۔ ایسا نہیں ہوا تو پھر یہ جماعتی قیادت کی ترجمانی ہی ہے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui