قبلہ سرفراز اے شاہ صاحب کی تصوف پر دس کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوف کی جدید تاریخ میں ایسی عام فہیم، سلیس اور نہایت معلومات افزا کتب کہیں اور نہیں ملیں گی۔ شاہ صاحب کی ڈکشن جدید پڑھے لکھے شخص سےہم آہنگ ہے اور قدیم علوم پر نظر رکھنے والوں سے بھی جڑی ہے۔
جو لوگ سرفراز شاہ صاحب سے واقف نہیں، انہیں بتاتا چلوں کہ وہ فیڈرل ایڈیشنل سیکرٹری رہے اور خود استعفا دیا۔ شاہ صاحب برمنگھم یونیورسٹی، برطانیہ میں مینجمنٹ بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ وہ روایتی پیر نہیں اور نہ بیعت لیتے ہیں، ان کے ہاں نذرانوں وغیرہ کا کوئی سسٹم نہیں، اس پر نہایت سختی سے پابندی ہے بلکہ قبلہ شاہ صاحب اپنی جیب سے مہمانوں کی تواضح پر بہت خرچ کرتے ہیں۔ وہ ایک بڑے انڈسٹریل گروپ میں ایم ڈی ہیں اور اب بیاسی سال کی عمر میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ وہ پچھلے چالیس برس سے دعا کے لئے لاہور میں بیٹھا کرتے ہیں، طویل عرصے سے اسلام آباد میں بھی۔ دعا کے حوالے سے معلومات قلندر ڈاٹ او آر جی ویب سائٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ان کی بیشتر کتب جہانگیر بکس نے شائع کی تھی، ایک کتاب سنگ میل سے بھی شائع ہوئی۔
اب اہم خبر یہ ہےکہ شاہ صاحب کی تمام کتب بک کارنر جہلم سے شائع ہوں گی۔ اس حوالے سے دلچسپ کام یہ کیا گیا ہے کہ ہر صفحے کے نیچے کیو آر کوڈ ہے اور اسے سکین کرکے لنک پر کلک کریں تو وہی صفحہ آپ پڑھنے کے ساتھ شاہ صاحب کی زبانی بھی سن سکتے ہیں۔ دراصل یہ شاہ صاحب کے لیکچرز ہی ہیں جنہیں ٹرانسکرائب کیا گیا۔ یہ تمام لیکچرز ویسے قلندر ڈاٹ او آرجی پر موجود ہے، کوئی چاہے تو فری ڈاون لوڈ کر سکتا یا سن سکتا ہے۔
بک کارنر جہلم نے چند دن قبل شاہ صاحب کی نئی کتاب افکار فقیر شائع کی ہے۔ کیا خوبصورت کتاب چھاپی ہے اور کتاب کا متن تو ہمیشہ کی طرح شاندار ہے ہی۔
میں کتاب کی تعریف میں کئی گھنٹے بول سکتا ہوں، شاہ صاحب کے لئے تو شائد کئی دن بھی کم ہوں گے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا بزرگ نہیں دیکھا۔ وہ صاحب معرفت، صاحب کشف، صاحب عمل بزرگ ہیں۔ پہلی بار انہیں انیس سو چھیانوے میں ملا۔ پچھلے تیس برسوں میں ان سے بہت نشستیں رہیں، کئی طویل ملاقاتیں۔ تین بار مختلف اخبارات کے لئے ان سے کئی گھنٹوں پر محیط تفصیلی انٹرویوز کئے۔ بے شمار موضوعات، شخصیات پر گفتگو ہوئی۔ آج تک ان سے کسی کے لئے کوئی منفی جملہ نہیں سنا، کبھی ان سے غیبت نہیں سنی۔ کبھی مایوسی کا ایک لمحہ بھی ان پر گویا وارد نہیں ہوا۔ نفس مطمئنہ کی عملی شکل ہم نے تو قبلہ شاہ صاحب ہی میں دیکھی۔ وہ ایسے مہربان چھتنار درخت کی مانند ہیں، لاکھوں لوگوں نے جن سے فیض پایا۔
عجیب بات دیکھی کہ ایسے بہت سے لوگوں سے ملا ہوں جنہیں لگتا ہے کہ ان سے شاہ صاحب کا خاص تعلق ہے۔ یہ شائد صوفی کی خوبی ہوتی ہے کہ اس کا فیض نجانے کس کس کو ملتا ہے اور سب کا ان سے خاص کنکشن محسوس ہوتا ہے۔ شاہ صاحب کی کتابوں سے مجھے تصوف کی اصل اور حقیقی صورت سے شناسائی ہوئی۔ وہ جو کشف و کرامات کی جگہ ایک تربیتی ادارہ ہے۔ جو برملا کہتا ہے کہ شریعت مقدم ہے، طریقت نہیں اور تصوف کا مقصد ہی وہ تربیت کرنا ہے جس کے بعد سالک شریعت کی پابندی کر سکے۔ شاہ صاحب کے ہاں تصوف اپنی اصل شکل میں ملتا ہے جو قربانی، ایثار کا سبق دیتا اور عمل سکھاتا ہے۔ جو پیری مریدی کے بجائے رب سے تعلق جوڑنے کی ترغیب دیتا اور راضی بالرضا رہنا سکھاتا ہے۔
سردست یہ اطلاع کہ شاہ صاحب کی نئی کتاب افکار فقیر بک کارنر جہلم سے شائع ہوگئی اور ان شااللہ شاہ صآحب کی تمام کتابیں ایک ایک کرکے بک کارنر ہی سے دستیاب ہوں گی۔