Sunday, 01 March 2026
  1. Home/
  2. Amir Khakwani/
  3. Ye Pakhtoono Ki Jang Nahi, Marka e Haq o Batil Hai

Ye Pakhtoono Ki Jang Nahi, Marka e Haq o Batil Hai

یہ علاقہ جہاں میں رہتا ہوں، یہ پانچ ہزار سال سے میرا نہیں ہے۔ میرے اجداد یہاں تین سو سال پہلے آئے۔ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاقہ خوگیانی سے آئے، اسی مناسبت سے ہم معروف زئی پٹھان قبیلے کے لوگ پہلے خوگانی کہلائے اور پھر مقامی سطح پر زیادہ آسان نام خاکوانی بن گیا۔

میرے والد خاکوانی جبکہ والدہ مرحومہ ترین پٹھان تھیں۔ پشین سے تعلق رکھنے والا ترین قبیلہ مگر ہمارے ننھیال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوچکے تھے اور اب وہ ڈی آئی خان کے بیشتر پٹھان قبائل علیزئی، ملیزئی، بارک زئی، سدوزئی، اکبرزئی، وغیرہ کی طرح سرائیکی بولنے والے ترین پٹھان ہی ہیں۔ پٹھان مگر نسب سے بنتا ہے صرف زبان سے نہیں۔ ہر مذہب، ہر قوم قابل احترام ہے لیکن مفروضے کے طور پر بات کر رہا ہوں کہ اگر کوئی سکھ، تامل، نیپالی، گورکھا وغیرہ پشتو بولے تو وہ پٹھان نہیں بن جائے گا۔ کوئی غیر مسلم پشتو سیکھ لے تو وہ کیا پشتون بن جائے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ رگوں میں دوڑتے پھرتے خون کی اپنی خصوصیات ہیں، ڈی این اے الگ ہوتا ہے، سب سے بڑھ کر آپ کس نظریے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یہ بھی ڈی این اے پر اثر ڈالتا ہے۔

ہمارے اباؤ اجداد احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ہندوستان آئے، جنگیں لڑے اور پھر بابا ابدالی نے ملتان کی حکومت پٹھانون کو سونپ دی۔ خاکوانی ملتان کے حاکم یا نواب رہے، سدوزئیوں کے ساتھ یہ حکمران تھے۔ ملتان کے آخری پٹھان نواب مظفر خان سدوزئی نے سکھوں سے لڑتے ہوئے 1818میں شہادت پائی، مظفر خان اسی سال کی عمر میں اپنے دس بیٹوں سمیت لڑتے ہوئے شہید ہوا۔ اس کے ساتھ کئی خاکوانی وزرا بھی تھے جنہوں نے اپنی جانیں دیں۔ ملتانیوں نے انہیں حکمران بنایا، ان غیرت مند پٹھانوں نے ملتان اور اس کی مٹی کو یوں اپنایا کہ سرائیکی زبان اپنا لی، ملتان کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دیا، مٹا دیا۔

بعد میں جب انگریزوں نے ملتان کے سکھ حکمرانوں کو شکست دی تو کچھ پٹھان قبائل اور سرداروں نے انگریز کا ساتھ دیا، انگریز نے جیتنے کے بعد انہیں بڑی جاگیریں دیں، یوں ملتان کے خاکوانی بڑے زمیندار بن گئے۔ سینکڑوں مربع اراضی کے مالک۔ ہمارے بزرگوں نے البتہ انگریز کا ساتھ بھی نہیں دیا، وہ یہ سمجھتے تھے کہ انگریز بھی ہمارا دشمن ہے۔ وہ اس کے بجائے ریاست بہاولپور چلے گئے جہاں عباسی نواب حکومت کر رہے تھے۔ ریاست بہاولپور میں ان کی پذیرائی کی گئی، انہیں اعزاز دئیے گئے، شاہی فوج میں جگہ دی گئی۔ بہاولپور ریاست میں یہ اصول بن گیا کہ صرف تین قوموں کے لوگ کمیشن پا کر افسر بن سکتے تھے، سید، پٹھان اور خود حکمران داود پوتہ عباسی خاندان۔

نواب بہاولپور نے البتہ خاکوانیوں اور دیگر پٹھان معززین کو کہا کہ آپ ملتان میں نواب تھے، اسی لئے نواب کہلاتے ہیں، مگر بہاولپور ریاست میں عباسی نواب ہیں تو اسی لئے آپ اپنے نام کے ساتھ سردار کا خطاب لگائیں۔ تب سردار کا نام ہر کوئی استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ اسی لئے آج بھی بہاولپور ڈویژن کے خاکوانی اور دیگر پٹھان گھرانے اپنے نام کے ساتھ سردار لگاتے ہیں جبکہ ملتانی خاکوانی آج بھی نواب لکھتے ہیں، چاہے نوابی کب کی ختم ہوگئی۔

پٹھان خون میرے نسب میں ہے اور چونکہ ایک طویل عرصہ سے ہم پٹھانوں کے علاوہ شادیاں کرتے ہی نہیں رہے تو یہ نجیب الطرفین پٹھان خون ہے۔ ہم نے اپنے والد اور بڑوں سے یہ سیکھا کہ پاکستان ہمارا وطن ہے، اس نے ہمیں شناخت دی، عزت دی۔ اب یہی ہمارا وطن ہے اور ہم نے اس کی خاطر ہی اپنا خون بہانا ہے، جان قربان کرنا ہے۔ اس لئے بھی کہ پاکستان ان شااللہ اسلام کا قلعہ بنے گا۔

تو کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ خطہ پانچ ہزار سال سے میرا نہیں، تین سو سال سے ہے، مگر یہ میرا گھر ہے، میرا علاقہ، میری عزت ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ملک ہے، ان شااللہ یہ اسلام کا بول بالا کرے گا، اسلام کا قلعہ بنے گا، ایک فلاحی جمہوری، اسلامی ریاست بنے گا۔ ہم اس کی خاطر لڑیں گے، ہم اس پر حملہ آور ہونے والوں کو مار بھگائیں گے۔ کوئی کھرا پٹھان اپنی داڑھی میں کسی کو ہاتھ نہیں ڈالنے دے سکتا۔

ہم ان شااللہ ان احسان فراموش، دھوکے باز، کم ظرف، جھوٹے، خائن، بددیانت اور سراپا شر افغان طالبان کو شکست فاش دیں گے۔ ایسی عظیم شکست جو انہیں برسوں، عشروں تک یاد رہے۔ پختون خوا کے غیرت مند پٹھان اپنے گھر پر حملہ آور دشمن کو شکست فاش دیں گے جو بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی میں آئے، انہیں ان شااللہ دندان شکن جواب دیں گے۔

یہ جنگ پاکستان پر افغان طالبان نے مسلط کی ہے، اسے ہم اپنی مرضی سے ختم کریں اور اسے جاری رکھیں۔ جب تک ان کی قوت پاش پاش نہ ہوجائے، جب تک وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ نہ ہوجائیں۔ اسے جاری رہنا چاہیے۔ سیز فائر اگر ہوئی بھی تو جو جنگ شروع ہوئی ہے، اس کا منطقی اور فطری اختتام افغانستان میں طالبان رجیم کی تبدیلی ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ پختونوں کی جنگ نہیں ہے۔ یہ دراصل غیرت مند پاکستانیوں کی احسان فراموش، دھوکے باز، بدعہد، دہشت گردوں کے پشتیبان افغان طالبان کے ساتھ جنگ ہے۔ اس میں ہر غیرت مند، ہر کھرا پاکستانی پشتون اپنے وطن کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ کیسے ان دہشت گردوں کا ساتھ دے سکتا ہے جنہوں نے اس کے اپنے صوبے مین ہزاروں عام آدمیوں، خواتیں، بچوں کی شہادت کی ہے، جن دہشت گردوں نے پختون خوا کی مساجد میں دھماکے کئے، نمازیوں اور قرآن پڑھتے پشتونوں کو شہید کیا ہو، ان بدبخت حملہ آوروں کا ساتھ کیسے دیا جا سکتا ہے؟

جو لوگ اسے پختون مسئلہ کہہ رہے، "دونوں طرف پختون خون بہہ رہا ہے" جیسی باتیں کہہ کر گمراہ کر رہے ہیں، وہ دراصل دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں، وہ انڈین ایجنٹ ہیں۔ وہ نسل پرستی کا زہر پھیلا رہے ہیں۔ دونوں طرف ایک سا خون نہیں بہہ رہا۔ ایک طرف غیرت مند پاکستانی پختون ہیں جو حق کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ جو دفاع کر رہے ہیں۔ جن پر جنگ مسلط کی گئی۔ دوسری طرف وہ افغان طالبان ہیں جو دہشت گردوں کے ساتھی اور فنانسر ہیں۔ جو اللہ کے دین کو بھلا چکے، جو دھوکے باز، احسان فراموش اور جھوٹے ہیں۔ جنہوں نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہے۔

یہ دونوں ایک کیسے ہوسکتے ہیں؟

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais