ایران امریکہ جنگ بذات خود دنیا کی سب سے بڑی خبر ہے اور کئی مزید خبروں کو جنم دے رہی ہے۔ دنیا کے مؤقر روزنامہ وال سٹریٹ جرنل کی بالکل تازہ خبر تو بہت حوالوں سے بریکنگ نیوز ہے۔ "امارات نے امریکا سے مالی معاونت کے خفیہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں"۔ رپورٹ کرنے والے بتا رہے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلامہ نے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو کے اہلکاروں سے ملاقاتوں میں "کرنسی سواپ لائن" کا دروازہ بجایا ہے۔ باقاعدہ درخواست نہیں، بس ایک احتیاطی قدم۔ یعنی اگر ایران سے جنگ طول پکڑے اور خلیج سے ڈالر کی روانی رُک جائے، تو امارات کہاں کھڑا ہوگا؟
اب اس خبر کو تین تہوں میں دیکھنا ضروری ہے۔
پہلی تہہ۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی روزانہ کھیپوں میں سے ایک بڑا حصہ اماراتی ہے۔ جنگ نے ان میں سے کئی راستے کاٹ دیے ہیں۔ تیل نہیں بکتا تو ڈالر نہیں آتا اور ڈالر نہیں آتا تو اماراتی خزانے کی وہ بنیاد ہلنے لگتی ہے جس پر درہم کا فکسڈ پیگ چار دہائیوں سے قائم ہے۔ یعنی وہ پرانا معاہدہ جس کے مطابق ایک ڈالر ساڑھے تین درہم کے برابر ہے، اس پر ہلکا سا سایہ پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ ابھی بحران نہیں، بس سایہ۔ مگر خلیج کی معیشت سایوں پر ہی چلتی ہے۔
دوسری تہہ۔ امارات کی اصل طاقت تیل نہیں، بلکہ وہ مالیاتی ہب ہے جو اس نے پچھلے پچیس برسوں میں کھڑا کیا ہے۔ دبئی اور ابوظبی میں آج ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری، ابتدائی پبلک آفرنگز اور دنیا بھر سے آئے ہوئے سرمایہ داروں کا بسیرا ہے۔ اگر جنگ کی لپیٹ طویل ہوئی، تو یہ پیسہ تیزی سے سوئٹزرلینڈ، سنگاپور اور لندن کا رُخ کرے گا۔ کوئی بھی مالیاتی ہب سب سے پہلے اپنی "محفوظ پناہ گاہ" کی ساکھ کا مرہونِ منّت ہوتا ہے اور ساکھ بنتی برسوں میں ہے، ٹوٹتی دنوں میں ہے۔
تیسری تہہ اور یہ سب سے اہم ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اماراتی اہلکاروں نے امریکیوں کو خاموشی سے یہ بھی بتایا کہ اگر ڈالر کا انتظام بگڑا، تو وہ تیل کی کچھ تجارت چینی یوآن میں کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ بیس سال پہلے اگر کوئی خلیجی ریاست یہ بات کہتی، تو واشنگٹن میں تہلکہ مچ جاتا۔ آج یہ بات اسی کمرے میں کہہ دی گئی ہے جس میں سکاٹ بیسنٹ خود موجود تھے اور تہلکہ نہیں مچا۔ امریکیوں نے اسے سنا، نوٹ کیا اور بات آگے بڑھا دی۔ یہی اصل خبر ہے۔
بات یہ ہے کہ فیڈ کی سواپ لائن عام طور پر صرف چند گنے چنے اتحادیوں کو ملتی ہے۔ یورپی مرکزی بینک، بینک آف انگلینڈ، بینک آف جاپان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کا امریکی مالیاتی نظام میں گہرا بنیادی رشتہ ہے۔ امارات اس فہرست میں نہیں آتا۔ تو جو مدد ہوگی وہ فیڈ کی طرف سے نہیں، امریکی ٹریژری کی طرف سے ہوگی اور جو چیز ٹریژری سے ملتی ہے، وہ مالی نہیں، سیاسی ہوتی ہے۔ یعنی یہ مذاکرات بظاہر پیسوں کے ہیں، عملاً وفاداری کے نئے ثبوت مانگنے کے ہیں۔
اب ایک لمحے کے لیے رُکیں اور اسلام آباد کی طرف دیکھیں۔ پاکستان کی ہر دوسری ڈوبتی ناؤ کو جو ہاتھ نکال کر بچایا جاتا رہا ہے، ان میں سے ایک ہاتھ ہمیشہ امارات اور سعودیہ کا رہا ہے۔ سٹیٹ بینک میں جمع ہونے والے "سپورٹ ڈپازٹ" ہوں، تیل کی ادھار کھیپ ہو، یا آئی ایم ایف کے پروگرام سے پہلے کے عارضی پُل، ہمیں ہمیشہ خلیج سے سہارا ملا ہے۔ لیکن اگر خلیج خود ڈالر کے دروازے پر چکّر کاٹ رہی ہے، تو ہمارے لیے کیا باقی رہ جاتا ہے؟
پروفیسر سٹیفن کوہن نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا، "پاکستان جغرافیے کا قیدی ہے"۔ یہ جملہ مجھے بار بار یاد آتا ہے کیونکہ ہمارا جغرافیہ ہمارا مقدر بھی ہے اور ہماری سزا بھی۔ جب آبنائے ہرمز لرزتی ہے، تو ہمارا ایکسچینج ریٹ بھی ہلتا ہے، چاہے ہمیں اُس وقت پتا بھی نہ چلے۔ خلیج کی معیشت ہمارا دور کا امیر کزن ہے اور بڑے گھر کا امیر کزن جب سُوا اُدھار لینے نکلے، تو چھوٹے گھر کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
آخری بات۔ یوآن کا حوالہ جس انداز میں اس گفتگو میں آیا ہے، وہ ایک علامتی لمحہ ہے۔ ڈالر کا غلبہ ایک رات میں نہیں ٹوٹے گا، مگر یہ چھوٹے چھوٹے گھاؤوں سے گھِستا جا رہا ہے۔ روسی تیل جب ہندوستان اور چین کو یوآن اور روپے میں بکنے لگا، وہ ایک گھاؤ تھا۔ سعودی عرب نے جب چینی کرنسی میں چند پیٹرولیم سودے قبول کیے، وہ دوسرا گھاؤ تھا۔ آج امارات نے امریکیوں کو "احتیاطاً" یہ کہہ دیا کہ اگر ڈالر نہ ملا تو یوآن کا دروازہ کھلا ہے، یہ تیسرا گھاؤ ہے۔ جنگ ایک دن ختم ہو جائے گی، تیل کی قیمتیں بھی سنبھل جائیں گی، مگر یہ گھاؤ یاد رہ جائیں گے۔ کیونکہ جب ایک ملک کو اپنے سب سے قریبی حلیف کے سامنے ایسی بات کہنی پڑے، تو یہ رشتہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔
مجھے ایک گورے فنانس ایکسپرٹ نے کئی برس پہلے کہا تھا۔ "ڈالر کی موت کا انتظار نہ کرو، اس کے بڑھاپے کا انتظار کرو۔ بوڑھے بادشاہ لمبی عمر پاتے ہیں، مگر دربار میں ان کا وہ رعب نہیں رہتا جو کبھی ہوا کرتا تھا"۔ آج یہ بات زیادہ سمجھ آ رہی ہے۔ امارات کی یہ دستک بغاوت نہیں ہے، یہ احترام سے بڑھا ہوا ایک ہاتھ ہے، جس میں خاموش یاد دہانی ہے کہ وقت بدل رہا ہے۔
اُمید کوئی پالیسی نہیں، تو مایوسی بھی کوئی پالیسی نہیں۔ مگر حقیقت پسندی ہمیشہ پالیسی ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جب یہ جنگ ختم ہوگی، تو خلیج پہلے جیسی نہیں رہے گی اور خلیج کے پیچھے چلنے والا پاکستان بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
ایسی خبروں سے یہ ضرور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جنگ فوری طور پر رکے گی اور معاہدہ بھی جلد ہوگا، کیونکہ ڈالر ریجییم خطرے میں پڑ رہا ہے۔