Saturday, 14 March 2026
  1. Home/
  2. Arif Anis Malik/
  3. India Dubuk Gaya Hai

India Dubuk Gaya Hai

اروندھتی رائے پھر بولی ہے اور جب اروندھتی بولتی ہے تو زبان نہیں، آتش فشاں پھٹتا ہے۔ مگر یہ بے قابو آتش فشاں نہیں۔ یہ وہ لاوا ہے جو برسوں سے اندر پک رہا تھا۔ ہر لفظ تولا ہوا۔ ہر جملہ نشانے پر۔

"ایران غزہ نہیں ہے"۔

چار لفظ اور چار لفظوں میں پوری جنگ کا خلاصہ۔

اروندھتی کہتی ہے کہ تہران، اصفہان، بیروت جل رہے ہیں۔ وہی پرانے قاتل ہیں۔ وہی پرانا طریقہ۔ عورتیں مار دو۔ بچے مار دو۔ ہسپتال بم سے اڑا دو۔ شہر ملبے میں بدل دو۔ پھر شکار بن کر کھڑے ہو جاؤ۔ غزہ میں یہی کیا۔ ایران میں یہی کر رہے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار آگ سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ اس جنگ کا تھیٹر پھیل سکتا ہے۔ پوری دنیا کو نگل سکتا ہے۔ ایٹمی تباہی کا سایہ سر پر ہے۔ وہی ملک جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرایا تھا، دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کو مٹانے کی تیاری کر رہا ہے۔

لیکن اروندھتی کی تقریر کا اصل درد ایران نہیں۔ اصل درد ہندوستان ہے۔

وہ کہتی ہے، میں ایران کے ساتھ کھڑی ہوں۔ بلا تامل۔ بلا شرط۔ کوئی بھی حکومت بدلنی ہو، امریکہ کی ہو، اسرائیل کی ہو، ہماری اپنی ہو، یہ حق عوام کا ہے۔ کسی پھولے ہوئے، جھوٹے، لالچی، بم برسانے والے سامراج کا نہیں۔

اور پھر وہ اپنے ہی ملک کی طرف مڑتی ہے اور یہاں سے تقریر تقریر نہیں رہتی۔ پوسٹ مارٹم بن جاتی ہے۔

وہ کہتی ہے: ایران کھڑا ہے۔ ہندوستان دبکا ہوا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب ہم غریب تھے۔ بہت غریب۔ لیکن وقار تھا۔ عزت تھی۔ آج ہم امیر ملک ہیں۔ غریب، بے روزگار عوام والا امیر ملک۔ جہاں لوگوں کو روٹی کی جگہ نفرت کھلائی جاتی ہے۔ زہر پلایا جاتا ہے۔ جھوٹ بیچا جاتا ہے۔ وقار ختم۔ عزت ختم۔ ہمت ختم۔ بس فلموں میں بچی ہے۔

کیسے لوگ ہیں ہم؟ اروندھتی پوچھتی ہے۔ ہماری منتخب حکومت اس وقت منہ نہیں کھول سکتی جب امریکہ دوسرے ملکوں کے سربراہوں کو اغوا کرے، قتل کرے؟ ہمارے وزیرِ اعظم نے ایران پر حملے سے چند دن پہلے اسرائیل جا کر نیتن یاہو کو گلے لگایا۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ امریکہ کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ کیا جو ہمارے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کو ڈبو دے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اب ہمیں روس سے تیل خریدنے کی "اجازت" ملی ہے۔ اجازت اور کس چیز کی اجازت چاہیے؟ باتھ روم جانے کی؟ چھٹی لینے کی؟ ماں سے ملنے کی؟

ہر روز امریکی سیاستدان ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ ٹرمپ علانیہ ذلیل کرتا ہے اور ہمارے وزیرِ اعظم اپنی مشہور کھوکھلی ہنسی ہنستے ہیں اور گلے ملتے چلے جاتے ہیں۔

اروندھتی ایک اور زخم کھولتی ہے۔ غزہ کی نسل کشی کے عروج پر ہندوستان نے ہزاروں غریب مزدور اسرائیل بھیجے۔ فلسطینی مزدوروں کی جگہ۔ آج جب اسرائیلی بنکروں میں چھپے ہیں تو ان ہندوستانی مزدوروں کو بنکروں میں جانے نہیں دیا جا رہا۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ کس نے ہمیں دنیا میں اس ذلت آمیز مقام پر لا کھڑا کیا ہے؟

پھر وہ ایک پرانی چینی اصطلاح یاد دلاتی ہے: "سامراج کا پالتو کتا"۔ کہتی ہے، ہم مذاق اڑاتے تھے اس اصطلاح کا۔ لیکن آج یہ ہماری تعریف ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ ہماری فلموں میں ہمارے سیلولائیڈ ہیرو اکڑ کر چلتے ہیں۔ فرضی جنگیں جیتتے ہیں۔ پٹھے پھلائے ہوئے، دماغ خالی۔ ہمارے خون کی پیاس بجھاتے ہیں اپنی بے مقصد تشدد سے۔

اروندھتی رائے کی یہ تقریر صرف تقریر نہیں ہے۔ یہ آئینہ ہے۔ مگر آئینہ وہی دکھاتا ہے جو سامنے کھڑا ہو۔ المیہ یہ ہے کہ آئینے میں دیکھنے کی ہمت بھی ختم ہوگئی ہے۔

ایران لڑ رہا ہے بھاری قیمت پر۔ ہندوستان جھک رہا ہے مفت میں اور تاریخ دونوں کا حساب رکھتی ہے۔ لڑنے والوں کا بھی۔ جھکنے والوں کا بھی۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais