Saturday, 29 August 2026
  1. Home/
  2. Arif Anis Malik/
  3. Insani Tawajo Ki Daketi Aur 17 Arab Dollar Ka Jurmana

Insani Tawajo Ki Daketi Aur 17 Arab Dollar Ka Jurmana

یہ دنیا کی بڑی خبروں میں سے ایک ہے مگر شاید ایلگورتھم آپ تک نہیں پہنچنے دے گا۔ اوکلینڈ، کیلی فورنیا کی وفاقی عدالت تھی۔ اٹھارہ اگست کی صبح مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ ایک طرف امریکی ریاستیں، دوسری طرف دنیا کی امیر ترین کمپنیوں میں سے ایک، میٹا۔ والدین کی طرف سے الزام یہ تھا کہ اس کمپنی نے جان بوجھ کر ہمارے بچوں کو سوشل میڈیا کے نشے پر لگایا۔

پھر عدالت میں کمپنی کی ایک اندرونی رپورٹ پڑھی گئی۔ میٹا کے اپنے ملازم انسٹاگرام کو "نشہ" کہتے تھے اور خود کو "نشہ بیچنے والے"۔

کیلی فورنیا کی سرکاری وکیل میگن اونیل نے جیوری کے سامنے اس کاروبار کا نسخہ چار قدموں میں کھول کر رکھ دیا۔ "صارف کو پھانسو۔ جتنی دیر ہو سکے جکڑے رکھو۔ اس کا ڈیٹا نچوڑو اور سچ چھپا لو"۔

میٹا کے سابق انجینئر آرتورو بیخار نے گواہی دی کہ کمپنی کے اندر بس ایک ہی دھن چلتی تھی، صارف بڑھاؤ۔ اندرونی مطالعے چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ نوجوان صارفین کو نقصان دہ تجربات کا سامنا اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کمپنی باہر مانتی تھی۔ انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری سے جرح ہوئی کہ "وقفہ لیجیے" والے فیچر کا ڈھول تو خوب پیٹا گیا مگر بچوں نے اسے شاید ہی کبھی چھوا۔

ریاستیں، میٹا سے دو سو ارب ڈالر تک کا ہرجانہ مانگ رہی تھیں۔ مقدمہ اکتوبر تک چلنا تھا۔

مگر دوسرے ہی ہفتے، چھبیس اگست کو، میٹا نے ہتھیار ڈال دیے۔ اکاون ریاستی اٹارنی جنرلز کے ساتھ سترہ ارب ڈالر کا تصفیہ۔ رقم دس برس میں ادا ہوگی۔ امریکی ٹیکنالوجی کی تاریخ کا سب سے بڑا تاوان۔ میٹا نے عدالت میں الزامات سے انکار برقرار رکھا ہے اور معاہدہ ابھی جج یوون گونزالیز راجرز کی منظوری کا منتظر ہے، مگر پیغام دنیا تک پہنچ چکا ہے۔

اندازہ لگائیے۔ دو ہزار انیس میں فیس بک کو پرائیویسی کے اسکینڈل پر پانچ ارب ڈالر جرمانہ ہوا تھا تو دنیا کانپ گئی تھی۔ یہ رقم اس سے تین گنا بڑی ہے۔ یورپ نے گوگل پر دس برسوں میں جتنے جرمانے کیے، سب جوڑ لیں تو کوئی بارہ ارب ڈالر بنتے ہیں۔ یہ اکیلا تصفیہ ان سب پر بھاری ہے۔

مگر ٹھہریے۔ سکہ پلٹ کر بھی دیکھیے۔ میٹا نے پچھلے سال دو سو ارب ڈالر کمائے اور ساٹھ ارب خالص منافع بنایا۔ یعنی یہ تاریخی تاوان اس کے صرف ساڑھے تین مہینے کے منافع کے برابر ہے۔ بندہ پوچھے، یہ سزا ہے یا کاروبار کی لاگت؟

اس لیے اصل خبر رقم نہیں۔ اصل خبر وہ شرائط ہیں جن پر میٹا نے دستخط کیے ہیں۔ اٹھارہ برس سے کم عمر صارف کے لیے دن میں صرف دو گھنٹے اور یہ حد صرف ماں باپ کھول سکیں گے۔ آدھی رات سے صبح چھ بجے تک ایپ بند۔ اسکول کے اوقات میں نوٹیفکیشن خاموش۔ بچوں کی پوسٹوں کے نیچے لائیکس کی گنتی غائب۔ چہرہ تراشنے والے پلاسٹک سرجری فلٹرز پر پابندی۔ جو بچہ چاہے، اسے الگورتھم کے بغیر سیدھی سادی فیڈ ملے گی۔ اوپر سے ایک آزاد آڈیٹر جو کمپنی کے اندر جھانکے گا اور عدالتی حکم کہ حفاظتی دعووں میں اب جھوٹ نہیں چلے گا۔

ریاستوں نے وہ پنگا لے لیا جو امریکی کانگریس برسوں میں نہ لے سکی۔

یہ مقدمے ویسے ہی ہیں جیسے نوے کی دہائی میں تمباکو کمپنیوں پر چلے تھے۔ تب بھی کہا جاتا تھا کہ سگریٹ تو بس ایک ذاتی انتخاب ہے۔ پھر اندرونی دستاویزات باہر آئیں اور دنیا نے دیکھا کہ کمپنیاں نشے کی سائنس پر باقاعدہ کام کرتی رہی تھیں۔ اربوں ڈالرز جرمانے ہوئے، قانون بدلے اور سب سے بڑھ کر معاشرے کی سوچ بدل گئی۔ آج کوئی باپ فخر سے بیٹے کو سگریٹ نہیں پکڑاتا۔ کل کوئی کمپنی فخر سے یہ نہیں کہہ سکے گی کہ ہم نے بچوں کی توجہ بیچ کر ارب کمائے۔

اسی لیے میں اسے اچھی خبر کہتا ہوں۔ پہلی بار کسی نے دنیا کی طاقتور ترین صنعت کو کان سے پکڑ کر کہا ہے کہ بچے گاہک نہیں ہوتے۔ بندے کے پتر بنو۔

مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

بگ ٹیک کی بھوک بچوں کی توجہ سے آگے نکل چکی ہے۔ اب اسے بجلی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر اس وقت زمین پر وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ عالمی ادارہ توانائی بتاتا ہے کہ پچھلے سال ڈیٹا سینٹروں کی بجلی کی کھپت سترہ فیصد بڑھی اور صرف مصنوعی ذہانت والے سینٹروں کی پچاس فیصد۔ آج یہ سینٹر تقریباً چار سو پچاسی ٹیرا واٹ گھنٹے بجلی پی رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ دو ہزار تیس تک یہ کھپت دگنی ہو کر ساڑھے نو سو کے قریب جا پہنچے گی۔ یعنی پورے جاپان کی موجودہ کھپت کے برابر۔

ایک بڑا ڈیٹا سینٹر ایک لاکھ گھروں جتنی بجلی نگل جاتا ہے اور جو سب سے بڑے سینٹر اس وقت زیرِ تعمیر ہیں وہ اس سے بیس گنا زیادہ مانگیں گے۔ امریکہ میں یہ سینٹر ملکی بجلی کا چار فیصد سے زائد کھا رہے ہیں اور سرکاری تجزیہ کہتا ہے کہ دو ہزار اٹھائیس تک یہ حصہ بارہ فیصد تک جا سکتا ہے۔ جس گرڈ سے یہ بجلی کھینچتے ہیں، اسی سے عام آدمی کا گھر بھی روشن ہوتا ہے۔

اور میٹا؟ جو کمپنی بچوں کی حفاظت کے لیے دس برس میں سترہ ارب دے گی، وہ صرف اسی ایک سال میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر ایک سو پینتالیس ارب ڈالر تک جھونکنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاوان سے آٹھ گنا زیادہ۔

کسی کی ترجیح جاننی ہو تو اس کی تقریر مت سنیے، اس کا بجٹ دیکھ لیجیے۔

تو سبق کیا ہے؟ سبق یہ ہے کہ احتساب ممکن ہے۔ تمباکو سے یہ سفر شروع ہوا تھا، سوشل میڈیا تک پہنچ گیا ہے اور دیر سویر مصنوعی ذہانت کی اس بے لگام بھوک تک بھی پہنچے گا۔ مگر عدالتیں بہت بعد میں پہنچتی ہیں۔ آپ کے بچے کے پہلے محافظ آپ ہیں۔ دو گھنٹے کی حد قانون نے آج لگائی ہے، آپ کل ہی لگا سکتے ہیں۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui