Tuesday, 14 April 2026
  1. Home/
  2. Arif Anis Malik/
  3. Islamabad Ke Baad Kya Hua?

Islamabad Ke Baad Kya Hua?

ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے کہا: "ہم اسلام آباد ایم او یو سے انچوں کی دوری پر تھے۔ پھر زیادہ سے زیادہ مطالبات آتے گئے، اہداف بدلتے گئے اور ناکہ بندی کا کی دھمکی کا سامنا ہوا"۔

ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کے لیے تالی بجائی اور کہا: "زیادہ تر نکات پر اتفاق ہوگیا تھا مگر جو واحد نکتہ واقعی اہم تھا، ایٹمی، وہ نہیں ہوا"۔

دو جملے۔ دو حقیقتیں۔ دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں اور یہی اسلام آباد کی پوری کہانی ہے۔

12 اپریل 2026 کی صبح وینس نے ایئر فورس ٹو کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے انگوٹھا دکھایا۔ چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر وہ اعلان کیا جس نے پوری تصویر بدل دی: "میں نے اپنی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو روکے اور پکڑے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔ غیر قانونی ٹول ادا کرنے والے کسی جہاز کو محفوظ گزرگاہ نہیں ملے گی۔ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے"۔

یعنی مذاکرات ناکام ہوئے اور امریکہ نے بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ این پی آر نے تصدیق کی: "امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ جلد ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کو روکے گی"۔ یوروو نیوز نے سرخی لگائی: "ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حکم دیا"۔ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر نکل گئی۔ ابھی آج مارکیٹ کھلے گی اور لگتا ہے کہ اربوں ڈالرزز کا خون ہوگا۔

پاسداران انقلاب نے فوری جواب دیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران نے خبردار کیا: "کوئی بھی فوجی جہاز جو آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کرے گا اس سے سختی اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا"۔

اب جو ہو رہا ہے وہ سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ صرف مذاکرات کی ناکامی نہیں، یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

سی این این نے ایک ایسی بات رپورٹ کی جو سب سے زیادہ حیران کن ہے: "پاکستانی سائیڈ حیران تھی کہ مذاکرات کیسے ٹوٹ گئے۔ پاکستان میں یہ تاثر تھا کہ جب ہفتے کی رات سرینا ہوٹل میں آمنے سامنے بیٹھے تو دونوں فریق معاہدے کے عمومی فارمولے کے قریب تھے۔ پاکستان کا یقین تھا کہ کئی دنوں کی بات چیت دونوں فریقوں کو قریب لا سکتی ہے۔ لہذا جب ایک دن سے بھی کم عرصے کی بحث کے بعد وینس نے اعلان کیا کہ مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے تو پاکستانی میزبانوں کے لیے یہ جھٹکا تھا"۔

یہ بات بہت اہم ہے۔ پاکستان نے ایک طویل عمل کی توقع رکھی تھی۔ کیمپ ڈیوڈ جیسا۔ تیرہ دن۔ مگر وینس 21 گھنٹوں میں اٹھ کر چلا گیا۔ پاکستان کو وقت ملنا تھا۔ وقت نہیں ملا۔ الجزیرہ کے اسامہ بن جاوید نے بتایا تھا کہ پاکستان ایک اور دن کی توسیع کے لیے زور لگا رہا تھا۔ مگر وینس نے "آخری اور بہترین پیش کش" کہا اور چلا گیا۔ بازار کا دکاندار ابھی مول تول شروع کر رہا تھا اور خریدار دکان سے نکل گیا۔

مگر عراقچی نے وہ بات کہی جو پوری تصویر بدلتی ہے۔ ایکس پر لکھا: "ہم اسلام آباد ایم او یو سے انچوں کی دوری پر تھے۔ مگر جب قریب پہنچے تو زیادہ سے زیادہ مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی کا سامنا ہوا۔ نیکی کا جواب نیکی ہے۔ دشمنی کا جواب دشمنی ہے"۔

"اسلام آباد ایم او یو" کے الفاظ نوٹ کریں۔ عراقچی نے اسے ایک نام دیا ہے۔ تاریخ میں جب کسی مسودے کو نام ملتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، وہ مرجع بن جاتا ہے۔ اوسلو ایکارڈ، ڈیٹن ایگریمنٹ، کیمپ ڈیوڈ ایکارڈ۔ عراقچی نے "اسلام آباد ایم او یو" کہہ کر اسے تاریخ میں جگہ دے دی ہے۔ اگرچہ یہ دستخط نہیں ہوا مگر اس کا نام پڑ گیا ہے اور جب نام پڑ جائے تو بات آگے بڑھتی ہے۔

این بی سی نیوز نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیا جس نے پردے کے پیچھے کی بات بتائی: "وینس نے مذاکرات کا استعمال دوسرے فریق کی اپنی پوزیشن کے بارے میں تاثر جانچنے کے لیے بھی کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ایرانیوں نے اپنی مذاکراتی طاقت کو غلط سمجھا ہے۔ ایرانی سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس وہ بازی ہے جو امریکہ کے خیال میں ان کے پاس نہیں ہے۔ اسی لیے وینس نے آخری پیش کش دے کر اسلام آباد چھوڑا۔ ایرانیوں کو زمینی حقائق کی پہچان کرنی ہوگی اس سے پہلے کہ وہ سنجیدہ پیش کش پر غور کرنے کو تیار ہوں"۔

یہ بات سب سے خطرناک ہے۔ اس کا مطلب ہے: امریکہ سمجھتا ہے کہ ایران حقیقت سے دور ہے اور اسے حقیقت دکھانی ہوگی۔ حقیقت دکھانے کا مطلب مزید فوجی دباؤ ہے۔ ناکہ بندی اسی "حقیقت دکھانے" کا پہلا قدم ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے دوسری طرف سے بات کی: "بعض مسائل پر ہم واقعی باہمی تفہیم تک پہنچ گئے تھے مگر دو تین اہم مسائل پر فرق رہا اور آخرکار مذاکرات معاہدے پر منتج نہیں ہوئے"۔ پھر کہا: "بات چیت اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب نئے مسائل متعارف کرائے گئے بشمول آبنائے ہرمز اور وسیع تر علاقائی حرکیات کو دائرے سے باہر کی بات ہے"۔

یعنی ایران کا کہنا ہے کہ بات بن رہی تھی مگر امریکہ نے درمیان میں نئے مطالبات رکھ دیے۔ "بدلتے ہوئے اہداف" عراقچی کے الفاظ ہیں۔ "شفٹنگ گول پوسٹس"۔ فٹبال کی اصطلاح۔ گیند جب بھی گول کے قریب پہنچے، ڈنڈے ہٹا دیے جائیں۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ایکس پر لکھا: "مجھے تاثر تھا جب میں وینس سے جنگ شروع ہونے سے پہلے ملا تھا کہ نائب صدر اور ٹرمپ جنگ کی الجھنوں سے بچنے کی حقیقی اور مضبوط خواہش رکھتے ہیں۔ لہذا میں اپیل کرتا ہوں کہ جنگ بندی میں توسیع ہو اور مذاکرات جاری رہیں۔ کامیابی کے لیے شاید سب کو تکلیف دہ رعایتیں دینی ہوں گی مگر یہ ناکامی اور جنگ کی تکلیف کے مقابلے میں کچھ نہیں"۔

یہ عمان کی آواز ہے۔ وہ عمان جو 2015 کے ایٹمی معاہدے میں ثالث تھا۔ وہ عمان جس نے فروری 2026 میں جنگ سے عین پہلے "پیشرفت قریب ہے" کا اعلان کیا تھا۔ اب وہی عمان کہہ رہا ہے: "جنگ بندی بڑھاؤ، بات جاری رکھو"۔

سی این این کے مطابق عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ برلن، پیرس اور لندن سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایرانی حکمت عملی کا اگلا مرحلہ ہے: یورپی محاذ۔ اگر امریکہ سے بات نہیں بنتی تو یورپ کو شامل کرو۔ یورپ کو شامل کرنے کا مقصد دوہرا ہے: ایک، امریکی اتحاد میں دراڑ ڈالنا۔ دو، 2015 والا فریم ورک واپس لانا جس میں یورپ شریک تھا اور جسے ٹرمپ نے 2018 میں پھاڑا تھا۔ ایران سمجھتا ہے کہ یورپ ٹرمپ سے تنگ ہے اور اس تنگی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے پہلے ہی کہا ہے کہ وہ ایران جنگ پر ٹرمپ سے "تنگ آ گئے" ہیں۔

اب سب سے بڑا سوال: 22 اپریل کو کیا ہوگا؟

جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ امریکہ نے ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ ایران نے "سختی سے نمٹنے" کی دھمکی دی۔ وینس کی "آخری اور بہترین پیش کش" میز پر ہے۔ غالیباف نے "اعتماد جیتو" کہا ہے۔ عراقچی نے یورپی محاذ کھولا ہے۔ ٹرمپ نے "مکمل بحری ناکہ بندی" کا حکم دیا ہے۔

ممکنہ منظرنامے تین ہیں:

پہلا: جنگ بندی ختم ہو جائے اور جنگ دوبارہ شروع ہو۔ ٹرمپ کی ناکہ بندی اور پاسداران کی دھمکی اسی سمت اشارہ کرتی ہے۔ مگر ٹرمپ خود کہہ چکا ہے کہ "زیادہ تر نکات پر اتفاق ہوگیا تھا"۔ جنگ دوبارہ شروع کرنا اس اعتراف کے بعد مشکل ہے۔

دوسرا: جنگ بندی میں توسیع ہو اور مزید مذاکرات ہوں۔ عمان نے اپیل کی ہے۔ پاکستان نے دروازہ کھلا رکھا ہے۔ ایران نے "سفارتکاری ختم نہیں ہوتی" کہا ہے۔ مگر اس کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی پوزیشن میں لچک دکھانی ہوگی اور ابھی تک کسی نے لچک نہیں دکھائی۔

تیسرا: بیک چینل ڈپلومیسی۔ ظاہری طور پر مذاکرات ناکام نظر آئیں مگر پردے کے پیچھے پاکستان، عمان اور چین کے ذریعے بات جاری رہے۔ عراقچی نے "پاکستان اور دوست پڑوسی ممالک" سے مشاورت کی بات کی ہے۔ ڈار نے "سہولت فراہم کرتے رہیں گے" کہا ہے۔ اصل سفارتکاری اکثر پردے کے پیچھے ہوتی ہے۔

ایک چوتھا منظرنامہ بھی ہے جو کسی نے زور سے نہیں کہا مگر ہوا میں ہے: ناکہ بندی خود ایک مذاکراتی ہتھیار ہے۔ ٹرمپ نے پہلے بھی "تمام تہذیب ختم ہو جائے گی" کہا تھا اور پھر جنگ بندی قبول کی تھی۔ ناکہ بندی کا مقصد شاید ایران پر مزید دباؤ ڈالنا ہے تاکہ "آخری اور بہترین پیش کش" قبول کرے۔ ایران کے لیے یہ ایک اور امتحان ہے: کیا وہ دباؤ میں آ کر پیش کش قبول کرے گا یا مزید سختی دکھائے گا؟

فارسی صبر اور امریکی بے صبری کا مقابلہ جاری ہے۔ بازار ابھی بند نہیں ہوا۔ دکاندار ابھی دکان میں بیٹھا ہے۔ خریدار سڑک پر جا رہا ہے مگر سڑک کے آخر میں ناکہ لگا رہا ہے۔ ثالث ابھی دروازے پر کھڑا ہے اور دونوں کو دیکھ رہا ہے۔

ڈار نے سب سے اہم جملہ کہا: "فریقوں کو جنگ بندی کے اپنے عہد پر قائم رہنا ضروری ہے"۔

"ضروری" وہ لفظ ہے جو سفارتی زبان میں آخری حد ہوتا ہے۔ ڈار نے امریکہ اور ایران دونوں کو پیغام دیا ہے: بم مت گراؤ، بات کرو۔ مگر سنے گا کون؟

تہران کے انقلاب چوک پر بل بورڈ ابھی لگا ہوا ہے: "آبنائے ہرمز بند ہے"۔ واشنگٹن میں ٹرمپ کا حکم جاری ہو چکا ہے: "ناکہ بندی فوری طور پر نافذ العمل"۔ ایک نے بند کیا ہے۔ دوسرے نے ناکہ لگایا ہے۔ دونوں نے ایک ہی پانی کو اپنا ہتھیار بنایا ہے۔

اور اس پانی کے درمیان جہاز کھڑے ہیں۔ تیل کے ٹینکر۔ تجارتی بحری جہاز۔ ماہی گیروں کی کشتیاں۔ بارودی سرنگیں جو ایران نے بچھائیں مگر خود نہیں ڈھونڈ سکتا اور دو تباہ کن جہاز جو سینٹرل کمانڈ نے بھیجے ہیں۔

سب ایک ہی21 بحری میل چوڑی آبنائے ہرمز میں ہیں جہاں ایک غلطی، ایک غلط فہمی، ایک غلط حساب پورے خطے کو دوبارہ آگ میں دھکیل سکتا ہے۔ پوری دنیا ایک دفعہ پھر دم سادھے خلیج کی جانب دیکھ رہی ہے۔

اسلام آباد کا کام ختم نہیں ہوا، بلکہ ابھی شروع ہوا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais