Tuesday, 17 March 2026
  1. Home/
  2. Arif Anis Malik/
  3. Mazahmat, Zindabad

Mazahmat, Zindabad

ایران یہ جنگ جیت رہا ہے۔ یہ جملہ عجیب لگتا ہے۔ ایک ملک جس کے شہر جل رہے ہیں، جس کا سپریم لیڈر قتل ہو چکا ہے، جس پر بی ٹو بمبار بلا روک ٹوک اڑ رہے ہیں، وہ جیت رہا ہے؟

ہاں۔ کیونکہ جنگ صرف بموں سے نہیں جیتی جاتی۔ جنگ اس وقت جیتی جاتی ہے جب سامنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اب آگے کیا کروں۔ ٹرمپ آج یہی سوچ رہا ہے اور جب طاقتور سوچنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ کمزور نے اپنا کام کر دیا۔

آبنائے ہرمز۔ یہ نام یاد رکھیے۔ کیونکہ اس تنگ سے راستے میں آج دنیا کی قسمت پھنسی ہوئی ہے۔

باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی۔ لیکن عملی طور پر تجارتی بحری جہازوں کے لیے بند ہے۔ اکیس ملین بیرل تیل روزانہ اس راستے سے گزرتا تھا۔ دنیا کے تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ۔ لیکن آج انشورنس کمپنیاں کروڑوں ڈالر کے جہازوں پر ڈرونز، راکٹوں اور بارودی سرنگوں کا خطرہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی بحریہ، اپنی تمام تر طاقت کے باوجود، تجارتی جہازوں کی حفاظت کا کوئی طریقہ نہیں نکال سکی۔

دنیا کو اس کے سب سے اہم ایندھن سے کاٹنے اور نہ کاٹنے کے درمیان صرف ایک پائپ لائن کھڑی ہے۔ سعودی عرب سے گزرنے والی پائپ لائن جو پوری صلاحیت پر ستر لاکھ بیرل روزانہ بہا سکتی ہے۔ یو اے ای کی ایک اور پائپ لائن ہے جو پندرہ لاکھ بیرل سنبھال سکتی ہے۔ دونوں ایرانی ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔

امریکہ کا اسٹریٹیجک ریزرو روزانہ چوالیس لاکھ بیرل مارکیٹ میں ڈال سکتا ہے۔ باقی دنیا مزید بیس لاکھ بیرل کا اضافہ کر سکتی ہے۔ لیکن اس رفتار سے ذخائر نوے دنوں میں ختم ہو جائیں گے اور جس لمحے منڈیوں کو محسوس ہوا کہ وقت ختم ہونے لگا ہے، اس لمحے تباہی آئے گی۔ منڈیاں حقیقت کا انتظار نہیں کرتیں۔ منڈیاں خوف کا انتظار کرتی ہیں۔

اور یہ صرف تیل نہیں۔ دنیا کی بیس فیصد ایل این جی بند۔ دنیا کی پچیس فیصد یوریا سپلائی بند جو کھاد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ خلیجی ریاستوں کی معیشتیں لڑکھڑا رہی ہیں۔ یو اے ای اور قطر کے ایوی ایشن سیکٹر دباؤ میں ہیں۔

ٹرمپ کو اگلے ایک مہینے میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز گزارنے ہیں ورنہ مکمل معاشی بحران آئے گا۔ لیکن راستے بند ہو رہے ہیں۔

"سر کو نشانہ بناؤ اور دھڑ گر جائے گا"۔ یہ حکمتِ عملی تھی۔ سپریم لیڈر قتل کر دیا گیا۔ سینئر رہنما ختم کیے گئے۔ لیکن جسم نہیں گرا۔ نظام بغیر سر کے چل رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای جانشین مقرر ہو گئے۔ وہ آدمی جس کے باپ کو امریکہ نے مارا ہے۔ وہ ان لوگوں کے سامنے نہیں جھکے گا جنھوں نے اس کے باپ کا خون بہایا۔ یہ وینزویلا کی ڈیلسی روڈریگز نہیں جو تخت قبول کر لے کٹھ پتلی ملکہ بن کر۔ یہ خون کا حساب ہے اور خون کا حساب نسلوں تک چلتا ہے۔

تہران نے پہلا حملہ برداشت کیا اور جوابی حملہ ایسی طاقت سے کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ ایران کا مقصد واضح ہے اور حاصل کرنے کے قابل ہے: امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اتنا معاشی نقصان پہنچاؤ کہ آنے والا کوئی بھی امریکی صدر کبھی ایران سے الجھنے کی جرأت نہ کرے۔ یہ حکومت اس جنگ کو اپنی ابدی سلامتی کا ضامن بنانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے ایرانی فوج کو امریکی فوج کو شکست دینے کی ضرورت نہیں۔ صرف اتنی قیمت وصول کرنی ہے کہ جنگ ناقابلِ برداشت ہو جائے۔

ٹرمپ خود تسلیم کر چکا ہے کہ نشانے ختم ہو گئے۔ مارنے کو کچھ نہیں بچا۔ تو ایران میزائل اور ڈرون داغتا رہے گا۔ جب تک سانس ہے، داغتا رہے گا۔ تہران کو یقین ہے کہ وہ اس افراتفری میں وائٹ ہاؤس سے زیادہ دیر ٹک سکتا ہے۔ ایران کو نومبر میں مڈ ٹرم الیکشن نہیں لڑنے۔ ٹرمپ کو لڑنے ہیں اور یہ فرق ہی فیصلہ کن ہے۔

تو اب ٹرمپ کے پاس کیا بچا؟

پہلا راستہ: کمزوری کی حالت میں جنگ بندی قبول کرے۔ شرائط تہران کی ہوں گی۔ ذلت آمیز واپسی ہوگی۔ البتہ ٹرمپ کی ایک صلاحیت بے مثال ہے، وہ اپنی شکست کو بھی اپنے حامیوں کو فتح کے طور پر بیچ سکتا ہے۔ یہ ہنر اس کے علاوہ کسی کے پاس نہیں۔

دوسرا راستہ: آبنائے ہرمز کو اتنا محفوظ بنائے کہ انشورنس کمپنیاں خطرہ قبول کریں۔ لیکن یہ ایرانی سرزمین پر فوج اتارے بغیر ممکن نہیں دکھتا اور جس دن ایرانی زمین پر امریکی بوٹ پڑا، اس دن دلدل شروع ہوگی۔ وہ دلدل جس سے نہ عراق نکل سکا، نہ افغانستان۔

ٹرمپ نے یہ جنگ اس یقین سے شروع کی تھی کہ دنوں میں ختم ہو جائے گی۔ پلان بی نہیں تھا۔ آج بھی نہیں ہے۔ ایرانی نظام گرنے کے آثار نہ آج ہیں نہ مستقبلِ قریب میں دکھائی دیتے ہیں۔

تو سوال وہی ہے جو اس جنگ کے پہلے دن سے ہے اور آج بھی بے جواب ہے: اگر ایران لڑنا چاہے تو ٹرمپ واپس کیسے جائے گا؟

یہ سوال ٹرمپ کا نہیں۔ یہ سوال ہر اس طاقت کا ہے جو جنگ شروع کرتے وقت یہ بھول جاتی ہے کہ جنگ شروع کرنا آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ختم کرنا کبھی نہیں ہوتا۔

افغانی روسیوں کو کہتے تھے، تمہارے پاس گھڑی ہے، ہمارے پاس وقت ہے۔ اب یہی وقت ایران کے پاس ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ٹرمپ کی گھڑی کتنی مہنگی ہے۔ بس اس کے پاس وقت نہیں ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais