Thursday, 02 April 2026
  1. Home/
  2. Arif Anis Malik/
  3. Pakistan Ki Geedar Singhi Kya Hai?

Pakistan Ki Geedar Singhi Kya Hai?

پچھلے ایک برس سے دنیا ٹرمپ کی پاکستان پر نوازشات پر حیران اور کچھ پریشان ہے ویسے تو ٹرمپ کسی بھی وقت بم کو لات مار سکتا ہے، تاہم اس معاملے میں ابھی تک یکسو ہے۔

وہ جہازوں کی گنتی، وہ میرا فیورٹ فیلڈ مارشل کی گردان!

میں یہ بیک سٹیج سٹوری جانتا ہوں۔ یہ ٹرن راؤنڈ کیسے ہوا؟ بریک تھرو کیسے ملا؟ تاہم اس لیے منہ بند رکھا کہ بندہ اپنے گھر کا ہے۔ آج بلومبرگ نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے تو اب چپ رہنا نہیں بنتا۔ یہ الگ بات کہ اس بات پر ایک کتاب بنتی ہے کہ یہ بہت ہی فلمی واردات ہے۔

پاکستان کی ٹرمپ والی گدڑ سنگھی ایک بندہ بنا۔ جس کا نام ہے۔ بلال بن ثاقب۔ پینتیس سال۔ پاکستان کا کرپٹو منسٹر اور باقی دنیا کے لیے کرپٹو برو!

کالج کی فیس کے پیسے نہیں تھے۔ تین نوکریاں کیں۔ ایک نوکری ٹوائلٹ صاف کرنے کی تھی۔ خود بتاتا ہے۔ چھپاتا نہیں۔ شرماتا نہیں۔ لندن سکول آف اکنامکس سے پڑھا۔ فوربز کی تیس سے کم عمر تیس نمایاں شخصیات کی فہرست میں آیا۔ کووِڈ کے دوران میرے ساتھ ون ملین میلز کی بنیاد رکھی، برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے ایم بی ای کا شاہی اعزاز دیا۔

آج بلومبرگ نے اس پر کہانی لکھی ہے۔ سرخی پڑھیں: "پینتیس سالہ بندے نے پاکستان کو ٹرمپ کی دنیا میں داخل کروا دیا"۔ ٹائمز آف انڈیا نے کہا کہ "بپلومیسی کے زریعے بلال نے پاکستان کو ٹرمپ کے خیمے میں داخل کر دیا"۔

اسلام آباد کی ایک تقریب کی تصویر دیکھیں۔ بیچ میں امریکی صدر کے مشیر وٹکوف کا بیٹا کھڑا ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم۔ دوسری طرف فیلڈ مارشل اور فیلڈ مارشل کے ساتھ بلال بن ثاقب۔ بلومبرگ نے لکھا: "یہ وہ شخص ہے جس نے گزشتہ سال پاکستان اور امریکہ کے رشتے کی کایا پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا"۔

کلیدی کردار۔ بلومبرگ کے الفاظ ہیں۔ میرے نہیں۔

اب اس بندے کو سمجھیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے بلال کا نہ سیاسی خاندان ہے۔ نہ فوجی پس منظر۔ نہ بیوروکریٹ گھرانہ۔ نہ کسی کا بیٹا، نہ کسی کا داماد، نہ کسی کا بھانجا۔ وہ خالص اپنی محنت سے اٹھا ہے۔ نکے نکے کام کرنے سے لے کر اس مقام تک جہاں فارن پالیسی میگزین لکھتا ہے کہ اس آدمی نے جو پل بنایا وہ ٹرمپ انتظامیہ میں پاکستان کے بڑھتے اثر و رسوخ کی "بنیادی وجہ" ہے۔

اب سنیں کہ یہ پل بنا کیسے۔

اپریل دو ہزار پچیس۔ بلال نے پہلے چانگ پینگ ژاؤ کو پاکستان بلایا۔ دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائنینس کا بانی۔ تین ہفتے بعد ٹرمپ خاندان کے کرپٹو پلیٹ فارم ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سربراہ زیکری وٹکاف کو اسلام آباد بلایا۔ وزیر خزانہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ بلال خود اپریل میں ورلڈ لبرٹی فنانشل کا مشیر بنا۔ مئی میں وزیر مملکت کے درجے کے ساتھ وزیر اعظم کا خصوصی معاون مقرر ہوا۔ حکومت نے دو ہزار میگا واٹ بجلی بِٹ کوائن کی کان کنی اور مصنوعی ذہانت کے لیے مختص کی۔ مئی میں زیکری لاہور آئے، شالامار باغ سے بلال کے ساتھ ویڈیو گفتگو کی، پاکستان کے نادر معدنیات کو ٹوکنائز کرنے اور تیسری سب سے بڑی غیر بینک شدہ آبادی تک ڈیجیٹل خدمات پہنچانے کی بات ہوئی۔ فروری دو ہزار چھبیس میں بلال مارالاگو میں تھا، ٹرمپ خاندان کی میزبانی میں، گولڈمین سیکس اور نیسڈیک کے سربراہوں کے ساتھ۔

اب دیکھیں کہ یہ دھاگہ کہاں پہنچا۔ زیکری کے والد اسٹیو وٹکاف آج ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی ہیں۔ انھی کے ذریعے پندرہ نکاتی امن منصوبہ ایران کو پہنچایا گیا۔ سی این این کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس چیف وٹکاف اور کشنر سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ فارن پالیسی نے لکھا: "پاکستان نے امریکی فریق کے کلیدی کھلاڑی کے خاندان سے قریبی تعلق بنایا ہے اور اس نے ٹرمپ انتظامیہ میں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھایا ہے"۔ سٹیو وٹکوف کے بیٹے کا کاروباری رشتہ باپ کا سفارتی رشتہ بن گیا اور وہ سفارتی رشتہ اکیسویں صدی کی سب سے خطرناک جنگ میں ثالثی کی بنیاد بن گیا۔

فارن پالیسی میگزین نے گزشتہ ہفتے لکھا تھا کہ پاکستان کا وٹکاف خاندان سے تعلق ٹرمپ انتظامیہ میں اسلام آباد کا اثر و رسوخ بڑھانے کی بنیادی وجہ ہے۔ اسٹیو وٹکاف آج مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ہیں۔ انھی کے ذریعے پندرہ نکاتی امن منصوبہ ایران کو پہنچایا گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کا براہ راست رابطہ ہے۔ بلومبرگ نے لکھا کہ وٹکاف نے خود تصدیق کی کہ پاکستان نے پندرہ نکاتی منصوبہ ایران تک پہنچایا۔

اور یہ رشتہ وٹکاف خاندان سے بنانے والا بلال ہے۔

اس پوری کہانی میں، ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی میں، نیویارک ٹائمز کی سرخیوں میں، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹوں میں، رائٹرز کے نکسن والے موازنے میں، ان سب کے پیچھے ایک دھاگہ ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔ وہ دھاگہ ایک ذاتی رشتہ ہے۔ ایک پینتیس سالہ پاکستانی نوجوان نے ایک بتیس سالہ امریکی سے جو رابطہ بنایا، اسی رابطے نے فیلڈ مارشل اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اعتماد کی بنیاد رکھی جس نے فیلڈ مارشل کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات ممکن بنائی اور بریک تھرو ہوا۔ اسی اعتماد نے پاکستان کو ثالث بنایا۔ اسی ثالثی سے اکیسویں صدی کی خطرناک ترین جنگ میں امن کی کھڑکی کھلی۔

دنیا سوچتی ہے کہ بڑے فیصلے بڑے لوگ کرتے ہیں۔ غلط۔ بڑے فیصلوں کی بنیاد چھوٹے رشتے ہوتے ہیں۔ پردے کے پیچھے کا وہ بندہ جس کا نام سرخیوں میں نہیں آتا، وہی اصل کھلاڑی ہوتا ہے۔۔

اب ذرا سوچیں کہ یہ بندہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔

یہ سفارتکار نہیں ہے۔ سیاست دان نہیں ہے۔ جنرل نہیں ہے۔ یہ وہ بندہ ہے جو لوگوں سے ملتا ہے۔ رشتے بناتا ہے۔ اعتماد قائم کرتا ہے اور پھر وہ اعتماد کام کرتا ہے۔ خاموشی سے۔ پردے کے پیچھے سے۔ بغیر سرخیوں کے۔

پاکستان کی ثالثی کی سرخیوں کے پیچھے ایک سوال ہے جو کوئی نہیں پوچھتا: یہ رشتہ بنا کیسے؟ فیلڈ مارشل اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اعتماد کی بنیاد کس نے رکھی؟ وہ پہلا دروازہ کس نے کھولا جس سے باقی سب دروازے کھلے؟

بلومبرگ نے آج جواب دیا ہے۔ بلال بن ثاقب۔

اس کہانی میں سب سے بڑی بات یہ نہیں ہے کہ پاکستان ثالث بنا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی جغرافیائی سیاسی تبدیلی کے پیچھے ایک ذاتی رشتہ ہے۔ ایک انسان نے دوسرے انسان سے تعلق بنایا۔ اس تعلق نے ادارے جوڑے۔ اداروں نے ممالک جوڑے۔ ممالک نے جنگ اور امن کا فیصلہ کرنے والی میز پر نشست حاصل کی۔

دنیا سمجھتی ہے تاریخ فوجوں سے بدلتی ہے۔ معاہدوں سے بدلتی ہے۔ ہتھیاروں سے بدلتی ہے۔ غلط۔ تاریخ رشتوں سے بدلتی ہے۔ صحیح وقت پر صحیح آدمی سے صحیح تعلق بنانے سے بدلتی ہے۔ بلال نے یہی کیا۔

اور بلال کی کہانی میں ایک اور گہرائی ہے جو بلومبرگ نے نہیں لکھی مگر جو لکھنی چاہیے۔ یا شاید مجھے لکھنی چاہیے جو اس کے پچھلے دس برس کے سفر کا ہمراز ہے۔

جو بندہ لندن میں اپنے قیام کے ابتدائی دنوں میں اپنی فیسیں دینے کے لیے ٹوائلٹ صاف کر چکا ہو اس کے لیے کوئی ملاقات مشکل نہیں۔ کوئی دروازہ بھاری نہیں۔ کوئی شخصیت بڑی نہیں۔ کیونکہ جو سب سے نیچے جا چکا ہو وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوتا۔ جو مرعوب نہیں ہوتا وہ برابری سے بات کرتا ہے۔ جو برابری سے بات کرتا ہے اس پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ اعتماد ہی سب کچھ ہے۔

بلال کو جب ٹرمپ کی کمپنی میں ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تو شاید میں پہلا فرد تھا جس سے اس نے رابطہ کیا اور کہا، "یہی وہ خواب تھا جسے ہم دیکھا کرتے تھے۔ وہ سارے دروازے کھولنے کا شکریہ جن سے گزر کر میں یہاں تک پہنچا ہوں"۔ تب معلوم نہیں تھا کہ اوپر والے کا پروگرام اس سے بھی اوپر ہے۔

میں نے زندگی میں ہزاروں ہائی اچیورز سے ملاقات کی ہے۔ ستانوے ممالک سے زائد میں۔ ایک بات مشترک ہے۔ جو لوگ واقعی اوپر آئے ہیں، نیچے سے اوپر آئے ہیں، ان کے اندر ایک چیز ہوتی ہے جو وراثت میں نہیں ملتی: بے خوفی۔ یہ بے خوفی بیت الخلا صاف کرنے سے آتی ہے۔ دو وقت کی روٹی کے لیے ذلت برداشت کرنے سے آتی ہے اور جب یہ بے خوفی قابلیت سے مل جائے تو جو بنتا ہے اسے دنیا "گیم چینجر" کہتی ہے۔

بلال بن ثاقب آج وہ گیم چینجر ہے۔

مگر اس کہانی میں آخری سبق یہ ہے۔

لوگ پوچھتے ہیں کامیابی کا راز کیا ہے۔ ڈگری؟ نہیں۔ خاندان؟ نہیں۔ سرمایہ؟ نہیں۔ رشتے۔ حقیقی رشتے۔ ذاتی رشتے۔ وہ رشتے جو مفاد سے نہیں، اعتماد سے بنتے ہیں۔ بلال نے اعتماد کے رشتے کی بنیاد پر ایک پل بنایا اور اس پل پر دو بڑے ملک ایک اور طرح سے دوبارہ مل پائے۔

صفر سے شروع کرنے والا آج بلومبرگ کی سرخی ہے۔

اور سرخی بننا آسان ہے۔ وہ بندہ بننا مشکل ہے جو صفر سے شروع کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais