Wednesday, 16 September 2026
  1. Home/
  2. Arif Anis Malik/
  3. Shaala Hayati Hovi

Shaala Hayati Hovi

13 ستمبر کو ماسی منور بھی چلی گئیں، وہیں جہاں اماں چلی گئیں، ابا چلے گئے، جدھر ہم سب نے اپنے اپنے وقت پر جانا ہے۔ وادیِ سون میں سردیاں پہاڑوں سے اترتی ہیں۔ پہلے سکیسر کی چوٹی پر دھند کا ہلکا سا دوپٹہ آتا ہے، پھر رات کو کھیتوں پر کورا پڑتا ہے اور صبح گندم کی نئی کونپلیں چاندی کی طرح چمکنے لگتی ہیں۔ انگہ کے کچے گھروں کی چھتوں سے اپلوں کا دھواں اٹھتا ہے اور گلیوں میں وہ خاموشی اتر آتی ہے جو صرف پہاڑی گاؤں کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔

برسوں پہلے انہی دنوں کی ایک صبح صحن کا لکڑی کا دروازہ چرچرایا۔

میں ابھی اتنا چھوٹا تھا کہ دروازے کی کنڈی تک میرا ہاتھ نہیں پہنچتا تھا۔ سامنے وہ کھڑی تھیں۔ چار بہنوں اور ماموں عزیز سب سے بڑی، سبز چادر میں لپٹی ہوئی، رات بھر کے سفر کی گرد پلکوں پر، ایک ہاتھ میں کپڑے کی پوٹلی اور دوسرے ہاتھ سے چادر کا پلو سنبھالے ہوئے اور چہرے پر وہ مسکراہٹ جو میں نے پھر عمر بھر ان کے چہرے سے اترتے نہیں دیکھی۔ یہ مسکراہٹ زور سے نہیں ہنستی تھی۔ یہ بس چہرے پر ٹھہری رہتی تھی، جیسے کسی طاق میں دیا رکھا ہو۔

پوٹلی میں گجک تھی۔

انگہ وادی نمک کے پہاڑوں کے بیچ ایک سبز کٹورا ہے۔ ایک طرف اُچھالی کی کھاری جھیل ہے جس کا پانی دھوپ میں سیسے کی طرح چمکتا ہے اور جس کے کنارے سردیوں میں پردیسی پرندے اترتے ہیں۔ دوسری طرف کھبیکی اور جھالر اور ان کے گرد سیڑھی دار کھیت جن میں گندم، چنے اور سرسوں کی زرد چادر باری باری بچھتی ہے۔ پھلائی اور کیکرکے کٹھور درخت، چٹانوں سے پھوٹتے چشموں کا میٹھا پانی، لوکاٹ کے باغ اور ان سب کے اوپر سکیسر کا سایہ ہے۔

اس مٹی کے لوگ بھی اس مٹی جیسے ہیں۔ باہر سے سخت اور کھردرے، اندر سے چشمے کی طرح میٹھے۔ کم بولنے والے، بہت سہنے والے اور مہمان کے آگے اپنا آخری نوالہ رکھ دینے والے۔

ماسی اسی مٹی کی بیٹی تھیں۔ ان کے وجود میں یہ ساری وادی سمٹ آئی تھی۔ چشمے کی مٹھاس، پہاڑ کا صبر اور کھیت کی خاموش محنت۔

گجک والی پوٹلی کھلی تو صحن میں تل اور گڑ کی وہ خوشبو پھیل گئی جس کا میں سال بھر انتظار کرتا تھا۔ خالہ جی نے ایک بڑا ٹکڑا توڑا، اسے ہتھیلی پر رکھ کر آہستہ سے میری طرف بڑھایا اور کہا، "پُتر، یہ تیرے لیے رکھی تھی"۔

برسوں بعد سمجھ آئی کہ اس ایک جملے میں ان کی پوری سیرت بند تھی۔ جو کچھ ان کے پاس تھا، وہ کسی اور کے لیے رکھا ہوا تھا۔

بچے کی یادداشت بھی عجیب ہوتی ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ گجک کس نے دی اور یہ کہ میں نے طارق بھائی، رفعت اور کلثوم سے زیادہ کھانی ہے، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ دینے والے نے خود کھائی یا نہیں۔ بہت بعد میں، جب میں خود گھر بسا چکا تھا، ایک دن یاد کرنے بیٹھا۔ مجھے ایک بھی ایسا منظر یاد نہ آیا جس میں خالہ جی خود گجک کھا رہی ہوں۔ وہ بانٹنے والی تھیں، کھانے والی نہیں۔

وہ ان اعوانوں میں بیاہی گئی تھیں جو نئی زمینوں کی آس میں پہاڑ چھوڑ کر جنوب کے میدانوں، دنیا پور کی طرف اتر گئے تھے۔ جہاں سکیسر کی ٹھنڈی ہوا کی جگہ لُو چلتی ہے، چشموں کی جگہ نہریں بہتی ہیں اور پہاڑی ڈھلوانوں کی جگہ افق تک پھیلے ہوئے کپاس کے کھیت ہیں۔ پہاڑ کا آدمی میدان میں جا کر دو دن میں نہیں بدلتا، دو نسلوں میں بدلتا ہے۔ اعوانوں کا لہجہ آہستہ آہستہ سرائیکی مٹھاس میں گھلنے لگا، مگر خالہ جی کے اندر وادی ویسی کی ویسی رہی۔

ہر سال وہ پہاڑ اور میدان کے بیچ کا لمبا سفر کاٹتیں۔ وہ صرف گجک نہیں لاتی تھیں۔ وہ ایک پورا موسم اپنے ساتھ لاتی تھیں۔ جب تک وہ رہتیں، صحن میں کچھ اور ہی روشنی رہتی اور جب جاتیں تو پیچھے ایک ایسا خالی پن چھوڑ جاتیں جو اگلی سردیوں تک نہیں بھرتا تھا۔ پہاڑ اور میدان کے درمیان وہ ایک رسّی کی طرح تنی رہیں، دونوں کناروں کو تھامے ہوئے۔

ان کا ایک بیٹا ہے، ناصر۔ ایک ہی۔ میرا ہم عمر۔ ہم عمر لوگ یا تو حریف بنتے ہیں یا ہم راز۔ ہم دوسری قسم کے نکلے۔ ہم نے دنیا اکٹھی کھوجی۔ پہلے صحن، پھر گلی، پھر کھیت، پھر وہ ٹیلے جہاں سے جھیل نظر آتی تھی، پھر کتابیں، پھر شہر، پہلی فلم، پہلی مار، پہلی ٹکر۔ دنیا کھوجنے کے لیے ایک بیس کیمپ چاہیے ہوتا ہے۔ ہمارا بیس کیمپ خالہ جی کا صحن تھا۔

پہلے لفظ کی بات۔ میں انہیں خالہ نہیں لکھ سکتا۔ وہ ماسی تھیں۔

لغت کہتی ہے ماسی پنجابی میں ماں کی بہن کو کہتے ہیں۔ پنجابی کہتی ہے ماسی یعنی ماں سی۔ ماں جیسی۔ لغت رشتہ بتاتی ہے۔ پنجابی درجہ بتاتی ہے۔

اردو کے پاس خالہ ہے۔ عربی سے آیا ہوا معزز لفظ۔ اس میں ادب ہے، فاصلہ بھی ہے۔ خالہ ملنے آتی ہیں۔ ماسی گھر میں رہتی ہے۔

ماسی کا بیٹا مسیر ہوتا ہے۔ اردو میں اسے خالہ زاد بھائی کہتے ہیں۔ تین لفظ۔ جیسے رشتہ نہ ہو، فارم ہو۔ انگریز کا حال اور برا ہے۔ اس کے پاس ایک لفظ ہے، کزن۔ آٹھ رشتے ایک لفظ میں ٹھونس رکھے ہیں۔ پنجابی نے ہر رشتے کو اپنا لفظ دیا ہے۔ مسیر، پھپھیر، چچیر۔

زبان وہی رشتے ایک لفظ میں رکھتی ہے جن کے ساتھ وہ رہتی ہے۔ اردو دیوان کی زبان ہے، محفل کی، دفتر کی۔ پنجابی ویہڑے کی زبان ہے۔ ویہڑے میں ماسی روز آتی ہے۔ اس کے لیے ایک لفظ کافی ہے۔

شہروں نے ماسی کو نوکرانی بنا دیا ہے۔ کام والی ماسی۔ گاؤں میں وہ ابھی تک ماں سی ہے۔

پھر میں انگہ سے ملتان چلا گیا۔ ناصر بھی آ گیا۔ تین مہینے رہا۔ پھر واپس چلا گیا۔

وجہ؟ وہ اکلوتا بیٹا تھا۔

خلا باز چھ مہینے زمین سے دور رہ لیتے ہیں۔ اکلوتے بیٹے کی ماں سے دوری کی حد تین مہینے نکلی۔ ملتان اور دنیا پور کے درمیان فاصلہ کچھ خاص نہیں ہے۔ ماں اور اکلوتے بیٹے کے درمیان فاصلہ صفر ہوتا ہے۔ ناصر صفر پر واپس چلا گیا۔

یہ ڈوری کبھی نہیں ٹوٹی۔ برسوں بعد ناصر خود ملتان آیا، پھر اسلام آباد گیا۔ ماسی جہاں وہ گیا وہاں پہنچ گئیں۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھیں اور اس نے ماں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ کچھ رشتے سنبھالنے نہیں پڑتے۔ وہ خود کو سنبھالتے ہیں۔

ناصر کی شادی رفعت بہن سے ہوئی۔ پھر شاہ میر آیا، پھر مریم۔ دادی کا کام یوں تو پوتے پوتیوں کو بگاڑنا ہوتا ہے۔ ماسی یہ کام بھی خاموشی سے کرتی تھیں۔

اور پھر علی۔

علی خاص بچہ ہے۔ بول نہیں سکتا۔ دنیا جسے سپیشل کہتی ہے، ماسی اسے علی کہتی تھیں۔ انہوں نے اپنے آخری برس علی کے نام کر دیے۔ نہلانا، کھلانا، سلانا، اٹھانا۔ گھنٹوں اس کے پاس بیٹھنا۔ جس کے لیے دنیا کے پاس رحم ہے، اس کے لیے ماسی کے پاس وقت تھا۔ رحم سستا ہے۔ وقت مہنگا۔

گھر میں دو لوگ تھے جو بولتے نہیں تھے۔ ایک بول نہیں سکتا تھا، ایک بولتی نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو سب سے بہتر سمجھتے تھے۔ زبان رابطے کی سب سے کمزور شکل ہے۔ سب سے مضبوط شکل حاضری ہے۔ ماسی حاضر رہتی تھیں۔

ماسی کی زندگی میں ایک ہی دشمن تھا۔ ڈاکٹر۔

میری اماں ان کی چھوٹی بہن تھیں۔ دمے نے انہیں آخری پندرہ بیس برس سے ڈاکٹروں کے ساتھ باندھے رکھا۔ ماسی ساری عمر ڈاکٹروں سے بھاگتی رہیں۔ گردے، ہیپاٹائٹس سی، ٹی بی، پِتّہ نکلوانا اور بھی بہت کچھ۔ بیماریوں کی فہرست لمبی تھی۔ شکایتوں کی فہرست خالی۔

مولیئر نے ایک ڈرامہ لکھا تھا، خیالی مریض۔ ایک آدمی جو بیمار نہیں ہے اور ڈاکٹروں سے نکل نہیں پاتا۔ ماسی اس کا الٹ تھیں۔ بیمار تھیں اور ڈاکٹروں کے ہاتھ نہیں آتی تھیں۔

وہ ہر کام خود کرتی تھیں۔ ہم سبھی لڑتے رہ جاتے، ملازم رکھنے کا مشورہ دو تو مسکرا دیتیں۔ ماسی نے کبھی ماسی نہیں رکھی۔

ہم سمجھتے تھے وہ آرام نہیں کرتیں۔ وہ سمجھتی تھیں کام ہی آرام ہے۔

سماجیات میں ایک اصطلاح ہے۔ ایموشنل لیبر۔ آرلی ہوکشلڈ نے انیس سو تراسی میں یہ لفظ گھڑا تھا۔ وہ محنت جو گھر کو جوڑ کر رکھتی ہے، جس کی کوئی تنخواہ نہیں، کوئی چھٹی نہیں اور جو دکھائی تب دیتی ہے جب کرنے والا چلا جائے۔

ناصر نے برسوں کی محنت سے اسلام آباد میں ایک شاندار گھر بنایا۔ گھر کی چابی ناصر کے پاس تھی۔ گھر ماسی کے پاس تھا۔ باورچی خانہ، مہمان، صفائی، علی، سب اپنے ہاتھ سے۔ سانس پھول جاتی تو ذرا بیٹھ جاتیں۔ سانس لوٹتی تو پھر اٹھ کھڑی ہوتیں۔ ہم کہتے آرام کریں۔ وہ کہتیں، کر تو رہی ہوں۔

تین چار دن پہلے فون آیا۔ دل کا دورہ۔ ہسپتال لے گئے ہیں۔

حالت پوچھی۔ مگر دل میں سوال دوسرا تھا۔ یہ وہاں کتنے دن ٹھہریں گی؟

مجھے پتہ تھا۔ ماسی ہسپتال میں نہیں ٹھہر سکتیں۔ انہیں ڈاکٹر پسند نہیں۔ ہسپتال کی بو پسند نہیں۔ نلکیاں، مانیٹر، پرچیاں، کچھ پسند نہیں اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ پسند نہیں کہ ان کی وجہ سے کوئی تکلیف اٹھائے۔ ناصر راتیں جاگے۔ رفعت بہن چکر کاٹے۔ شاہ میر اور مریم گھر میں انتظار کریں اور علی؟ علی کو کون سنبھالے؟

جس عورت نے زندگی بھر کسی کو اپنے لیے ایک قدم نہیں اٹھانے دیا، وہ ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر لوگوں کو اپنے گرد چکر لگاتے کیسے دیکھتی؟

نہیں دیکھا۔ وہ چلی گئیں۔ جلدی۔

لوگ کہتے ہیں بہت جلدی چلی گئیں۔ میں کہتا ہوں انہوں نے جلدی نہیں کی۔ انہوں نے وہی کیا جو ہمیشہ کرتی تھیں۔ کسی پر بوجھ نہیں بنیں۔ موت کے وقت بھی نہیں۔ ہسپتال کو موقع ہی نہیں دیا۔ ڈاکٹر آخر تک ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔

اسلام آباد کے اس گھر میں اب ایک بچہ ہے جو کمرے کمرے پھرتا ہے۔ ہر دروازہ کھول کر دیکھتا ہے۔ باورچی خانے میں جاتا ہے۔ صحن میں جاتا ہے۔ واپس آتا ہے۔ پھر جاتا ہے۔

علی نانی کو ڈھونڈ رہا ہے۔

اسے کوئی بتا نہیں سکتا۔ بتا بھی دے تو وہ سمجھے گا نہیں۔ ہم ایسا سمجھتے ہیں۔ شاید الٹ ہے۔ شاید گھر میں وہی اکیلا ہے جو ٹھیک سمجھ رہا ہے۔ ہم نے قبول کر لیا ہے۔ اس نے نہیں کیا۔ وہ ابھی ڈھونڈ رہا ہے۔

دنیا میں لوگ فون اٹھا کر ہیلو کہتے ہیں۔ ماسی دعا دیتی تھیں۔

سات سمندر پار سے کال ملتی تو دوسری طرف سے پہلا لفظ کبھی ہیلو نہیں ہوتا تھا۔ دعاؤں کی بوچھاڑ ہوتی تھی۔ لمبی عمر، صحت، رزق، اولاد، عزت، سکون۔ پوری فہرست۔ میں فون کان سے لگائے چپ رہتا۔ ٹوکنا بے ادبی تھی۔ فہرست ختم ہوتی تو پوچھتیں، پُتر کیسے ہو؟

ٹیلی فون کمپنیاں فی منٹ پیسے لیتی ہیں۔ ماسی کا پہلا منٹ کبھی رائیگاں نہیں گیا۔

مجھے وہ ایسے ہی یاد ہیں۔ پہلے دعا، پھر بات۔

اب فون کروں گا تو دوسری طرف پہلا منٹ خالی ہوگا۔

قرآن کی آخری سورتوں میں اللہ ایک روح کو پکارتا ہے۔ کارنامے والی روح کو نہیں۔ شور والی کو نہیں۔ اطمینان والی روح کو۔ وہ روح جو ہسپتال کے بستر پر بھی دوسروں کا سوچے۔

ماسی ہر بات دعا سے شروع کرتی تھیں۔ آخری سفر پر بھی پہلی بات ان سے ہوئی، ان کی طرف سے نہیں۔ بولنے والا وہ تھا جس سے وہ ساری عمر ہمارے لیے مانگتی رہی تھیں۔

اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui