انگلستان کے شہر لیسٹر میں انیس سو سینتیس کے موسمِ بہار کی صبح ہے۔ گیارہ سال کا ایک دبلا پتلا لڑکا، سکول جانے کی بجائے، یونیورسٹی کیمپس کے کونے میں واقع ایک تالاب پر جھکا کھڑا ہے۔ ہاتھ میں ایک شیشے کا مرتبان ہے، سکول یونیفارم پر کیچڑ کے داغ ہیں اور آنکھوں میں وہ غیر معمولی توجہ جو شکاری اور سائنس دان دونوں میں مشترک ہوتی ہے۔ تالاب میں کوئی ایک نومولود نیوٹ، یعنی پانی کا چھوٹا سا گرگٹ نما جانور، ہلکی سی دم ہلاتا ہوا تیر رہا ہے۔ لڑکا بھی اپنا سانس روکے ہوئے ہے۔ ایک، دو، تین گنتی اور اس کا ہاتھ، تجربہ کار جال انداز کی طرح، پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ مرتبان میں ایک نیوٹ آ چکا ہے۔ لڑکا فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ مرتبان کو بند کرتا ہے، اپنے ہاتھ جھاڑتا ہے اور اپنے دل میں سوچتا ہے۔ یونیورسٹی کے زولوجی ڈیپارٹمنٹ کو نیوٹس درکار ہیں، تین پینس فی نیوٹ کی قیمت پر، آج کا کاروبار کامیاب رہا۔
لڑکے کا نام ڈیوڈ ایٹن برو ہے۔ وہ تالاب جس کے کنارے وہ کھڑا ہے، اس سے ایک سو میٹر کی دوری پر اس کا اپنا گھر ہے، یعنی کالج ہاؤس، جہاں اس کے والد فریڈرک ایٹن برو یونیورسٹی کالج لیسٹر کے پرنسپل ہیں اور وہ گھر، یعنی کالج ہاؤس، کبھی ایک ایسی پاگل خانے کی عمارت تھا جہاں وکٹورین دور میں ذہنی مریض زنجیروں کے ساتھ رکھے جاتے تھے۔ گھر کے کچھ تہہ خانوں میں ابھی بھی پرانے گدوں والے کمرے، یعنی پیڈڈ سیلز، باقی ہیں، جن میں مریض اپنا سر دیواروں سے ٹکراتے تھے۔ ڈیوڈ کا بڑا بھائی رچرڈ، جو بڑا ہو کر آسکر یافتہ اداکار اور ہدایتکار بنے گا، اس کے بچپن کی شرارتوں میں سے ایک یہ تھی کہ اس نے ایک دن ڈیوڈ کو دھکا دے کر ان میں سے ایک کمرے میں بند کر دیا تھا اور باہر سے دروازہ مقفل کرکے ہنستا رہا تھا۔ ڈیوڈ نے اندر سے دروازہ پیٹا، چیخیں ماریں اور آخرکار جب رچرڈ نے دروازہ کھولا، تو ڈیوڈ نے ایک عجیب سی بات کہی تھی۔ ادھر اندر جو لوگ رہا کرتے تھے، انہوں نے دیواروں پر کیا کھرچا ہوا ہے، یہ تمہیں دیکھنا چاہیے۔ یعنی ایک سات یا آٹھ سال کا بچہ، پاگل خانے کے پرانے کمرے میں قید ہو کر بھی، خوفزدہ نہیں تھا۔ وہ مشاہدہ کر رہا تھا۔
یہ مشاہدے کی صلاحیت، یعنی خوف کی جگہ تجسس کا گھر بنا دینا، وہ غیر معمولی خصوصیت ہے جو اس لڑکے کو، تقریباً ایک صدی بعد، آج آٹھ مئی دو ہزار چھبیس کو، اپنے سو سال کے سفر تک لے آئی ہے۔
سر ڈیوڈ ایٹن برو آج ایک سو سال کے ہو گئے ہیں۔
اور یہ صرف ایک سالگرہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا غیر معمولی دن ہے جس میں زمین کے سات ارب باشندے، براعظموں، مذاہب، نسلوں اور سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر، ایک ہی شخص کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ کیپ ٹاؤن کی ساحلوں سے لے کر ٹوکیو کے بلند و بالا اپارٹمنٹس تک، نیویارک کے سکولوں سے لے کر کیپ ہارن کے ماہی گیر کنبوں تک، لاہور کے بچوں سے لے کر ممبئی کے دادا دادیوں تک، آج لاکھوں لوگ اپنی ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر اس آدمی کو دیکھ رہے ہیں جس کی آواز کسی پُرانے دوست کی طرح ان کے گھروں میں دہائیوں سے گونج رہی ہے۔
اور سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ ایک گاؤں نما یونیورسٹی کیمپس میں نیوٹ پکڑنے والا بچہ، چھ دہائیوں بعد، انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ سنا جانے والا نیچر کا ایکسپرٹ کیسے بن گیا؟ اور اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک ایسی صدی میں، جس میں دو عالمی جنگیں، چار وبائیں، ایک سو سے زیادہ مقامی جنگیں، آب و ہوا کی تباہی اور انسانی نسل کی نظریاتی تقسیم ہمارے سامنے سے گزری ہیں، یہ اکیلا آدمی ایک منتشر دنیا کو کیسے اکٹھا کرلیتا ہے؟
اس کا جواب اس کے بچپن کے کالج ہاؤس میں دفن ہے۔ مگر صرف وہاں نہیں۔
سال انیس سو چھتیس میں ڈیوڈ کی عمر دس سال تھی۔ لیسٹر کے ڈی مونٹ فورٹ ہال میں ایک عجیب آدمی نے لیکچر دینا تھا۔ نام تھا گرے آؤل۔ یعنی سرمئی الو۔ یہ شخص خود کو کینیڈا کے قبائلی نسل کا بتاتا تھا، اپنے سر پر پنکھ لگاتا تھا، چمڑے کے کپڑے پہنتا تھا اور ایک ہی موضوع پر بات کرتا تھا۔ کہ اگر انسان نے قدرت کے ساتھ یہ سلوک جاری رکھا، تو وہ اپنی ماں ہی کا گلا گھونٹ دے گا۔ ڈیوڈ اور رچرڈ، دونوں بھائی، اپنے والد کے ساتھ یہ لیکچر سننے گئے۔ ہال بھرا ہوا تھا، نوجوان لڑکے بور ہو رہے تھے، مگر ڈیوڈ کے کانوں میں وہ ایک جملہ گھنٹی کی طرح بجا، جو شاید اس کی پوری زندگی کا اصول بن گیا۔ آپ ایک قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے۔ آپ ایک نسل سے تعلق نہیں رکھتے۔ آپ زمین کے بیٹے ہیں اور زمین آپ کی ماں ہے۔
بعد میں پتہ چلا کہ گرے آؤل دراصل ایک انگریز شخص آرچی بیلانی تھا، جس نے کینیڈا میں رہ کر قبائلی شناخت اپنا لی تھی۔ یہ ایک قسم کا تہذیبی فریب تھا۔ مگر فریب کے باوجود اس کا پیغام سچا تھا اور دس سال کے ڈیوڈ کے دل میں وہ پیغام ایک ایسا بیج بن گیا جو نوّے سال بعد بھی اپنی شاخیں پھیلا رہا ہے۔
سال انیس سو انتالیس آیا۔ یورپ پر جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہٹلر کے فوجی پولینڈ کی سرحدوں پر ہیں۔ یہودی خاندان جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ ڈیوڈ کے والدین، فریڈرک اور میری ایٹن برو، نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ انہوں نے یورپ سے دو یہودی پناہ گزین لڑکیوں کو، یعنی ہلگا اور آئرین بیجاخ کو، کنڈرٹرانسپورٹ کے ذریعے اگست انیس سو انتالیس میں اپنے گھر میں لے لیا۔ ہلگا کی عمر بارہ سال تھی، آئرین کی تیرہ سال۔ ان بچیوں کی والدہ پہلے ہی ٹی بی سے فوت ہو چکی تھیں اور ان کے والد، جو برلن میں ایک سرکاری عہدے پر تھے، انیس سو چوالیس میں آشوٹز کے کنسنٹریشن کیمپ میں مار دیے گئے۔ مگر آمد کے وقت تک وہ زندہ تھے۔ ایٹن برو خاندان نے انہیں سات سال تک اپنے ساتھ رکھا، اپنی بیٹیوں کی طرح پالا، اگرچہ کبھی قانونی گود لینا نہیں ہوا۔ جنگ کے بعد دونوں بہنیں امریکہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس چلی گئیں، مگر ایٹن برو خاندان کے ساتھ ان کا رشتہ زندگی بھر باقی رہا۔
اور یہاں، اس گھر میں، تین حقیقی بھائی، یعنی رچرڈ، ڈیوڈ، جان اور دو نو منتخب بہنیں، ہلگا اور آئرین، ایک ساتھ بڑے ہوئے۔ آئرین نے ایک دن بارہ سال کے ڈیوڈ کو ایک تحفہ دیا۔ ایک امبر کا ٹکڑا، یعنی پراگیتاتمک درختوں کی سخت ہو چکی گوند، جس کے اندر دو کروڑ سال پرانے کیڑے قید تھے۔ ڈیوڈ نے یہ تحفہ زندگی بھر سنبھالا۔ ساٹھ سال بعد، اپنی بی بی سی سیریز نیچرل ورلڈ کی ایک قسط دی امبر ٹائم مشین اسی ایک تحفے کے گرد بنائی گئی۔
یہ بات سوچیں۔ ایک یہودی پناہ گزین لڑکی، جو ہٹلر کے قہر سے بچ کر برطانیہ پہنچی، نے ایک انگریز نوجوان کو ایک پتھر دیا اور اس پتھر نے، چھ دہائیوں بعد، دنیا کے کروڑوں ناظرین کو زمین کی قدامت کا سبق سکھایا۔ یہی تو وہ خاموش ربط ہے جو انسانی محبت اور قدرتی دنیا کے درمیان موجود ہے اور جسے ڈیوڈ نے اپنے سارے کام میں ڈھونڈا اور دکھایا۔
سال انیس سو پینتالیس میں ڈیوڈ، انیس سال کا تھا جب وہ کلیئر کالج کیمبرج میں جیولوجی اور زولوجی پڑھنے پہنچا۔ پھر دو سال نیوی میں۔ پھر ایک ادبی پبلشر کے ہاں نوکری۔ پھر، انیس سو باون میں، ایک حادثاتی موڑ آیا۔ اس نے بی بی سی کو نوکری کی درخواست دی، مگر براہ راست نشریات کے ٹیلی ویژن شعبے میں نہیں، بلکہ ریڈیو کے لیے۔ اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ مسترد کرنے والی خاتون افسر نے اپنی رپورٹ میں لکھا، اس امیدوار کے دانت بہت بڑے ہیں، چہرہ کیمرے کے لیے موزوں نہیں۔
یہ جملہ، جو ایک افسر کی طرف سے ایک نوجوان امیدوار کے بارے میں لکھا گیا تھا، آج بی بی سی کے فائلوں میں اس قسم کی خوشگوار غلطی کے طور پر دفن ہے، جس کا ذکر ہر استاد اپنے طلبا سے کرتا ہے کہ نکالے جانے سے ڈرو نہیں، کیونکہ نکالنے والا خود غلط ہو سکتا ہے اور ایسا دنیا کے کئی بڑے لوگوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔
تاہم بی بی سی نے ڈیوڈ کو ٹیلی ویژن میں ٹرینی پروڈیوسر کے طور پر رکھ لیا۔ تنخواہ کم تھی، تجربہ نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر، اسے ٹیلی ویژن کا کوئی شوق نہیں تھا، کیونکہ اس کے پاس اپنا ٹی وی سیٹ نہیں تھا۔ اس نے بعد میں ایک انٹرویو میں اعتراف کیا، میں نے بی بی سی میں نوکری شروع کرنے سے پہلے، اپنی زندگی میں ایک بھی ٹیلی ویژن پروگرام نہیں دیکھا تھا۔
پھر سال انیس سو چون آیا اور تاریخ نے ایک عجیب موڑ لیا۔ بی بی سی نے ایک نیا پروگرام شروع کرنا تھا، نام زو کوئسٹ۔ منصوبہ یہ تھا کہ لندن چڑیا گھر کے ایک عہدے دار کو دور دراز کے ممالک بھیجا جائے، وہ وہاں سے غیر معمولی جانور پکڑ کر لائیں اور پروگرام میں ان جانوروں کا تعارف کروایا جائے۔ پروگرام کا اصل پیش کار جیک لیسٹر تھا، چڑیا گھر کا کیوریٹر۔ مگر پروگرام کے دوسرے ہفتے، جیک بیمار پڑ گیا۔ پروڈیوسر گھبرایا۔ کوئی متبادل چاہیے۔ کوئی جو کیمرے کے سامنے بیٹھ کر، بغیر سکرپٹ، جانوروں کے بارے میں قابل قبول گفتگو کر سکے۔
پروڈیوسر کا نام تھا، حسبِ اتفاق، ڈیوڈ ایٹن برو۔ پروگرام منیجر نے کہا، تم کرو۔ ڈیوڈ نے انکار کیا۔ میں اس کام کے لیے موزوں نہیں۔ میں پردے کے پیچھے کا آدمی ہوں۔ پروگرام منیجر نے دلیل دی، تم کم از کم جانوروں کے بارے میں جانتے ہو اور یوں، ایک بیماری اور ایک مجبوری کے باعث، اٹھائیس سال کا ڈیوڈ ایٹن برو پہلی بار کیمرے کے سامنے آیا۔ ساٹھ ہفتے بعد، جیک لیسٹر اپنی بیماری سے انتقال کر گیا۔ ڈیوڈ کا کیمرے کے سامنے رہنا، جو ایک عارضی انتظام کے طور پر شروع ہوا تھا، اب مستقل بن گیا۔
سال انیس سو چھپن آیا۔ اب ڈیوڈ تیس سال کا ہے۔ زو کوئسٹ کی ایک قسط میں، اسے سکاؤٹ کے یونیفارم نما کھاکی کپڑوں میں، ٹانگوں ننگی، گھٹنوں کے موزے پہنے، ایک برمی اژدھا پکڑتے ہوئے دکھایا گیا۔ اژدھا تین میٹر لمبا تھا۔ ڈیوڈ نے اسے ٹاٹ کے تھیلے میں بند کرنے کی کوشش کی۔ اژدھا نے گردن گھما کر کاٹ لیا۔ ڈیوڈ نے ہاتھ نہیں چھوڑا۔ کیمرہ چلتا رہا۔ آج، ستر سال بعد، یہ منظر یوٹیوب پر کروڑوں دفعہ دیکھا جا چکا ہے اور لوگ حیران ہو کر تبصرہ کرتے ہیں، یہ آدمی اس وقت بھی ایٹن برو تھا۔
یعنی وہ پُرسکون آواز، وہ خاموش دلربائی، وہ ہر جانور کو جانور صاحب سمجھ کر دیکھنے کا انداز، یہ سب اس میں اس وقت بھی موجود تھا۔ یہ سیکھی ہوئی چیزیں نہیں تھیں۔ یہ کالج ہاؤس کے تالاب کنارے کھڑے گیارہ سال کے بچے کی غیر معمولی توجہ کا ہی ایک پختہ ورژن تھا۔
یہاں ذرا رکنا چاہیے اور ایک سوال پوچھنا چاہیے۔ ڈیوڈ ایٹن برو کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے، اتنی دستاویزی فلمیں بن چکی ہیں، اتنے انٹرویوز ہو چکے ہیں۔ مگر اس کی شخصیت کی سب سے غیر معمولی بات کیا ہے؟
میرا ذاتی جواب، اپنی محدود سمجھ سے، یہ ہے۔
ڈیوڈ ایٹن برو نے اپنی پوری زندگی، یعنی اب پورے ایک سو سال، ایک پکا فیصلہ نبھایا ہے۔ وہ یہ کہ میں خود کو موضوع نہیں بناؤں گا۔ میں ہمیشہ اپنے سے بڑی کسی شے کا گواہ بنوں گا۔
اس فیصلے کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ ہم سب میں سے ہر ایک، چھوٹے بڑے سب، ساری زندگی اپنے آپ کو موضوع بنانے کی کوشش میں گزار دیتے ہیں۔ ٹویٹس پر اپنی تصویریں لگاتے ہیں۔ کیریئر میں خود کو نمایاں کرتے ہیں۔ گفتگو میں خود کو واپس لاتے ہیں۔ کتابیں اپنے بارے میں لکھتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے۔
مگر ڈیوڈ ایٹن برو نے، شعوری طور پر، یہ فیصلہ کیا کہ اس کی آواز صرف ایک وسیلہ ہوگی، خود پیغام نہیں اور یہ فیصلہ اس نے ستر سال سے زیادہ نبھایا ہے۔ اس کے کسی بھی پروگرام میں، آپ اسے کیمرے کے درمیان میں نہیں دیکھیں گے۔ کیمرے کا مرکزی کردار ہمیشہ کوئی چمگاڈر، کوئی وہیل، کوئی رینگنے والا کیڑا، کوئی سمندری گھوڑا ہوگا اور ڈیوڈ صرف ایک سرگوشی ہوگا، ایک پشت پہ، جو کہانی سنا رہا ہے، مگر کہانی کا ہیرو نہیں ہے۔
سوشل میڈیا کے ساتھ بھی اس کا رشتہ اسی فلسفے کا حصہ ہے۔ ستمبر دو ہزار بیس میں، چورانوے سال کی عمر میں، اس نے انسٹاگرام جوائن کیا، صرف اس لیے کہ نیٹ فلکس پر ا ریلیز ہونے والی اس کی فلم، اے لائف آن آور پلانیٹ، نوجوانوں تک پہنچے۔ پہلی پوسٹ ایک منٹ کی ویڈیو تھی، جس میں اس نے کہا، دنیا مشکل میں ہے۔ چار گھنٹے چوالیس منٹ میں اس کے دس لاکھ فالوورز ہو گئے اور یہ گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا، جینفر اینسٹن کا پرانا ریکارڈ توڑ کر۔ مگر دو مہینے بعد، اس نے اکاؤنٹ غیر فعال کر دیا اور آخری پوسٹ میں کہا، میں نے جو کہنا تھا، کہہ دیا۔ اب نوجوان آگے بڑھائیں۔ یعنی وہ سوشل میڈیا کا منکر نہیں تھا۔ بس وہ پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اپنی موجودگی نہیں بڑھانا چاہتا تھا۔ کام ہوگیا، چلے جاؤ۔
یہاں ایک بات اور کہنا ضروری ہے۔ سال انیس سو ستانوے میں ڈیوڈ نیوزی لینڈ میں اپنی نئی سیریز دی لائف آف برڈز کی فلم بندی کر رہا تھا۔ اچانک ایک فون آیا۔ اس کی بیوی جین، جس کے ساتھ اس کی شادی کو سینتالیس سال ہو چکے تھے، کو دماغی نکسیر، یعنی برین ہیمرج ہوا تھا اور وہ کوما میں چلی گئی تھی۔ ڈیوڈ نے فوری طور پر تمام شیڈول منسوخ کیا، اگلی پرواز پر سوار ہوا اور اپنی بیوی کے بستر تک پہنچ گیا۔ وہ زندہ تھی، مگر بات نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے ڈیوڈ کا ہاتھ آہستہ سے دبایا اور چند گھنٹے بعد، جین کا انتقال ہوگیا۔ ان کی شادی کی اڑتالیسویں سالگرہ سے بس ایک دن پہلے۔
یہ ایک سو سال کا آدمی، جو دنیا کے ہر کونے میں جا چکا ہے، جس نے ہر براعظم پر فلم بنائی ہے، جس نے گوریلوں، شیروں، ہاتھیوں اور وہیلوں کے ساتھ وقت گزارا ہے، وہ اپنی بیوی کے بارے میں ایک واحد جملہ کہتا ہے۔ وہ میری زندگی کی لنگر تھی اور میں زمین کے دور دراز حصوں کی بھٹکتا رہا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ گھر میں وہ ہے اور وہ مجھے واپس کھینچ لے گی۔
یہ بھی اس کی شخصیت کا ایک عجیب پہلو ہے۔ ایک شخص جو دنیا میں سب سے زیادہ سفر کرنے والے انسانوں میں سے ایک ہے، جس نے دو سو سے زیادہ ممالک میں کام کیا ہے، اپنی پوری زندگی کی بنیاد ایک واحد عورت کے ساتھ سینتالیس سال کی شادی پر رکھتا ہے۔ کوئی سکینڈل نہیں، کوئی دوسری شادی نہیں، کوئی غیر ضروری انٹرویو نہیں۔
اور یہاں مجھے ایک ذاتی بات کرنی چاہیے۔
سال دو ہزار سترہ میں، لندن کے رائل البرٹ ہال میں ایک تقریب تھی، جس میں سر ڈیوڈ ایٹن برو نے شرکت کی۔ میں بھی اس ہال میں موجود تھا۔ میں نے نوے سال کے آدمی کو دیکھا، جو سٹیج پر سہارا لے کر آیا، مائیکروفون کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا، میں نے اس زمین کے ہر کونے کو دیکھا ہے اور آج میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔ ہم آخری نسل ہیں جو اس قدرت کو، جس شکل میں وہ ابھی ہے، دیکھ پائے گی اور ہم پہلی نسل ہیں جس کے پاس اسے بچانے کا وقت ابھی ہے۔
یہ ایک جملہ تھا اور پورا ہال خاموش ہوگیا۔ لوگ تالی نہیں بجا رہے تھے۔ لوگ اس جملے کو ذہن میں اتار رہے تھے۔ اگلے دن صبح ناشتے پر، میں نے اپنی بیٹے سے کہا، بیٹا، آج کے بعد ہمارے گھر میں پلاسٹک کی بوتلیں نہیں آئیں گی اور یہ ایک چھوٹا سا فیصلہ، جو ایٹن برو کے ایک جملے سے پیدا ہوا تھا، آج بھی اس کے گھر میں نبھایا جا رہا ہے۔
یہ اس آدمی کا اصلی کمال ہے۔ وہ آپ کو کبھی بھاشن نہیں دیتا۔ وہ کبھی نعرہ نہیں لگاتا۔ وہ کبھی غصہ نہیں کرتا۔ وہ صرف، اپنی پُرسکون آواز میں، آپ کے سامنے ایک حقیقت رکھ دیتا ہے اور پھر چپ ہو جاتا ہے اور آپ، اس خاموشی میں، خود فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے دور کا سب سے نایاب فن ہے، یعنی منوانا، بغیر بحث کے۔
ایٹن برو کی شخصیت کے دو اور غیر معمولی پہلو ہیں جن پر کم بات کی جاتی ہے۔
پہلا یہ کہ سائنس دانوں کے درمیان وہ ایک خاص کیٹگری میں آ چکا ہے۔ اب تک درجنوں جاندار اور ناپید نسلوں کی شناخت اس کے نام سے کی جا چکی ہے۔ ایک ٹڈی، ایک قسم کی تتلی، ایک پتھر کا گوشت خور پودا، ایک رینگنے والی مکڑی اور سب سے دلچسپ، چار سو تیس ملین سال پرانا ایک فاصلی جانور جس کا نام کیسکولس راویٹس رکھا گیا اور یہ نام لاطینی الفاظ کا مرکب تھا۔ کاسٹرم یعنی پُرانا قلعہ اور کولس یعنی رہائش گاہ، جو ایٹن برو کے سرنیم کے قدیم انگریزی مطلب کا ترجمہ تھا اور دوسرا حصہ، راویٹس، روم کے زمانے میں لیسٹر کا نام، یعنی Ratae اور لاطینی لفظ vita یعنی زندگی اور commeatis یعنی پیغمبر، کو جوڑ کر بنایا گیا۔ یعنی مکمل نام کا مطلب تھا، لیسٹر سے زندگی کا پیغمبر۔ یہ فاسل لیسٹر شائر کے قریب ہر فورڈ شائر سے دریافت ہوا، یعنی اسی علاقے سے جہاں ڈیوڈ پلا بڑھا۔ یعنی چار سو تیس ملین سال پہلے، اسی زمین پر، ایک جاندار رہتا تھا، جس کے نام پر آج اسی زمین کے ایک سو سال پرانے بیٹے کا نام چپکایا گیا۔ سچ کہتے ہیں زندگی کا دائرہ واقعی گول ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ ڈیوڈ ایٹن برو واحد شخص ہیں جنہوں نے بافٹا ایوارڈز سیاہ و سفید دور میں، رنگین دور میں، ہائی ڈیفینیشن دور میں، تین جہتی دور میں اور فورکے کے دور میں، یعنی پانچوں ٹیکنالوجی کے انقلابات میں جیتے ہیں۔ ان کے پروگرام نے ٹیلی ویژن کی ہر تکنیکی تبدیلی کا ساتھ دیا اور ہر بار جیتے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معیار اور سچائی، ٹیکنالوجی سے بے نیاز، اپنا حق پاتی ہیں۔
اب ایک عجیب بات ذہن میں آئی۔ ڈیوڈ ایٹن برو کو جب لوگ قومی خزانہ یا نیشنل ٹریژر کہتے ہیں، تو وہ اس لقب کو قبول نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے، میں صرف ایک پُرانا براڈکاسٹر ہوں جسے قسمت سے یہ موقع ملا کہ وہ اپنی پسند کا کام پوری زندگی کر سکا۔ اس میں ایک عاجزی ہے، مگر ایک سچائی بھی ہے۔ وہ اس لقب کو اس لیے قبول نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خزانہ قدرت ہے، اس کا اپنا کام نہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک کھڑکی سمجھتا ہے، نہ کہ منظر اور ایک کھڑکی، چاہے وہ کتنی ہی صاف کیوں نہ ہو، اپنا فخر نہیں کرتی۔
یہاں ایک اور بات ہے جس کی طرف کم توجہ دی گئی ہے۔ ڈیوڈ ایٹن برو، اپنی پوری زندگی میں، کبھی کسی سیاسی پارٹی کا رکن نہیں رہا۔ کبھی کسی الیکشن میں کسی امیدوار کی حمایت میں علانیہ تقریر نہیں کی۔ کبھی برطانوی ٹوریز یا لیبر یا لبرل ڈیموکریٹس کی طرف داری میں کوئی بیان نہیں دیا۔ یہ ایک سو سال کی شخصیت کے لیے عجیب لگتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی تقسیم نسلوں کو الگ کر دیتی ہے۔ مگر ڈیوڈ نے، اپنے غیر معمولی صبر سے، یہ فیصلہ کیا کہ اس کی آواز پارٹی سے بالاتر ہوگی۔
اور یہی غیر متعصب پن ہے جو اسے قابلِ اعتماد بناتا ہے۔ آج کی دنیا میں، جہاں ہر شخصیت کسی نہ کسی پارٹی، مذہب، نسل، یا نظریے سے جوڑ دی جاتی ہے، ڈیوڈ ایٹن برو واحد شخصیت ہے جسے دونوں طرف کے لوگ، یعنی بائیں اور دائیں، شمال اور جنوب، مذہبی اور لادین، ایک ساتھ سن سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا پیغام پارٹی کا نہیں، بلکہ زمین کا ہے اور زمین، شکر ہے، ابھی تک پارٹی نہیں بنی۔
تو پھر یہ ایک سو سال کا آدمی، اپنی غیر معمولی زندگی کے اختتام پر، ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ میرے خیال میں تین چیزیں ہیں اور یہ تینوں ہم سب پر فرض ہیں۔
پہلی، توجہ کی صلاحیت۔ یعنی، رکنا، دیکھنا، حیران ہونا اور پھر سمجھنے کی کوشش کرنا۔ آج کی دنیا میں، جس میں ہر فرد کے پاس فون ہے، توجہ سب سے نایاب چیز بن چکی ہے۔ ہم سب اس کے شکار ہیں۔ ڈیوڈ ایٹن برو نے ایک سو سال میں جو کام کیا، وہ صرف یہ تھا کہ اس نے توجہ کرنا نہیں چھوڑا۔ گیارہ سال کی عمر میں تالاب کے کنارے کھڑا اور ایک سو سال کی عمر میں ٹیلی ویژن سکرین کے سامنے بیٹھا، وہ ایک ہی کام کر رہا تھا۔ توجہ۔
دوسری، خود کو موضوع نہ بنانا۔ یعنی اپنے سے بڑے کسی شے کو پیش کرنا اور اپنا کردار صرف وسیلے کا رکھنا۔ ہمارے دور کا سب سے بڑا تجربہ یہی ہے، کہ ہم سب کسی نہ کسی شکل میں اپنے آپ کو دکھاتے ہیں۔ ڈیوڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی موجودگی کو کم سے کم رکھے گا اور اس کی غیر موجودگی نے، اتفاق سے، اسے سب سے بڑا حاضر بنا دیا۔
تیسری، صبر کی طاقت۔ ایک ایسی صدی میں جہاں ہر کوئی فوری نتیجہ چاہتا ہے، ڈیوڈ ایٹن برو نے ستر سال میں ایک پیغام دہرایا، یعنی زمین ہماری ماں ہے اور ہم اسے کھو رہے ہیں۔ اس نے غصہ نہیں کیا، نعرے نہیں لگائے، احتجاج نہیں کیا۔ اس نے بس کہانی پر کہانی، فلم پر فلم، صبر سے سنائی اور آہستہ آہستہ، دنیا نے سننا شروع کر دیا۔
آج، جب وہ سو سال کا ہے، وہ اب بھی نئے پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ اس کی آواز ابھی بھی واضح ہے، حالانکہ تھوڑی سی لرزش آ گئی ہے۔ اس کا چلنا اب آہستہ ہے، مگر اس کا ذہن، حیرت انگیز طور پر، اب بھی تیز ہے اور سب سے اہم، اس کا تجسس، جو گیارہ سال کی عمر میں نیوٹ پکڑتے وقت موجود تھا، وہ آج بھی، ایک سو سال کی عمر میں بھی، موجود ہے۔
شاید یہی اس کی سب سے بڑی میراث ہے کہ تجسس کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ بدن بوڑھا ہوتا ہے، آواز بدلتی ہے، چلنا کم ہو جاتا ہے، مگر دیکھنے کی خواہش، اگر ایک بار جل اٹھے، تو وہ سو سال بھی روشن رہتی ہے۔
اس آدمی نے اپنی ذاتی زندگی میں شاید بہت کم سکھایا، لیکن اپنے کام میں سب کچھ سکھایا۔ ایک پُرسکون پن سے، ایک خاموش ادب سے، ایک غیر معمولی توجہ سے، اس نے دنیا کے سات ارب لوگوں کو یاد دلایا کہ ہم اس زمین کے مالک نہیں، مہمان ہیں اور مہمانوں کا فرض ہے کہ وہ گھر کو وہی، یا اس سے بہتر، حالت میں چھوڑ کر جائیں جس میں انہوں نے پایا تھا۔
اس آدمی کا نام ڈیوڈ ایٹن برو ہے۔ آج وہ ایک سو سال کا ہوگیا ہے اور جب کبھی، آنے والے سالوں میں، وہ ہمیں چھوڑ کر چلا جائے گا، تو ہم سب اپنی اپنی کھڑکیوں سے باہر دیکھیں گے اور اس بلیک برڈ کی آواز میں، اس کی پُرسکون آواز کو سنیں گے۔ دیکھو، یہ کتنا حیرت انگیز ہے اور یہ سب ابھی ہمارے پاس ہے اور ہمیں اسے سنبھالنا ہے۔
ایک صدی، ایک آواز، ایک پیغام! اپنی ماں، اپنی زمین کو بچا لو۔