Wednesday, 23 September 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. 79 Baras Ka Sawal: Naqsha Badle Ga Ya Tarz e Hukumrani?

79 Baras Ka Sawal: Naqsha Badle Ga Ya Tarz e Hukumrani?

ریاستیں صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں، وہ ایک مشترک عہد، اجتماعی شعور اور قانون کی بالادستی سے وجود پاتی ہیں۔ جغرافیہ ریاست کا جسم ہے، مگر آئین اس کی روح، ادارے اس کے اعضا ہیں اور عوام اس کی اصل قوت۔ اگر روح مضطرب ہو تو جسم کی نئی تراش خراش اسے صحت مند نہیں بنا سکتی۔ پاکستان کے 79 برس کا سب سے گہرا سوال بھی شاید یہی ہے کہ ہماری کمزوری انتظامی نقشے میں ہے یا اس سیاسی و آئینی مزاج میں جس کے تحت یہ نقشہ چلایا جاتا ہے؟ کیا ہمیں نئے صوبے درکار ہیں، نئی انتظامی اکائیاں یا ایک ایسا نیا طرزِ حکمرانی جو موجودہ آئینی عہد کو اس کی حقیقی معنویت عطا کرسکے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کی تاریخ محض حکومتوں کی تبدیلی کی تاریخ نہیں، بلکہ اقتدار، آئین اور عوامی اختیار کے باہمی تعلق کی ایک طویل کشمکش ہے۔ 1954ء میں دستور ساز اسمبلی اس وقت تحلیل کردی گئی جب دستور کا مسودہ تیار ہوچکا تھا۔ مولوی تمیزالدین خان کی قانونی جدوجہد اور وفاقی عدالت کے فیصلے نے آئینی اختیار اور ریاستی اقتدار کے درمیان وہ پیچیدہ باب کھولا جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس ہوئے۔

پھر 1956ء کا آئین آیا، پارلیمانی نظام قائم ہوا، پاکستان اسلامی جمہوریہ قرار پایا، مگر صرف دو برس بعد آئین منسوخ اور مارشل لا نافذ ہوگیا۔ 1962ء میں صدارتی نظام آیا، اختیارات مرکز میں مرتکز ہوئے اور بالواسطہ انتخابی بندوبست اختیار کیا گیا۔ 1970ء کے انتخابات نے بالغ رائے دہی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو ایک نئی قوت عطا کی، مگر اس مینڈیٹ کی آئینی منتقلی کا مرحلہ مکمل نہ ہوسکا اور بالآخر ملک ایک المناک قومی سانحے سے دوچار ہوا۔ 1973ء کا آئین اسی تاریخی تجربے کے بعد ایک نئے عمرانی و آئینی اتفاق کی صورت میں سامنے آیا، مگر آئین کا وجود اپنی جگہ اور آئینی روایت کا استحکام اپنی جگہ۔

یہاں تاریخ ایک نہایت لطیف حقیقت آشکار کرتی ہے: قانون کی کتاب اور قانون کی روح میں فاصلہ پیدا ہوجائے تو آئینی ریاست کا ظاہری ڈھانچہ باقی رہتے ہوئے بھی اس کی معنوی بنیاد متزلزل ہوسکتی ہے۔ دستور میں اختیارات کی تقسیم لکھی جاسکتی ہے، مگر اختیارات کی اخلاقی تحدید صرف اس وقت ممکن ہے جب اقتدار کے تمام مراکز یہ تسلیم کریں کہ کوئی شخص، جماعت یا ادارہ قانون سے ماورا نہیں۔

آج نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث اسی تاریخی پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2026ء میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انتظامی ڈھانچے کے ازسرنو جائزے اور نئی اکائیوں کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی تبدیلی عوامی رضامندی، سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی و قانونی دائرے کے اندر ہونی چاہیے، محض کسی فرد، جماعت یا حکومت کی خواہش پر نہیں۔

یہ بات اپنی جگہ قابلِ غور ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور انتظامی پیچیدگیاں بعض اوقات موجودہ انتظامی ساخت پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی امتیاز ملحوظ رہنا چاہیے: انتظامی تقسیم اور حکمرانی کی اصلاح مترادف نہیں۔ صوبے کی حد بدلنے سے لازماً ریاستی رویہ نہیں بدلتا، نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے اختیار کی نوعیت تبدیل نہیں ہوجاتی۔

نیا صوبہ محض ایک نیا نام نہیں۔ اس کے ساتھ نئی اسمبلی، مالیاتی بندوبست، انتظامی ادارے، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی، وفاقی تعلقات اور آئینی ذمہ داریوں کا پورا سلسلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے صوبہ بنانا ایک آئینی عمل ہے، محض انتظامی حکم نہیں۔ اسی طرح یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ نئی اکائی وجود میں آنے کے بعد کیا شہری واقعی اپنے مسائل کے حل کے قریب پہنچے گا یا صرف ایک نئے سیکریٹریٹ، نئی بیوروکریسی اور نئے اقتداری مرکز کا اضافہ ہوگا؟

یہاں قرآن کا وہ بنیادی اصول رہنمائی دیتا ہے جس میں امانت اہلِ امانت تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ہدایت ہے۔ ریاستی نظم کی اصل روح بھی یہی ہے کہ اختیار امانت بنے، منصب ذریعۂ تسلط نہ ہو اور فیصلہ شخصی پسند و ناپسند کے بجائے عدل کے میزان پر قائم ہو۔ چنانچہ کسی بھی انتظامی اصلاح کی قدر اس کے نقشے سے نہیں بلکہ اس کے عدلِ اجتماعی اور رفاہِ عامہ کے نتائج سے متعین ہونی چاہیے۔

اسی مقام پر مقامی حکومت کا سوال بھی پوری قوت سے ابھرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ اگر شہری کے پانی، صفائی، سڑک، صحت، تعلیم اور روزمرہ شہری انتظام کے فیصلے اب بھی اس سے سیکڑوں میل دور ہوں تو نئے صوبے کی تشکیل اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کا متبادل نہیں بن سکتی۔

اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم نے "نظام" کو اکثر عمارت سمجھا اور "حکمرانی" کو صرف عمارت کے مکینوں کا عمل۔ حالاں کہ نظام دراصل اصولوں کا تسلسل ہے۔ پارلیمانی نظام ہو یا صدارتی، صوبے چار ہوں یا زیادہ، مرکزی حکومت مضبوط ہو یا اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں اگر قانون کی بالادستی، شفاف احتساب، آزاد عدالتی عمل، مؤثر پارلیمانی نگرانی اور عوامی شرکت موجود نہ ہو تو ہر نظام اپنی روح سے محروم ہوسکتا ہے۔

اسی لیے پاکستان کو ایک ایسے آئینی مزاج کی ضرورت ہے جس میں اقتدار کو غلبہ نہیں، امانت سمجھا جائے، اختلاف کو بغاوت نہیں، سیاسی حق تصور کیا جائے، حزبِ اختلاف کو دشمن نہیں، نظام کا لازمی جزو سمجھا جائے، انتخابات کو محض اقتدار حاصل کرنے کا وسیلہ نہیں بلکہ عوامی اختیار کی تجدید مانا جائے اور ریاستی اداروں کی طاقت کو ان کے آئینی دائرۂ کار سے ناپا جائے۔

نئے صوبوں کی بحث میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ "کتنے صوبے؟" بلکہ یہ ہے کہ کتنا اختیار، کس کے پاس، کس قانون کے تحت اور کس جواب دہی کے ساتھ؟ اگر نئی اکائیاں عوامی مشاورت، آئینی رضامندی، مالیاتی پائیداری، انتظامی استعداد اور بہتر خدمات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں تو یہ وفاقی نظم کی تنظیمِ نو ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر نئی حد بندی کے اندر پرانی مرکزیت، پرانا سیاسی عدم توازن اور وہی غیر مؤثر حکمرانی منتقل ہوجائے تو نئی اکائی دراصل پرانے مسئلے کا نیا عنوان ہوگی۔

پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا سبق یہ بھی ہے کہ قومی بحران کو کسی ایک شخصیت یا جماعت کے کھاتے میں ڈال دینا حقیقت کو مختصر کرکے دیکھنا ہے۔ سیاسی قیادتوں سے غلطیاں ہوئیں، ادارہ جاتی کمزوریاں رہیں، غیر آئینی مداخلتیں ہوئیں، عدالتی تعبیرات نے مختلف ادوار میں نئے سوالات پیدا کیے اور سیاسی جماعتیں بھی ہمیشہ جمہوری اصولوں کی مثالی پاسداری نہ کرسکیں۔ اس لیے اصلاح کسی ایک فریق کی تطہیر نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کی تطہیر کا نام ہے۔

ہمیں شاید "نیا نظام" ایجاد کرنے سے پہلے اپنے موجودہ آئینی نظام کی روح دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین نے راستہ دیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس راستے پر چلنے کے لیے آمادہ ہیں یا ہر نئی مشکل کے سامنے ایک نیا راستہ تراشنا چاہتے ہیں؟ آئین نے مقامی حکومت کا اصول دیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اختیار واقعی نچلی سطح تک منتقل کریں گے یا صوبائی دارالحکومتوں کو ہی چھوٹی چھوٹی مرکزیتوں میں تقسیم کرتے رہیں گے؟ قانون نے اداروں کی حدود متعین کی ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم ان حدود کو مقدس سمجھیں گے یا ضرورت کے مطابق ان کی تعبیر بدلتے رہیں گے؟

ریاست کا استحکام کثرتِ صوبہ سے نہیں، وحدتِ اصول سے پیدا ہوتا ہے۔ نقشہ بدلنا ممکن ہے، نظامِ انتظام بدلنا بھی ممکن ہے، مگر اگر آئینی شعور نہ بدلے تو ہر نیا نقشہ پرانے بحران کی نئی جغرافیائی صورت بن سکتا ہے۔

پس آج کا اصل سوال "نیا صوبہ، نیا یونٹ یا نیا نظام؟" نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نئی انتظامی ساخت کے ساتھ نئی حکمرانی کی روح بھی پیدا کرسکتے ہیں؟

اگر جواب اثبات میں ہے تو انتظامی اصلاح کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن اس دروازے کی کنجی نئی سرحد نہیں، آئینی بالادستی ہے، اس کی بنیاد نئی بیوروکریسی نہیں، عوامی اختیار ہے، اس کا مقصد نئے مراکزِ اقتدار نہیں، قربِ حکمرانی ہے اور اس کی آخری منزل کوئی نیا نقشہ نہیں بلکہ وہ ریاست ہے جہاں اختیار امانت ہو، قانون میزان ہو اور عوامی مینڈیٹ ریاستی نظم کی معتبر اساس۔

تب نیا صوبہ محض جغرافیہ نہیں ہوگا، نیا یونٹ محض انتظام نہیں ہوگا اور نیا نظام محض نعرہ نہیں ہوگا، وہ ایک ایسے پاکستان کی طرف قدم ہوگا جہاں ریاست کی ہیبت قانون سے، حکومت کی قوت عوام سے اور اقتدار کی معنویت عدل سے پیدا ہو۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui