انسانی تاریخ میں طاقت کے توازن اور بین الاقوامی کشمکش کے بنیادی محرکات ہمیشہ جغرافیائی سرحدیں، عسکری تسلط اور معاشی وسائل کی لوٹ کھسوٹ رہے ہیں، مگر اکیسویں صدی کے اس نچلے موڑ پر کرۂ ارض ایک ایسے بے رحم اور غیر روایتی بحران کی گرفت میں آ چکا ہے جس نے عالمی سیاست کے تمام پرانے مسلّمات کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ ماحولیاتی انحطاط، زمین کے درجہ حرارت میں ہولناک اضافہ، آبی وسائل کی روزافزوں قلت اور توانائی کے سنگین ہوتے ہوئے مضمرات نے اب روایتی سلامتی اور عسکری خدشات کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی محض موسموں کا تغیر یا قدرتی آفات کا سلسلہ نہیں رہی، بلکہ یہ عصرِ حاضر کا سب سے بڑا اور پیچیدہ جیو پولیٹیکل بحران بن کر ابھری ہے، جس نے عالمی طاقتوں کی چشمک، معاشی ترجیحات اور بقا کی جنگ کو ایک بالکل نئے، نادیدہ اور بھیانک معرکے میں ڈھال دیا ہے۔
اس عالمی المیے کا سب سے زیادہ تشویشناک اور لرزہ خیز پہلو وہ صارفی اور صنعتی ناانصافی ہے جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کے درمیان خلیج کو لمحہ بہ لمحہ وسیع تر کر رہی ہے۔ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط بے ہنگم صنعتی پیش رفت، بے دریغ کاربن کے اخراج اور قدرتی وسائل کے بے رحمانہ استحصال کے ذریعے گلوبل نارتھ کے امیر اور طاقتور ممالک نے اپنے معاشی وجود کو تو مستحکم کر لیا، مگر اس صنعتی بوجھ اور ماحولیاتی زہر کی قیمت گلوبل ساؤتھ کے ان ناداری کا شکار ممالک کو چکانی پڑ رہی ہے جن کا اس تباہی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ایک قسم کا "اقلیمياتی استعمار" (Climate Colonialism) ہے، جس میں آلودگی پھیلانے والے اپنے تجارتی و معاشی منافع سمیٹ کر محفوظ حصاروں میں بیٹھ چکے ہیں، جبکہ اس کی سکت نہ رکھنے والی مظلوم قومیں سیلابوں، خشکسالی، پگھلتے ہوئے گلیشیئرز اور ساحلی طوفانوں کی صورت میں تباہی کا سامنا کر رہی ہیں۔
عالمی منڈیوں اور سرفہرست اقتصادی فورمز کا دہرا معیار اس بگاڑ کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ایک طرف تو ترقی یافتہ دنیا اپنے منبروں سے سبز توانائی، کاربن ٹیکس اور ماحولیاتی معیار کی پاسداری کی فصیح و بلیغ تقاریر کرتی ہے، مگر دوسری جانب جب ترقی پذیر ممالک کے لیے ماحولیاتی ازالے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور آسان مالیاتی امداد (Loss and Damage Fund) کی فراہمی کا مرحلہ آتا ہے، تو ان تمام دلاسا آمیز وعدوں کو بیوروکریٹک پیچیدگیوں، شرائط اور تجارتی پابندیوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور سامراجی منڈیاں اب بھی ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے نام پر غریب ممالک کو امداد کی بجائے سود در سود قرضوں کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں، جو کہ بذاتِ خود ماحولیاتی ناانصافی کا ایک بھیانک ترین روپ ہے۔
اس سفاک جیو پولیٹیکل کشمکش میں پاکستان کی صورتحال ایک کلاسیکی مگر انتہائی المناک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر کاربن کی کثافت اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصّہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر اس کے باوجود ہمارا شمار دنیا کے ان گنے چنے چند ممالک میں ہوتا ہے جو اقلیمياتی تبدیلیوں کے باعث سب سے زیادہ نازک، غیر محفوظ اور متاثرہ خطے میں واقع ہیں۔ حالیہ برسوں کے بے درد سپر فلڈز، پنجاب کے میدانوں کو نگلتی ہوئی زہریلی دھند (Smog)، شاہرائے قراقرم اور شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تلاطم خیز پگھلاؤ اور جنوبی خطوں میں جاری مسلسل خشک سالی نے ملکی معیشت، زراعت اور انسانی آبادی کے طبعی وجود کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پانی کے بین الاقوامی اور علاقائی ذخائر پر بڑھتی ہوئی کشمکش نے جہاں پاکستان کے لیے آبی سلامتی کے نئے خطرات پیدا کیے ہیں، وہاں اندرونی سطح پر خوراک کی قلت اور ناداری کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان روایتی انفعالی اندازِ فکر اور محض بیرونی امداد کی کشکول بردارانہ یاسیت سے باہر نکلے۔ ہمیں یہ حقیقت ادراک میں لانی ہوگی کہ ماحولیاتی لچک اور بقا محض ایک فلاحی کام یا جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ہماری قومی سلامتی، خودمختاری اور طویل المیعاد بقا کا بنیادی جیو پولیٹیکل تقاضا ہے۔
پاکستان کو بین الاقوامی سفارتی محاذ پر گلوبل ساؤتھ کے دیگر متاثرہ ممالک کے ساتھ مل کر ایک مضبوط، مربوط اور دباؤ ڈالنے والا بلاک تشکیل دینا ہوگا، تاکہ عالمی فورمز پر کاربن تاوان اور بلامعاوضہ سبز ٹیکنالوجی کی منتقلی کا مقدمہ موثر انداز میں لڑا جا سکے۔
داخلی سطح پر، ایک جامع اور بصیرت افروز "ماحولیاتی و واٹر سوورینٹی پالیسی" کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔ آبی وسائل کے جدید ترین تحفظ، زرعی طریقوں کی فوری ترامیم، کاربن نیوٹرل توانائی کے ذرائع کی طرف تیز تر انتقال اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مقامی بنیادوں پر لچکدار انفراسٹرکچر کی تعمیر کو ہماری اعلیٰ ترین قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے ماحولیاتی جنگ کو روایتی سیاست سے بالاتر ہو کر ایک وجودی بقا کا معرکہ نہ سمجھا، تو آنے والی نسلیں ایک ایسے ویران اور بنجر خطے میں سانس لیں گی جہاں نہ پانی میسر ہوگا اور نہ ہی معاشی و سفارتی خودمختاری کا کوئی وجود باقی رہے گا۔