Thursday, 30 July 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Bunyadon Ki Larzish Aur Ehad e Hazir Ka Noha

Bunyadon Ki Larzish Aur Ehad e Hazir Ka Noha

تاریخِ انسانی کا یہ عالمگیر قانون اور سنتِ الٰہیہ ہے کہ جب قوموں کے نظامِ عدل میں خلل واقع ہوتا ہے، تو ظاہر کی تمام تر چکا چوند اور ناپائیدار تمکنت زوال کے طوفان کو روکنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔ قرآنی بصیرت ہمیں بارہا متنبہ کرتی ہے: ﴿فَهَلُ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ﴾ کہ جب بنیادیں کھوکھلی ہو جائیں، تو قصرِ سلطانی کی بلندی زوال کے ناگزیر حکم کو نہیں ٹال سکتی۔ جولائی 2026ء کی اس شدید اور جاں گسل تموز میں، نئی دہلی کے تاریخی میدانِ جنتر منتر پر پولیس کی لاٹھیوں کا جبر اور مظلوم طلباء کے عزمِ مصمم کا تصادم محض ایک انتظامی حادثہ یا وقتی ہنگامہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس باطنی انحطاط کا آشکار ہونا ہے جو طویل عرصے سے نظام کی رگوں میں سرایت کر رہا تھا۔ 'نیٹ' (NEET) کے پرچوں کے افشاء اور شفافیت کا ادعا کرنے والے امتحانی اداروں کی اخلاقی شکست نے جن آلام کو جنم دیا ہے، وہ اب ایک بحرانِ معیشت و تعلیم سے بڑھ کر ضمیرِ انسانی کا استغاثہ بن چکے ہیں۔

گذشتہ دہائی کے دوران ہندوستان کے مقتدر اعلیٰ نے جس سیاسی و معاشی فلسفے کی آبیاری کی، وہ دراصل نیو لبرل ازم کے مادیت پرستانہ نعروں اور ہندوتوا کے قومی و ثقافتی احیاء کا ایک عجیب و غریب ملغوبہ تھا۔ اس نظام نے بظاہر "کاروبار میں آسانی" (Ease of Doing Business) اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے دلکش منصوبوں کو ہندو افتخار کے ایک ولولہ انگیز بیانیے سے جوڑ کر عوام کے سامنے پیش کیا۔ مسابقت اور "قابلیت" (Merit) کا ایک ایسا فریب قائم کیا گیا جسے کامیابی کی معراج قرار دیا گیا۔ مگر قرآنی حقیقت ﴿كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحُسَبُهُ الظَّمُآنُ مَاءً﴾ کے مصداق، یہ تمام دعوے ریگزارِ تمنا میں تشنہ لبوں کے لیے ایک سراب سے زیادہ ثابت نہ ہو سکے۔ جب کوچنگ سینٹرز کی مافیا سلطنتیں پھلنے پھولنے لگیں اور رشوت و بدعنوانی نے پرچوں کے افشاء کو ایک باقاعدہ تجارت بنا دیا، تو قابلیت کا وہ ڈھکوسلہ زمین بوس ہوگیا جس پر ایک پوری نسل کی امیدوں کا قصر تعمیر تھا۔

اس المیے کا سب سے حزن انگیز پہلو یہ ہے کہ آزاد منڈی کی معیشت نے مقابلے کی جس دوڑ کو سعادت کا واحد ذریعہ بنایا تھا، اسے قومی و ثقافتی قدسیت کے لباس میں لپیٹ کر بیچا گیا۔ لیکن وہ تمام امیدیں جو خوابوں کی صورت بونی گئی تھیں، بالآخر خودکشیوں اور شدید مایوسی کی شکل میں برآمد ہوئیں۔ جب تعلیمی اداروں کی ساختی تباہی، نااہلی اور معاشی ناہمواری کا حبس حد سے بڑھ گیا، تو ریاستی مشینری نے اپنی اصلاح کے بجائے وہی قدیم جابرانہ نیزہ بازی اختیار کی، آنسو گیس، لاٹھیاں اور تعزیرات۔ ریاست کا یہ متکبرانہ روپ ﴿أَتَبُنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعُبَثُونَ﴾ کے اس فلسفے کو ننگا کرتا ہے جہاں ظاہری شوکت کی تعمیر ہی اصل مقصد بن جاتی ہے اور انسان کی حرمت و حقوق پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔

یہ احتجاج اب امتحانات کے پرچوں کے افشاء تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ 'جنریشن زیڈ' (Gen Z) کا وہ شعوری اور جذباتی انفجار ہے جو روایتی سیاسی قطب بندی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے بلند تر ہو کر حقائق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ جدید نسل، جو ڈیجیٹل دنیا کی پروردہ ہے، محض علامات اور سیاسی شعبدہ بازی کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ جب بے روزگاری، گراں قدر نجی تعلیم اور روزمرہ کی معاشی تلخیاں انسان کے وجود کو گھیرا ڈالتی ہیں، تو لسانی و مذہبی نعروں کا سحر کافور ہونے لگتا ہے۔ مادی ناانصافی کی یہ شدید اذیت انسانوں کو ایک ایسے مشترکہ درد اور یکجہتی کے رشتے میں پرو دیتی ہے جسے محض شناخت کی سیاست یا تقسیم کاری کے روایتی حربوں سے پاش پاش نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت کا ردِعمل، جیسا کہ تاریخ کے جابرانہ ادوار کا معمول رہا ہے، وقتی نرمی کے وعدوں، سخت قوانین کے اعلانات اور مظاہرین کو "قومی امن میں خلل ڈالنے والے" قرار دینے کے روایتی بیانیے تک محدود ہے۔ حکومت کے حامی بے شک معاشی لچک اور ثقافتی خود اعتمادی کے ترانے گاتے رہیں، مگر تزویراتی خطابت اور سطحی نعرے حقیقتِ حال کے تلخ سچ کو زیادہ دیر تک روپوش نہیں رکھ سکتے۔ قرآنی فلسفہِ تاریخ کا یہ مسلمہ قانون ہے کہ جو نظام محض عوامی تاثر اور بیانیے کی جادوگری پر قائم ہوتا ہے، اسے ایک نہ ایک دن اپنی عملی ناکامیوں اور اخلاقی افلاس کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ جب کسی قوم کا اصل سرمایہ یعنی اس کی نوجوان نسل اعتماد سے محروم ہو جائے، تو اس قوم کی پائیداری کے تمام تر دعوے بوجھ بن جاتے ہیں۔

آج ہندوستان ایک تاریخی چوراہے پر کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیداریِ نو ماضی کی تحاریک کی طرح ریاستی جبر، تھکن اور وقتی مصلحتوں کی نذر ہو کر دم توڑ دے گی؟ یا یہ تحریک ایک حقیقی اور عمیق اصلاح کی راہ ہموار کرے گی جہاں تعلیم بحال ہو، نااہلی کا خاتمہ ہو اور حکمرانوں کے بیانیے اور زمینی حقائق کا بعد ختم ہو؟ جنتر منتر کے میدان سے اٹھنے والی یہ سرکشی ایک شدید انتباہ بھی ہے اور ایک بشارت بھی۔ سچی قومی طاقت اور حقیقی شوکت جبر سے قائم کیے گئے اتفاقِ رائے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اپنے شہریوں کے خوابوں، ان کے آلام اور ان کی جائز فکری بے چینی کو سننے اور اس کا مداوا کرنے سے جنم لیتی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ان حکمرانوں کی بصیرت پر منحصر ہے کہ آیا وہ وقت رہتے اس صدا کو سنتے ہیں یا نظام کے زوال کو اپنے مقدر کا حصہ بننے دیتے ہیں۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui