Tuesday, 07 April 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Dr. Ghayas Uddin: Jadeed Dunya e Tibb Ka Gohar e Nayab

Dr. Ghayas Uddin: Jadeed Dunya e Tibb Ka Gohar e Nayab

صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی فکری پختگی، انتظامی صلاحیت اور انسانی ہمدردی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب اس شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیات ایک ہی چھت تلے جمع ہوں، تو یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں رہتی بلکہ اجتماعی بصیرت، پیشہ ورانہ عزم اور مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والا ایک اہم لمحہ بن جاتی ہے۔ حالیہ تقریب بھی اسی نوعیت کی حامل تھی، جہاں معروف سرجن، ہیڈ آف سرجری اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے وی سائٹ ہسپتال ڈاکٹر غیاث الدین نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان کو گلدستہ پیش کیا۔ بظاہر یہ ایک سادہ اور روایتی اظہارِ خیرسگالی تھا، مگر اس کے پس منظر میں صحت کے نظام کی بہتری، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ قیادت کی ایک گہری داستان پنہاں تھی۔

اس تقریب میں ملک کے ممتاز طبی ماہرین کی موجودگی نے اس موقع کو مزید اہمیت بخشی۔ صدر سی پی ایس پی پروفیسر خالد مسعود گوندل کی شرکت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ادارہ نہ صرف پیشہ ورانہ معیار کو بلند کرنے کے لیے کوشاں ہے بلکہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح پروفیسر محمود ایاز، جنہیں پاکستان میں روبوٹک سرجری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے، کی موجودگی جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرجیکل مہارت کے ارتقاء کی علامت ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو محض تدریس یا پریکٹس تک محدود نہیں بلکہ طب کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئے افق تلاش کر رہی ہیں۔

ڈائریکٹر ایڈوانس اسکل ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ابرار اشرف اور نائب صدر پروفیسر عائشہ صدیقہ کی شمولیت اس حقیقت کو مزید تقویت دیتی ہے کہ طبی تعلیم اور تربیت کا دائرہ اب روایتی حدود سے نکل کر مہارت، تحقیق اور جدت کی طرف بڑھ چکا ہے۔ ان ماہرین کی موجودگی دراصل اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کا طبی نظام عالمی معیار کے مطابق ڈھلنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں محض ڈگریاں نہیں بلکہ عملی قابلیت اور مسلسل سیکھنے کا عمل بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ تقریب ایک اور اہم پہلو بھی اجاگر کرتی ہے اور وہ ہے وفاقی و صوبائی سطح پر صحت کے اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت۔ بلوچستان جیسے صوبے، جہاں جغرافیائی وسعت، وسائل کی کمی اور بنیادی سہولیات کے فقدان جیسے چیلنجز درپیش ہیں، وہاں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ حکومتی سطح پر بھی اس تعاون کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ جب پالیسی ساز اور طبی ماہرین ایک ہی پلیٹ فارم پر بیٹھ کر مسائل اور ان کے حل پر غور کریں، تو اس کے مثبت اثرات دیرپا اور ہمہ گیر ہوتے ہیں۔

معروف سرجن ڈاکٹر غیاث الدین کا کردار اس پورے منظرنامے میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ بطور ہیڈ آف سرجری اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، وہ نہ صرف ایک منتظم بلکہ ایک رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر غیاث الدین اپنی پیشہ ورانہ مہارت، غیرمعمولی جراحی صلاحیت اور مثالی انتظامی بصیرت کے باعث طبی حلقوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ عہدِ حاضر کے تناظر میں، بلا شبہ، جدید دنیائے طب میں ایک گوہرِ نایاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بطور ہیڈ آف سرجری اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، انہوں نے نہ صرف علاج و معالجے کے معیار کو بلند کیا بلکہ ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے کو بھی مؤثر اور مریض دوست بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں نظم و ضبط، جدید طریقۂ علاج اور مریضوں کی فلاح کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ان کی شخصیت پیشہ ورانہ دیانت، مسلسل محنت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد بناتا ہے۔

ڈاکٹر غیاث الدین کی شخصیت ہمہ جہت کمالات کی آئینہ دار ہے، جہاں ایک ماہر سرجن کی باریک بینی، ایک منتظم کی دور اندیشی اور ایک معلم کی شفقت یکجا نظر آتی ہے۔ وہ نہ صرف پیچیدہ جراحی معاملات میں غیرمعمولی مہارت رکھتے ہیں بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت اور رہنمائی میں بھی بھرپور دلچسپی لیتے ہیں، جس سے ایک مضبوط اور باصلاحیت طبی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ ان کا طرزِ قیادت شفافیت، میرٹ اور اجتماعی مشاورت پر مبنی ہے، جس کے باعث ادارے میں اعتماد اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ ملا ہے، جبکہ جدید طبی تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا رجحان ان کی پیش قدمی کی واضح علامت ہے۔

مزید برآں، ڈاکٹر غیاث الدین اپنی غیرمتزلزل لگن، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کے باعث ایک مثالی معالج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں نظم، دیانت اور ذمہ داری کا ایسا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو نہ صرف ان کے ساتھیوں کے لیے قابلِ تقلید ہے بلکہ ادارے کے مجموعی ماحول کو بھی مثبت رخ دیتا ہے۔ وہ مشکل ترین حالات میں بھی تحمل، حکمت اور بروقت فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مستقبل کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے صحت کے نظام میں پائیدار بہتری کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں، ان کا وژن محض موجودہ ضروریات تک محدود نہیں بلکہ وہ مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت کے نظام میں پائیدار بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں، جو ایک کامیاب سرجن اور منتظم کی پہچان ہے۔ جس کے باعث ان کی خدمات طب کے شعبے میں ایک روشن اور قابلِ فخر مثال کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کی جانب سے گلدستہ پیش کرنا محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی، احترام اور پیشہ ورانہ یکجہتی کا ایک علامتی اظہار تھا۔ ایسے اقدامات بظاہر چھوٹے محسوس ہوتے ہیں، مگر یہ اداروں کے درمیان اعتماد اور تعلق کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر اس تقریب کو ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے صحت کے نظام میں جاری تبدیلیوں کی ایک جھلک بھی پیش کرتی ہے۔ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی، جیسے روبوٹک سرجری، اپنا مقام بنا رہی ہے، تو دوسری طرف تربیت اور مہارت کے نئے معیار متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی اور عملی نفاذ کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے نظام کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نہ صرف موجودہ ضروریات کو پورا کر سکے بلکہ مستقبل کے چیلنجز کا بھی مقابلہ کر سکے۔

تاہم، اس مثبت تصویر کے ساتھ ساتھ کچھ بنیادی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کیا یہ تقاریب اور ملاقاتیں زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتی ہیں؟ کیا ان میں ہونے والی گفتگو اور فیصلے عملی اقدامات میں ڈھلتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے سکتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں محض نمائشی نہ رہیں بلکہ ان کے نتائج کو باقاعدہ طور پر مانیٹر اور جانچا جائے۔

مزید برآں، صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے صرف اعلیٰ سطح کی قیادت ہی کافی نہیں، بلکہ نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی عملے کی تربیت، سہولیات کی فراہمی اور عوامی شعور کی بیداری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر ایک طرف جدید سرجیکل تکنیکیں متعارف کروائی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف بنیادی صحت مراکز کو بھی مضبوط بنانا ہوگا تاکہ عام آدمی کو ابتدائی سطح پر ہی معیاری علاج میسر آ سکے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں وسائل ہمیشہ محدود رہتے ہیں، اس لیے ان کا مؤثر اور منصفانہ استعمال ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں سی پی ایس پی جیسے اداروں کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے، جو نہ صرف تربیت فراہم کرتے ہیں بلکہ معیار کو برقرار رکھنے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ ادارے حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کریں، تو صحت کے نظام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

اختتاماً یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک علامتی سنگِ میل تھی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کا طبی شعبہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ یہاں روایت اور جدت، تجربہ اور تحقیق اور پالیسی اور عمل کے درمیان ایک متوازن ربط قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہا، تو بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں پاکستان کا صحت کا نظام نہ صرف داخلی سطح پر مضبوط ہو بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کر لے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais