Thursday, 17 September 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Entezami Taqseem Se Aeeni Takmeel Tak

Entezami Taqseem Se Aeeni Takmeel Tak

پاکستان اپنی قومی زندگی کے 79ویں برس میں داخل ہوچکا ہے۔ یہ محض کیلنڈر پر بڑھ جانے والا ایک عدد نہیں، بلکہ تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط اس سیاسی، آئینی اور انتظامی تجربے کا استعارہ ہے جس میں ریاست نے حکمرانی کے متعدد سانچے آزمائے، آئینی بندوبست تبدیل کیے، اقتدار کے مراکز کی تشکیلِ نو دیکھی، صوبائی و انتظامی حدود میں ردوبدل کیا اور کبھی پارلیمانی، کبھی صدارتی اور کبھی غیر معمولی سیاسی بندوبست کے ادوار سے گزری۔ مگر اس تمام تجربے کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا پاکستان کا مسئلہ واقعی ریاستی و انتظامی ساخت کی کمزوری ہے یا اس طرزِ حکمرانی کا، جس کے ذریعے اس ساخت کو عملاً چلایا جاتا ہے؟ اگر بحران کی اصل وجہ صرف صوبوں، اضلاع یا انتظامی اکائیوں کے حجم میں پوشیدہ ہوتی تو گزشتہ کئی عشروں کے تجربات ہمیں اب تک کسی قطعی نتیجے تک پہنچا چکے ہوتے۔ تاریخ کا مطالعہ، تاہم، ایک زیادہ پیچیدہ حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ "کون سا نظام" اختیار کیا جائے، اس سے زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ "آئین کے تحت طے شدہ نظام کو کس طرح چلایا جائے؟"

پاکستان کی آئینی تاریخ اس امر کی مسلسل گواہ ہے کہ دستور مرتب کرلینا اور دستور کے مطابق ریاستی نظم کو جاری رکھنا دو الگ مراحل ہیں۔ 1954ء میں پہلی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل نے اس کشمکش کو قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی میں نمایاں کردیا تھا۔ دستور سازی کا عمل آگے بڑھ رہا تھا، لیکن 24 اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کردی۔ اس اقدام کے خلاف مولوی تمیزالدین خان کی عدالتی جدوجہد نے ریاستی اختیار، پارلیمانی حاکمیت، عدالتی تعبیر اور آئینی بالادستی کے درمیان تعلق کو ایک ایسے تنازع سے دوچار کردیا جس کے اثرات پاکستان کی آئینی تاریخ میں طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔ یوں دستور کے وجود میں آنے سے پہلے ہی یہ سوال پیدا ہوگیا کہ ریاستی اقتدار کی حدود متعین کرنے والا اصل مرجع کون ہوگا: آئین، منتخب نمائندے یا طاقت کا حامل ادارہ؟

1956ء میں پاکستان کو پہلا باقاعدہ دستور ملا، جس نے پارلیمانی طرزِ حکومت اور وفاقی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ قومی اسمبلی کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1956ء کے دستور نے پارلیمانی نظام کو اختیار کیا، لیکن یہ آئینی بندوبست بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 7 اکتوبر 1958ء کو آئین منسوخ کردیا گیا، اسمبلیاں تحلیل ہوئیں اور مارشل لا نافذ ہوا۔ 1962ء میں صدارتی نظام متعارف ہوا اور پھر 1970ء میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات منعقد ہوئے۔ ان انتخابات میں مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی، مگر اکثریتی مینڈیٹ کو اقتدار کی آئینی منتقلی کے مرحلے تک پہنچانے میں ناکامی نے ملک کو ایک ایسے بحران سے دوچار کردیا جس کا اختتام 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ہوا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تاریخی ریکارڈ بھی 1970ء کی اسمبلی اور بعد ازاں 1973ء کے دستور کی تشکیل کو اسی آئینی ارتقا کے تسلسل میں بیان کرتے ہیں۔

یہ تجربہ ایک نہایت بنیادی حقیقت آشکار کرتا ہے: وفاق صرف نقشے پر بنائی گئی سرحدوں کا نام نہیں۔ وفاق دراصل سیاسی اعتماد، آئینی تحفظ، وسائل میں شراکت، نمائندگی کے احساس اور اس یقین سے تشکیل پاتا ہے کہ عوام جسے اپنا مینڈیٹ دیں گے، اسے آئینی دائرے میں فیصلہ سازی کا حق حاصل ہوگا۔ جغرافیہ ریاست کو زمین فراہم کرسکتا ہے، مگر وفاق کو پائیداری سیاسی اعتماد سے ملتی ہے۔ جب کسی وفاقی وحدت کے باشندوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی سیاسی آواز، معاشی مفاد یا عوامی مینڈیٹ ریاستی فیصلوں میں مناسب وزن نہیں رکھتا تو محض انتظامی مرکزیت وفاقی وحدت کو مضبوط نہیں کرسکتی۔

1973ء کا آئین اسی تلخ تاریخی تجربے کے بعد پیدا ہونے والا ایک اہم قومی اتفاق تھا۔ 1970ء کی اسمبلی نے دستور سازی کا عمل مکمل کیا، دستور 12 اپریل 1973ء کو منظور ہوا اور 14 اگست 1973ء کو نافذ ہوا۔ اس دستور نے پارلیمانی نظام، دو ایوانی مقننہ، وفاقی ڈھانچے، بنیادی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں کو ایک جامع آئینی بندوبست میں جمع کیا۔ یہ دراصل اس سوال کا ایک اجتماعی جواب تھا کہ پاکستان میں ریاستی اختیار کو کس قانونی اور سیاسی نظم کے تحت استعمال کیا جائے۔ مگر بعد کے واقعات نے یہ بھی واضح کیا کہ مضبوط آئینی متن اپنی جگہ اہم ضرور ہے، لیکن اس کی حقیقی قوت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے اور اقتدار کے مختلف مراکز آئینی حدود کو محض کتابی اصول نہیں بلکہ عملی التزام سمجھیں۔

1977ء کے بعد کا مارشل لا، 1980ء کی دہائی کا محدود سیاسی عمل، 1988ء سے 1999ء تک منتخب حکومتوں کی برطرفیوں کا سلسلہ اور 1999ء میں دوبارہ فوجی اقتدار کا قیام پاکستان کے اسی طویل ادارہ جاتی اضطراب کی مختلف صورتیں تھیں۔ ان ادوار کو صرف مختلف حکمرانوں یا سیاسی جماعتوں کی داستان سمجھنا مسئلے کو محدود کردینا ہوگا۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاستی اختیار کے مختلف مراکز کے درمیان آئینی حدود، سیاسی مینڈیٹ اور ادارہ جاتی توازن کس طرح قائم رہے اور کہاں کہاں کمزور پڑے۔

اسی تناظر میں 2022ء کے سیاسی بحران کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ 10 اپریل 2022ء کو قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ہوئی اور اس کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہوئی۔ اس واقعے کے سیاسی اسباب، پس منظر اور مختلف فریقوں کی تعبیرات اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہیں، لیکن آئینی تجزیے میں ایک بنیادی امتیاز برقرار رکھنا ضروری ہے: پارلیمانی طریقۂ کار اور اس کے سیاسی محرکات کو ایک ہی چیز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدم اعتماد کا عمل آئینی پارلیمانی طریقۂ کار کے تحت ہوا، اس کے سیاسی اثرات اور پس منظر پر مختلف آرا ہوسکتی ہیں، مگر تاریخی دیانت کا تقاضا ہے کہ دستاویزی واقعے اور سیاسی تعبیر کے درمیان فاصلہ برقرار رکھا جائے۔

آج، 2026ء میں، نئے صوبوں، نئی انتظامی اکائیوں اور ریاستی نظم کی ازسرِنو تشکیل کی بحث ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔ ستمبر 2026ء میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ انتظامی ڈھانچے کے "ری سیٹ" اور نئی انتظامی اکائیوں کی ضرورت کے بارے میں اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ بعد کے بیانات میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی نئی اکائی کا قیام کسی ایک فرد، حکومت یا سیاسی جماعت کی خواہش پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوامی رائے، سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی و قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ ان بیانات کو کسی حتمی حکومتی فیصلے، منظور شدہ آئینی ترمیم یا طے شدہ قومی منصوبے کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ فی الوقت یہ معاملہ سیاسی و انتظامی بحث کا حصہ ہے، جس پر مختلف سیاسی قوتوں اور صوبائی حلقوں کے مؤقف سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر اس بحث پر سندھ میں بھی سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ وفاقی سطح پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ عوامی رائے کا تعین کس آئینی اور پارلیمانی طریقۂ کار سے ہوگا۔ ستمبر 2026ء میں وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ کے حوالے سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا کہ نئے صوبوں سے متعلق کسی ریفرنڈم یا عوامی رائے کے طریقۂ کار کے لیے پارلیمانی منظوری کا سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

اس لیے 2026ء کی موجودہ بحث کو "نئے صوبوں کا فیصلہ" کہنا قبل از وقت ہوگا۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے، اختیارات کی تقسیم، مقامی حکمرانی اور ممکنہ نئی اکائیوں کے بارے میں ایک سیاسی و انتظامی مکالمہ جاری ہے۔ کسی وفاقی وزیر کا بیان، کسی سیاسی جماعت کا مطالبہ، کسی صوبائی اسمبلی کی قرارداد یا کسی عوامی حلقے کی تجویز اپنے آپ میں آئینی تبدیلی کا متبادل نہیں۔ سیاسی گفتگو اپنی جگہ، جبکہ آئینی عمل اپنی جگہ ایک باقاعدہ اور مختلف مرحلہ ہے۔

یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ "صوبہ" اور "انتظامی یونٹ" ایک ہی تصور نہیں۔ نیا صوبہ پاکستان کے وفاقی آئینی ڈھانچے میں ایک نئی سیاسی و انتظامی اکائی کا اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ نئی صوبائی اسمبلی، انتظامی مشینری، مالیاتی بندوبست، وسائل کی تقسیم، سرکاری اثاثوں، ملازمین، نمائندگی اور وفاقی تعلقات سے متعلق متعدد سوالات پیدا ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں انتظامی یونٹ کی تشکیل بعض صورتوں میں موجودہ صوبائی آئینی حدود برقرار رکھتے ہوئے انتظامی مرکزیت کم کرنے اور حکومتی خدمات کو شہری کے قریب لانے کا ذریعہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہر نئی انتظامی حد بندی کو "نیا صوبہ" سمجھنا بھی درست نہیں اور ہر صوبائی تقسیم کو محض انتظامی اصلاح قرار دینا بھی مفہومی مغالطہ ہوگا۔

اصل سوال یہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ نئی اکائی شہری اور ریاست کے درمیان فاصلہ کم کرے گی یا صرف نقشے پر ایک نئی لکیر کا اضافہ کرے گی؟ اگر ایک نیا صوبہ وجود میں آجائے، لیکن فیصلہ سازی بدستور مرکز میں مرتکز رہے، بلدیاتی ادارے بے اختیار ہوں، مالی وسائل کی تقسیم غیر شفاف ہو، احتساب کے پیمانے یکساں نہ ہوں اور انتظامی مشینری سیاسی اثرات سے آزاد نہ ہوسکے تو نئی سرحدیں لازماً نئی حکمرانی پیدا نہیں کریں گی۔ ریاستی جغرافیہ بدلنے سے ریاستی رویہ خودبخود تبدیل نہیں ہوتا۔

اسی مقام پر آئین کا آرٹیکل 140-A غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ اس شق کے مطابق ہر صوبہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرے گا۔ اس آئینی اصول میں دراصل حکمرانی کو شہری کے قریب لانے کا بنیادی تصور پہلے ہی موجود ہے۔ اگر بلدیاتی اداروں کو مؤثر سیاسی اختیار، واضح انتظامی ذمہ داریاں اور مناسب مالی وسائل حاصل ہوں تو بہت سے ایسے مسائل، جنہیں آج نئے صوبوں کے قیام سے حل کرنے کی خواہش ظاہر کی جارہی ہے، موجودہ صوبائی حدود کے اندر بھی بڑی حد تک بہتر انتظامی تقسیم کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ نئی اکائی بنانے کا مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد صرف انتظامی فاصلہ کم کرنا ہے تو مقامی حکومت، ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر اختیارات کی حقیقی منتقلی پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ اگر مقصد سیاسی نمائندگی بڑھانا ہے تو نئے صوبے کے ساتھ مقامی نمائندگی کے اداروں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر مقصد معاشی ترقی ہے تو نئی اکائی کے مالی وسائل، محصولات، روزگار، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی استعداد کا پہلے سے جائزہ ضروری ہوگا اور اگر مقصد محض حکمرانی کی ناکامیوں کا علاج ہے تو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ ناکامی کی اصل وجہ جغرافیائی وسعت ہے یا انتظامی مرکزیت، سیاسی مداخلت، مالیاتی کمزوری اور جواب دہی کا فقدان۔

صوبائی حدود میں بنیادی تبدیلی کا معاملہ مزید حساس ہے، کیونکہ آئین نے اس کے لیے واضح طریقۂ کار مقرر کیا ہے۔ آئینی شق 239 کے تحت ایسی آئینی ترمیم جس کا اثر کسی صوبے کی حدود کی تبدیلی پر پڑتا ہو، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی مجموعی رکنیت کی منظوری کے بغیر صدر کے سامنے منظوری کے لیے پیش نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے کسی نئی صوبائی اکائی کی بحث کو صرف سیاسی خواہش یا انتظامی ضرورت کے بیان تک محدود نہیں کیا جاسکتا، اسے آئینی رضامندی اور مقررہ پارلیمانی عمل سے گزرنا ہوگا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور آئین کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے۔ سیاست میں مطالبہ ہوسکتا ہے، تجویز ہوسکتی ہے، اختلاف ہوسکتا ہے، مہم ہوسکتی ہے اور عوامی رائے ہموار کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے، مگر آئینی تبدیلی کے لیے مقررہ قانونی مراحل ضروری ہیں۔ یہی فرق کسی ریاستی نظم کو شخصی فیصلوں کے بجائے ادارہ جاتی تسلسل فراہم کرتا ہے۔ اگر انتظامی نقشے کی تبدیلی بھی آئینی طریقۂ کار کے تابع ہو تو اختلاف کو بھی ایک قانونی راستہ ملتا ہے اور اتفاقِ رائے کو بھی ایک باقاعدہ شکل۔

پاکستان کے لیے شاید بنیادی ضرورت ایک اور "نظام" تلاش کرنے سے زیادہ ایک مضبوط "آئینی رویے" کی تشکیل ہے۔ ایسا رویہ جس میں انتخابات کو اقتدار کی جائز منتقلی کا ذریعہ سمجھا جائے، پارلیمان کو محض قانون سازی کی عمارت نہیں بلکہ قومی نمائندگی کا مرکزی ادارہ تسلیم کیا جائے، حزبِ اختلاف کو سیاسی دشمن کے بجائے آئینی عمل کا فریق سمجھا جائے، عدلیہ قانون اور دستور کے مطابق آزادانہ فیصلہ سازی کرے، احتساب ثبوت اور قانون کے یکساں معیار پر قائم ہو، میڈیا کو سوال اٹھانے اور حکمرانوں سے جواب طلب کرنے کا حق حاصل ہو اور ریاستی ادارے اپنے مقررہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کریں۔

نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی افادیت کا اصل پیمانہ ان کی تعداد نہیں، ان کے نتائج ہونے چاہئیں۔ کیا شہری کو معیاری تعلیم تک آسان رسائی ملی؟ کیا بنیادی صحت کی سہولت قریب آئی؟ کیا پولیس شہری کے سامنے زیادہ جواب دہ ہوئی؟ کیا بلدیاتی اداروں کو اختیار کے ساتھ وسائل بھی ملے؟ کیا سرکاری خدمات کی ترسیل تیز، شفاف اور قابلِ نگرانی ہوئی؟ کیا ترقیاتی وسائل کی تقسیم میں علاقائی توازن پیدا ہوا؟ کیا عام شہری کو اپنے منتخب نمائندے تک رسائی آسان ہوئی؟ اور کیا نئی انتظامی ساخت نے ریاستی اداروں کو شہری کے لیے زیادہ جواب دہ بنایا؟ اگر ان سوالات کے جوابات تبدیل نہ ہوں تو نئی حد بندی، نئے دفاتر اور نئے عہدے صرف انتظامی نقشے کی توسیع ثابت ہوسکتے ہیں، حکمرانی کی اصلاح نہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو شناخت، لسانی یا علاقائی جذبات کے تناظر میں غیر ضروری طور پر اشتعال انگیز نہ بنایا جائے۔ انتظامی تقسیم اگر شفاف، آئینی، رضاکارانہ اور عوامی مشاورت پر مبنی ہو تو اسے انتظامی کارکردگی کے سوال کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، لیکن اگر یہی معاملہ سیاسی غلبے، وسائل کی کشمکش یا علاقائی احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرے تو اس کے اثرات انتظامی دائرے سے کہیں وسیع ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے کسی نئی اکائی کی تشکیل سے پہلے اس کے انتظامی فائدے کے ساتھ اس کے سیاسی، مالی، آئینی اور سماجی مضمرات کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔

پاکستان کی تاریخ یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ریاستی بحران کو کسی ایک شخصیت، جماعت یا ادارے کے کھاتے میں ڈال دینا تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنادیتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی کمزوریاں اپنی جگہ، لیکن آئینی بحرانوں کے پس منظر میں ادارہ جاتی فیصلے، عدالتی تعبیرات، انتظامی رویے، سیاسی مداخلتیں، اقتدار کی کشمکش اور کمزور جمہوری روایت بھی اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس لیے اصلاح اگر مقصود ہے تو وہ بھی کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک انتظامی سطح تک محدود نہیں ہوسکتی۔ ریاستی اصلاح کا عمل ہمہ جہت، تدریجی اور آئینی اصولوں سے مربوط ہونا چاہیے۔

آج اگر "نئے صوبے" کی بات ہورہی ہے تو اس کے ساتھ "نئی حکمرانی" کی بحث بھی ناگزیر ہے۔ اگر "نئے انتظامی یونٹس" زیرِ بحث ہیں تو یہ سوال بھی اسی شدت سے اٹھنا چاہیے کہ ان یونٹس کو حقیقی اختیار، مالی وسائل اور جواب دہی کا کون سا نظام دیا جائے گا۔ اگر "نئے نظام" کا سوال سامنے آرہا ہے تو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ موجودہ آئینی نظام میں پہلے سے موجود اصولوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں رکاوٹ کہاں ہے۔ اگر مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے تو اختیارات کی منتقلی پر بات ہونی چاہیے، اگر مسئلہ مالیاتی کمزوری ہے تو وسائل کی تقسیم پر، اگر مسئلہ انتظامی ناکارآمدی ہے تو ادارہ جاتی اصلاح پر اور اگر مسئلہ سیاسی عدم اعتماد ہے تو نمائندگی اور آئینی ضمانتوں پر۔

شاید پاکستان کو بار بار ایک نئی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے اپنے آئینی تجربے کو بالغ بنانے کی ضرورت ہے۔ انتظامی نقشہ ضرورت کے مطابق بدلا جاسکتا ہے، نئی اکائیاں بھی تشکیل دی جاسکتی ہیں اور اختیارات کی تقسیم بھی ازسرِنو مرتب ہوسکتی ہے، لیکن ریاست کی پائیداری اس وقت پیدا ہوگی جب اقتدار کے ہر مرکز پر یہ حقیقت واضح ہو کہ آئین کسی حکومت، جماعت، شخصیت یا ادارے کی ملکیت نہیں۔ آئین ریاست اور شہری کے درمیان وہ اجتماعی عہد ہے جو مختلف علاقوں، طبقات، اداروں اور سیاسی مفادات کو ایک مشترک قانونی نظم میں مربوط کرتا ہے۔

2026ء کی موجودہ بحث کا شاید سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ اسے کسی فوری سیاسی نتیجے کے بجائے ایک سنجیدہ قومی مکالمے میں تبدیل کیا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس کے حق یا مخالفت میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے آبادی، رقبہ، مالی وسائل، محصولات، انتظامی اخراجات، بنیادی ڈھانچے، پانی، تعلیم، صحت، روزگار، نمائندگی اور وفاقی مالیاتی تعلقات کا جامع مطالعہ ہونا چاہیے۔ کسی بھی مجوزہ اکائی کے لیے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس کے قیام سے شہری کو کیا نیا ملے گا جو موجودہ انتظامی ساخت میں نہیں مل رہا۔ یہی سوال کسی بھی انتظامی اصلاح کو نعرے سے پالیسی اور خواہش سے قابلِ عمل منصوبے میں تبدیل کرسکتا ہے۔

بالآخر "نیا صوبہ، نیا یونٹ یا نیا نظام؟" کا سوال اپنی موجودہ صورت سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ بنیادی سوال بن جاتا ہے: پاکستان کو نئی سرحدوں سے زیادہ نئی حکمرانی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر انتظامی اصلاح عوامی رضامندی، آئینی طریقۂ کار، مالیاتی شفافیت، مؤثر مقامی حکومت، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور بہتر عوامی خدمات سے مربوط ہو تو اس کی معنویت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اگر نئی حدود کے اندر بھی وہی مرکزیت، وہی سیاسی کشمکش، وہی ادارہ جاتی عدم توازن اور وہی جواب دہی کا فقدان منتقل ہوجائے تو نئے نام، نئے نقشے اور نئے دفاتر پرانے سوالات کو ختم نہیں کرسکیں گے۔

پاکستان کے 79 برس کا شاید سب سے گہرا سبق یہی ہے کہ ریاست کی تعمیر صرف نقشے بنانے سے نہیں ہوتی۔ ریاستی اعتبار آئین کی پاسداری، ادارہ جاتی ضبط، عوامی شرکت، شفاف حکمرانی، منصفانہ وسائل اور اقتدار کی جواب دہی سے تشکیل پاتا ہے۔ چنانچہ نقشہ بدلنے سے پہلے حکمرانی کا معیار بدلنا ہوگا، اختیارات تقسیم کرنے سے پہلے جواب دہی کا نظام مضبوط کرنا ہوگا، نئے ادارے بنانے سے پہلے ان کی مالی اور انتظامی استعداد کا تعین کرنا ہوگا اور "نئے نظام" کی تلاش سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ آئین کے ان اصولوں پر کس حد تک عمل ہوا ہے جو پہلے ہی ریاستی نظم کی بنیادی سمت متعین کرتے ہیں۔

ایک مستحکم پاکستان کی شناخت شاید اس امر سے نہیں ہوگی کہ اس میں کتنے صوبے، کتنے انتظامی یونٹس یا کتنے نئے دفاتر قائم ہوئے، بلکہ اس حقیقت سے ہوگی کہ آئین سب کے لیے یکساں معیار کی حیثیت رکھتا ہے، اختیار قانون کا پابند اور جواب دہ ہے، ادارے اپنے آئینی دائرے میں کارفرما ہیں، وسائل کی تقسیم قابلِ فہم اور قابلِ احتساب ہے اور عوامی مینڈیٹ کو محض انتخابی اعداد و شمار نہیں بلکہ ریاستی امانت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انتظامی اصلاح محض نقشہ سازی سے نکل کر حقیقی حکمرانی کی تعمیر بن جاتی ہے۔

پس سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں، کتنے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں یا موجودہ نقشے میں کتنی نئی لکیریں کھینچی جانی چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست شہری تک کس رفتار، کس انصاف اور کس جواب دہی کے ساتھ پہنچتی ہے۔ اگر نئی انتظامی اکائی شہری کو بہتر تعلیم، صحت، امن، انصاف، روزگار، بنیادی سہولت اور مؤثر نمائندگی فراہم کرتی ہے تو اس کی تشکیل ایک بامعنی اصلاح بن سکتی ہے۔ لیکن اگر پرانی مرکزیت نئی حدود کے اندر بھی زندہ رہتی ہے تو تبدیلی صرف نام کی ہوگی، نظام کی نہیں۔

پاکستان کو شاید ایک ایسے انتظامی انقلاب سے زیادہ ایک آئینی بلوغت کی ضرورت ہے جس میں اقتدار کو امانت، اختیار کو ذمہ داری، اختلاف کو جمہوری حق اور آئین کو مشترک قومی عہد سمجھا جائے۔ نئے صوبے ہوں یا نئے یونٹس، فیصلہ بہرحال اسی اصول پر ہونا چاہیے کہ ریاستی ساخت کا ہر تغیر شہری کی زندگی میں قابلِ پیمائش بہتری پیدا کرے۔ کیونکہ ریاست کا حسن اس کے نقشے کی پیچیدگی میں نہیں، اس کے شہری کے اطمینان میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں "نیا صوبہ، نیا یونٹ یا نیا نظام؟" کا سوال اپنی آخری معنویت حاصل کرتا ہے: نقشہ بدلنا اگر ضروری ہو تو ضرور بدلا جائے، مگر اس سے پہلے یہ طے کیا جائے کہ حکمرانی کا معیار کیسے بدلے گا۔ کیونکہ مستحکم پاکستان وہ نہیں جس میں صرف انتظامی اکائیاں زیادہ ہوں، مستحکم پاکستان وہ ہوگا جہاں آئین سب کے لیے معتبر ہو، اختیار جواب دہ ہو، ادارہ اپنے دائرے میں رہے، عوامی مینڈیٹ کی حرمت قائم ہو اور ریاست شہری کو محض ایک ووٹ نہیں بلکہ ایک باوقار امانت دار انسان سمجھ کر اس کے بنیادی حقوق، ضرورتوں اور مستقبل کی ذمہ داری قبول کرے۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui