Saturday, 25 July 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Ightial e Tareekh

Ightial e Tareekh

تاریخِ امم کا دفترِ عبرت اس حقیقتِ ثابتہ پر شاہدِ عدل ہے کہ جب کبھی کوئی قوتِ استیلا کسی قوم کے وجودِ اجتماعی کو معرضِ فنا میں دھکیلنے کے ارادۂ مبرم سے ہم کنار ہوئی، اس نے تیغ و تفنگ کے غلغلوں سے پہلے شعور کے چراغ گل کیے اور حافظۂ اقوام پر ضربِ کاری لگائی۔ اس لیے کہ اجساد کا انہدام تاریخ کا آخری باب ہوتا ہے، مگر اذہان کی شکست اس کا پہلا مقدمہ۔ انسان جب اپنی گزشتہ منزلوں کے نقوش بھلا دیتا ہے تو اس کے مستقبل کی راہیں بھی تاریکی میں گم ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جسے عصرِ حاضر کی اصطلاح میں "اغتیالِ تاریخ" کہا جا سکتا ہے، یعنی وہ منظم اور مدبرانہ عمل جس کے ذریعے کسی ملت کو اس کی روایت، تہذیب، شعور اور تاریخی تسلسل سے محروم کرکے اس کے وجود کو بے رشتہ، بے عنوان اور بے سمت بنا دیا جائے، حتیٰ کہ غلامی اس کے لیے جبر نہیں بلکہ معمولِ حیات بن جائے۔

برصغیر کے سیاسی افق پر ابھرنے والی نئی فکری تشکیل اسی المیے کی ایک نمایاں تمثیل ہے۔ مدتوں سے تاریخ کی تعبیر و تفسیر میں جو تدریجی تصرف جاری تھا، اب وہ ریاستی حکمتِ عملی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مغلیہ عہد، جس نے صدیوں تک برصغیر کی تہذیبی، علمی، عمرانی اور تمدنی ساخت کو مہمیز بخشی، اسے نصابی حافظے سے اس طرح خارج کیا جا رہا ہے جیسے وہ اس سرزمین کے تاریخی تسلسل میں کبھی داخل ہی نہ تھا۔ سلطانِ میسور حضرت ٹیپو شہیدؒ، جنہوں نے استعمار کے مقابل حریت کا چراغ اپنے خون سے فروزاں رکھا، ان کے تذکرے کو بھی نئی نسل کی بصیرت سے اوجھل کرنے کی سعی ہو رہی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی تاریخی شہروں، قصبات اور آثار کے اسمائے قدیم کی تبدیلی ہے، کیونکہ جب جغرافیہ اپنی تاریخی زبان کھو دیتا ہے تو تہذیب بھی رفتہ رفتہ اپنی روح سے محروم ہو جاتی ہے۔

اس فکری انقلاب کا سب سے نازک میدان مقبوضہ جموں و کشمیر ہے، جہاں تہذیبی شناخت کو براہِ راست مجروح کرنے کے بجائے پہلے اس کے حافظۂ تاریخی کو منتشر کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ کشمیریت کی تعبیر کو مشکوک، اس کی علمی روایت کو متنازع اور اس کے فکری سرمائے کو ناقابلِ اعتماد ثابت کرنے کی مسلسل کوششیں اسی منصوبۂ کبیر کا حصہ ہیں۔ بعض ناقدین اس عمل میں اُن اسالیب سے مماثلت محسوس کرتے ہیں جن کے ذریعے مختلف تنازعات میں تاریخی بیانیوں کی ازسرِنو تشکیل کی گئی، اگرچہ ہر تاریخی تناظر اپنی جداگانہ پیچیدگی رکھتا ہے، تاہم اقتدار کی نفسیات اکثر ایک ہی منطق کی پیروی کرتی ہے۔

پانچ اگست دو ہزار انیس کا آئینی اقدام اسی مسلسل سلسلۂ تغیر کا نقطۂ عروج ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ ہوا اور انتظامی اختیارات مرکز میں مرتکز ہو گئے۔ اگرچہ انتخابی عمل اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کو جمہوری تسلسل کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق حقیقی اختیارات بدستور مرکز کے مقرر کردہ انتظامی نظام کے ہاتھ میں مرتکز ہیں، جس سے نمائندہ سیاست کی معنویت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

اسی پس منظر میں متعدد علمی و تحقیقی تصانیف پر عائد پابندیوں نے ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے۔ ان کتابوں میں ایسے اہلِ علم کی تحقیقات بھی شامل تھیں جن کی علمی حیثیت بین الاقوامی سطح پر مسلم ہے، مگر انہیں کشمیر میں حساس قرار دیا گیا، حالانکہ وہی تصانیف دیگر بھارتی ریاستوں میں دستیاب رہیں۔ اس کے بعد تعلیمی اداروں، جامعات اور کتب خانوں کو اپنے ذخائر کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ہدایات دی گئیں تاکہ ایسا مواد الگ کیا جا سکے جو حکام کے نزدیک متنازع یا ریاستی موقف سے متصادم ہو۔ اس صورتِ حال نے آزادیِ تحقیق، علمی تنوع اور فکری مکالمے کے بارے میں نئے مباحث کو جنم دیا ہے۔

اسی سلسلے میں کشمیر کی معروف تاریخی شخصیات پر مبنی ایک تصنیف بھی اختلاف کا مرکز بنی۔ اس کے ناقدین کا مؤقف تھا کہ کتاب میں بعض شخصیات کی پیش کش قابلِ اعتراض ہے، جبکہ مؤیدین کے نزدیک یہ ایک تاریخی اور معروضی مطالعہ تھا۔ نتیجتاً اس کے بجائے ایک متبادل کتاب کو فروغ دیا گیا جو ریاستی بیانیے سے زیادہ ہم آہنگ سمجھی گئی۔ جب تاریخ کی تدریس، تدوین اور تعبیر ایک ہی زاویۂ نظر کے تابع ہو جائے تو علمی تنوع اور اختلافِ رائے کے امکانات لازماً محدود ہونے لگتے ہیں۔

اس ماحول نے اہلِ قلم، اساتذہ، محققین اور صحافیوں میں اضطراب کی ایک ایسی فضا پیدا کی ہے جہاں کتاب بھی شبہ کے دائرے میں اور مطالعہ بھی احتیاط کا متقاضی محسوس ہونے لگا ہے۔ نجی کتب خانے سکڑ رہے ہیں، تاریخی دستاویزات پس منظر میں جا رہی ہیں اور اہلِ فکر اس اندیشے میں مبتلا ہیں کہ کل کس متن کو ممنوع قرار دے دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار جب کتاب سے خوف زدہ ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے کاغذ سے خطرہ ہے، اسے اس شعور سے اندیشہ ہوتا ہے جو کاغذ کے اوراق سے جنم لیتا ہے۔ بندوق جسم کو مقید کرتی ہے، مگر کتاب ذہن کو آزاد کرتی ہے۔

اسی لیے متعدد اہلِ تحقیق اس پورے منظرنامے کو محض سنسرشپ نہیں بلکہ اجتماعی حافظے کی تدریجی تحلیل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب ریاست اس امر کا تعین کرنے لگے کہ قوم کیا یاد رکھے، کیا فراموش کرے، کن کرداروں کو عظمت دے اور کنہیں تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دے، تو دراصل وہ مستقبل کی تعمیر سے پہلے ماضی کی بنیادوں کو ازسرِنو استوار کرنا چاہتی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ کن سبق یہی ہے کہ شناخت کی ہر عظیم شکست حافظے کی ایک خاموش شکست سے جنم لیتی ہے۔ چنانچہ اغتیالِ تاریخ محض کتابوں کی ضبطی کا نام نہیں، بلکہ وہ فکری انقطاع ہے جس کے بعد اقوام زندہ رہ کر بھی اپنی تہذیبی روح سے محروم ہو جاتی ہیں اور یہی کسی بھی قوم کی سب سے گہری شکست ہوتی ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais