ایک قدیم شہر کی روایت ہے کہ وہاں ہر سال ایک عظیم مقابلہ منعقد ہوتا تھا۔ اعلان کیا جاتا کہ جو سب سے زیادہ اہل ہوگا، وہی شہر کے سب سے باوقار منصب تک پہنچے گا۔ برسوں تک لوگ اس وعدے پر یقین کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن معلوم ہوا کہ مقابلے کے سوالات پہلے ہی چند طاقتور خاندانوں کے ہاتھ لگ چکے تھے۔ ابتدا میں لوگوں نے سمجھا کہ مسئلہ صرف ایک امتحان کا ہے، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ دراصل سوالنامہ نہیں، انصاف چوری ہوا ہے۔ اس روز شہر کے نوجوان پہلی مرتبہ محل کے دروازوں تک پہنچے اور بادشاہ نے ان کے سوالوں کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے سپاہیوں کو آگے بڑھا دیا۔ یوں ایک تعلیمی بحران لمحوں میں سیاسی بحران میں تبدیل ہوگیا۔
جمہوریت کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت سب سے زیادہ بے چین ہوتی ہیں جب نوجوان نسل اعتماد کھونے لگتی ہے۔ معاشی بدحالی، بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیاں، میرٹ کی پامالی اور مستقبل کے امکانات کا سکڑ جانا بظاہر الگ الگ مسائل دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔ جب ان میں سے کسی ایک کڑی پر شدید ضرب پڑتی ہے تو پوری زنجیر لرز اٹھتی ہے۔ بھارت میں قومی اہلیت و داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے کے افشا ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اسی وسیع تر بحران کی علامت ہے، جہاں احتجاج کا مرکز صرف ایک امتحان نہیں بلکہ ریاستی اعتماد کی شکست ہے۔
سیاسیات کے جدید مباحث میں کوپن ہیگن اسکول نے سیکیورٹائزیشن کا جو نظریہ پیش کیا، وہ اس نوعیت کے واقعات کو سمجھنے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس تصور کے مطابق ہر مسئلہ اپنی اصل میں سیاسی، سماجی یا معاشی ہوتا ہے، لیکن جب ریاست یا طاقتور سیاسی حلقے اسے قومی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ قرار دینا شروع کر دیں تو وہ معمول کی سیاست سے نکل کر ہنگامی سیاست میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر قانون کی معمول کی حدود پیچھے ہٹنے لگتی ہیں اور غیر معمولی اختیارات کو عوامی مفاد کے نام پر جائز قرار دیا جانے لگتا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ کسی حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ ہر ریاست اپنے شہریوں اور اداروں کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایک تعلیمی احتجاج کو اس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے کہ گویا وہ ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے؟ اگر احتجاج کرنے والے طالب علم رفتہ رفتہ "سیاسی مخالف" سے "سلامتی کے خطرے" میں تبدیل کر دیے جائیں تو پھر طاقت کا استعمال انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے۔
جدید دنیا میں یہ رجحان کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ امریکہ میں نائن الیون کے بعد قومی سلامتی کے نام پر غیر معمولی اختیارات متعارف کرائے گئے۔ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہنگامی قوانین نے حکومتی اختیارات کو نئی وسعت دی۔ مصر میں داخلی استحکام کے نام پر سیاسی آزادیوں کو محدود کیا گیا، جبکہ کشمیر میں خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سلامتی کے تقاضوں کو بنیاد بنا کر طویل المدت انتظامی اقدامات نافذ کیے گئے۔ ان تمام مثالوں میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے کہ ہنگامی اقدامات عارضی کہہ کر متعارف کرائے گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ حکمرانی کے مستقل ڈھانچے کا حصہ بنتے چلے گئے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فرینکنسٹائن کی تمثیل حیرت انگیز معنویت اختیار کرتی ہے۔ اصل عفریت احتجاج کرنے والے نوجوان نہیں ہوتے بلکہ وہ غیر معمولی ریاستی اختیارات ہوتے ہیں جو ابتدا میں کسی ایک بحران سے نمٹنے کے لیے تخلیق کیے جاتے ہیں۔ جب طاقت اپنے لیے نئی قانونی اور انتظامی گنجائش پیدا کر لیتی ہے تو پھر وہ شاذ ہی پرانی حدود میں واپس آتی ہے۔ اس طرح ریاست آہستہ آہستہ اپنی ہی تخلیق کردہ قوت کی اسیر بنتی جاتی ہے اور جمہوریت کا توازن خاموشی سے تبدیل ہونے لگتا ہے۔
بھارت کے موجودہ حالات کا ایک اور پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ امتحانی پرچوں کا افشا، نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، سرکاری آسامیوں کی محدود تعداد، مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے نئے خدشات اور سماجی نمائندگی پر جاری مباحث سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر لاکھوں نوجوان یہ محسوس کرنے لگیں کہ محنت اور قابلیت کے باوجود ان کے لیے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں، تو احتجاج صرف جذباتی ردعمل نہیں رہتا بلکہ سماجی معاہدے پر عدم اعتماد کا اظہار بن جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرے، شکایات کو سنے اور اصلاح کے لیے ادارہ جاتی راستے فراہم کرے۔ جب ریاست احتجاج کو محض طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کرتی ہے تو بظاہر سڑکیں ضرور خالی ہو جاتی ہیں، لیکن دلوں میں سوال پہلے سے زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ طاقت وقتی خاموشی پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔
تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب نوجوان سوال پوچھتے ہیں، بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ریاست سوال کو جرم اور اختلاف کو خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ اگر ایک امتحان کی شفافیت کا مطالبہ قومی سلامتی کے بیانیے میں گم ہو جائے تو پھر مسئلہ صرف تعلیمی نظام کا نہیں رہتا بلکہ آئینی توازن، جمہوری روایت اور ریاستی اخلاقیات کا بن جاتا ہے۔ اسی لیے ہر ذمہ دار حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ احتجاج کو دشمنی نہیں، اصلاح کا موقع سمجھے، کیونکہ جب ریاست اپنے نوجوانوں کے سوالوں سے خوفزدہ ہونے لگے تو اصل بحران سڑکوں پر نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں جنم لے چکا ہوتا ہے۔