Sunday, 25 October 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Jadeed Tehzeeb Ka Khamosh Bohran

Jadeed Tehzeeb Ka Khamosh Bohran

عصرِ حاضر کی مادی تہذیب نے انسانی ترقی، معاشی فراوانی، سائنسی انکشافات اور تکنیکی برتری کے ایسے شاندار تصورات پیش کیے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ترقی یافتہ اقوام نے امن، استحکام اور قانون پسندی کی منزل حاصل کرلی ہو۔ مگر ان معاشروں کے داخلی احوال کا گہرا جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف حقیقت سامنے آتی ہے: مادی خوشحالی اور سائنسی ترقی لازماً اخلاقی تحفظ، سماجی سکون اور انسانی اطمینان کی ضمانت نہیں۔

برطانیہ، جو طویل عرصے سے جمہوری روایات، قانون پسندی اور شہری نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے، جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باعث سنجیدہ فکری بحث کا موضوع بن رہا ہے۔ گاڑیوں کی چوری، نقب زنی، پُرتشدد جرائم، جنسی جرائم اور سڑکوں پر ہونے والی وارداتیں اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جدید ریاست کے مضبوط انتظامی ڈھانچے کے باوجود معاشرتی سطح پر بے چینی موجود ہے۔

یہ صورتِ حال اس لیے بھی قابلِ غور ہے کہ برطانیہ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس جدید نگرانی کے وسائل، سی سی ٹی وی کیمرے، حفاظتی نظام اور دیگر جدید ذرائع موجود ہیں۔ اس کے باوجود جرم کا مکمل سدباب نہیں ہوسکا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جرم کو صرف پولیس، عدالت اور سزا کے زاویے سے سمجھنا کافی نہیں، اس کے پیچھے معاشرتی، نفسیاتی، معاشی اور تہذیبی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔

ان عوامل میں غیر معمولی دولت کے حصول کی بے تابی نمایاں ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ معاشروں میں کامیابی کا معیار اکثر دولت، اثاثوں اور ظاہری آسائشوں سے متعین ہونے لگتا ہے۔ جب معاشرتی حیثیت کا انحصار مادی کامیابی پر ہو اور فرد جائز ذرائع سے مطلوبہ معیارِ زندگی حاصل نہ کرسکے تو بعض افراد فوری دولت کے حصول کے لیے غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔

اس کے ساتھ خاندانی نظام کی کمزوری، سماجی رشتوں کی تحلیل، بڑھتی ہوئی انفرادیت، نفسیاتی دباؤ، معاشی غیر یقینی اور شہری زندگی کی بے چہرہ ہجومیت بھی اہم عوامل ہیں۔ جب انسان اپنی اجتماعی شناخت، خاندانی وابستگی اور معاشرتی ذمہ داری کے احساس سے محروم ہونے لگتا ہے تو قانون اور اخلاق کے ساتھ اس کا تعلق بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔

جرائم کا ایک حصہ عادی مجرموں، منظم جرائم پیشہ گروہوں اور منشیات سے وابستہ عناصر کے گرد بھی مرکوز ہوتا ہے۔ اسی لیے جدید ریاستیں خصوصی عدالتوں، سخت قانونی اقدامات اور جدید نگرانی کے نظام کو فروغ دے رہی ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ صرف سزا کی شدت جرم کا مستقل علاج نہیں۔ جرم کے اسباب کو ختم کیے بغیر قانون کی گرفت محض عارضی نتائج پیدا کرسکتی ہے۔

پولیس کے وسائل اور افرادی قوت کی حدود بھی اہم ہیں۔ اگر ایک اہلکار کے ذمہ ہزاروں شہریوں، وسیع شاہراہوں اور متعدد عوامی مقامات کی نگرانی ہو تو ہر جرم کی بروقت روک تھام آسان نہیں رہتی۔ جدید پولیسنگ کا اصل تقاضا یہ ہے کہ وہ جرم کے وقوع کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے اس کی پیش بندی اور روک تھام پر بھی توجہ دے۔

لندن جیسے عالمی شہر میں سٹریٹ کرائم اور راہ زنی کے واقعات یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ بلند و بالا عمارتیں، جدید ٹرانسپورٹ، ترقی یافتہ مواصلاتی نظام اور سائنسی سہولیات کسی معاشرے کو ازخود محفوظ نہیں بنا سکتیں۔ حقیقی تحفظ کے لیے اخلاقی شعور، سماجی اعتماد، خاندانی استحکام اور قانون کا احترام بھی ناگزیر ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ کسی قوم کی اصل قوت صرف اقتصادی اشاریوں، مالیاتی حجم یا تکنیکی برتری میں نہیں بلکہ اس کے اخلاقی کردار، سماجی اعتماد، خاندانی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ بنیادیں کمزور پڑنے لگیں تو ترقی کے بلند مینار بھی داخلی عدم تحفظ کے سائے میں آجاتے ہیں۔ اس لیے جدید تہذیب کے جرائم کو محض پولیس اور عدالت کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک وسیع تر سماجی و تہذیبی بحران کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ پائیدار حل اسی وقت ممکن ہے جب قانون کی قوت کے ساتھ اخلاق، خاندان، تعلیم، معاشرتی ذمہ داری اور انسانی وقار کو بھی مضبوط کیا جائے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui