Monday, 27 April 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Khamosh Deta, Phelta HIV

Khamosh Deta, Phelta HIV

سندھ میں عوامی صحت کے افق پر ایک ایسی تشویش ناک دھند چھاتی محسوس ہو رہی ہے جس کے اندر حقیقت کے خدوخال دھندلا گئے ہیں اور اندازوں، قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات نے ایک اضطراب انگیز فضا قائم کر دی ہے۔ ایچ آئی وی/ایڈز جیسے حساس اور دیرپا اثرات کے حامل مرض کے حوالے سے جب مستند اعداد و شمار نظروں سے اوجھل ہوں اور سرکاری سطح پر وضاحت کا فقدان ہو تو یہ محض ایک انتظامی کمزوری نہیں بلکہ پبلک ہیلتھ گورننس کے بنیادی اصولوں سے انحراف کے مترادف بن جاتا ہے۔ اس وقت سندھ میں جو صورتحال ابھر کر سامنے آ رہی ہے، وہ اسی نوعیت کے ایک پیچیدہ بحران کی غمازی کرتی ہے، جہاں بیماری سے زیادہ خطرناک اس کے بارے میں لاعلمی اور ابہام ہے۔

رواں سال کی ابتدائی سہ ماہی میں غیر سرکاری ذرائع سے سامنے آنے والے اعداد و شمار اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس اضافے کی نوعیت، جغرافیائی پھیلاؤ اور متاثرہ آبادی کے طبقات کے بارے میں کوئی واضح اور مستند تصویر موجود نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جو خدشات کو جنم دیتا ہے۔ جب ریاستی ادارے خاموشی اختیار کریں یا محض عمومی بیانات تک محدود رہیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آیا اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین تو نہیں جسے ظاہر ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ صحت عامہ کے معاملات میں شفافیت محض ایک اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ عملی ضرورت ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر حکمت عملی تشکیل دی جاتی ہے، وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی آگاہی کی مہمات ترتیب پاتی ہیں۔

چند روز قبل Medical Microbiology and Infectious Diseases Society of Pakistan کی جانب سے جاری کردہ وائٹ پیپر میں ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ پر جو تشویش ظاہر کی گئی، وہ دراصل ایک سنجیدہ انتباہ تھا۔ اس دستاویز میں سندھ کے بعض علاقوں میں سامنے آنے والے آؤٹ بریکس کا حوالہ بھی دیا گیا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض انفرادی کیسز تک محدود نہیں بلکہ ممکنہ طور پر کمیونٹی لیول پر پھیلاؤ اختیار کر رہا ہے۔ ایسے میں سرکاری سطح پر خاموشی یا مبہم وضاحتیں نہ صرف اس انتباہ کی شدت کو بڑھاتی ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کرتی ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جب میڈیا رپورٹس کو "غیر مصدقہ" قرار دیا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ متبادل اور مستند ڈیٹا فراہم نہیں کیا جاتا تو یہ طرزِ عمل ایک خلا کو جنم دیتا ہے۔ یہ خلا افواہوں کو تقویت دیتا ہے، غیر ذمہ دارانہ بیانیوں کو جگہ دیتا ہے اور سنجیدہ مکالمے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ڈاکٹر کنول مصطفیٰ جیسے ذمہ دار عہدیداران کا براہ راست اعداد و شمار فراہم کرنے کے بجائے عمومی بیانات پر اکتفا کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یا تو ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام کمزور ہے یا پھر اسے منظر عام پر لانے میں کوئی ہچکچاہٹ موجود ہے۔ دونوں صورتیں یکساں طور پر تشویش ناک ہیں۔

عالمی سطح پر دیکھا جائے تو World Health Organization اور UNAIDS جیسے ادارے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی نگرانی، رپورٹنگ اور کنٹرول کے لیے جس شفاف اور مربوط نظام پر زور دیتے ہیں، اس کی بنیاد ہی بروقت اور درست ڈیٹا ہے۔ یہی ڈیٹا اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کن علاقوں میں ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، کن گروہوں میں آگاہی مہمات کو تیز کرنا ہے اور کہاں طبی سہولیات کو وسعت دینی ہے۔ اگر یہ بنیادی ستون ہی کمزور ہو جائے تو پوری حکمت عملی غیر مؤثر ہو کر رہ جاتی ہے۔

سندھ کے تناظر میں ایک اور اہم پہلو سماجی و معاشرتی حساسیت کا ہے۔ ایچ آئی وی/ایڈز اب بھی ایک ایسا مرض ہے جس کے ساتھ سماجی بدنامی جڑی ہوئی ہے۔ متاثرہ افراد اکثر علاج اور تشخیص سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں معاشرتی ردعمل کا خوف ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر سرکاری سطح پر بھی واضح معلومات فراہم نہ کی جائیں تو یہ خوف مزید گہرا ہو جاتا ہے اور بیماری پسِ پردہ پھیلتی رہتی ہے۔ اس خاموش پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف ڈیٹا شفاف ہو بلکہ اس کی بنیاد پر ایک مربوط آگاہی مہم بھی چلائی جائے جو بیماری کو بدنامی کے دائرے سے نکال کر ایک طبی مسئلے کے طور پر پیش کرے۔

پالیسی سازی کے زاویے سے دیکھا جائے تو ڈیٹا کی عدم دستیابی ایک سنگین رکاوٹ ہے۔ جب حکام کے پاس درست اعداد و شمار نہ ہوں یا وہ انہیں شیئر نہ کریں تو وسائل کی تقسیم اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہو جاتی ہے۔ کن اضلاع میں ٹیسٹنگ سینٹرز بڑھانے ہیں، کہاں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، کن طبقات میں اسکریننگ کو ترجیح دینی ہے یہ سب فیصلے ڈیٹا کے بغیر ممکن نہیں۔ نتیجتاً نہ صرف وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے مواقع بھی ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہوتا ہے، جو نہ تو اصل خطرے کا اندازہ لگا پاتا ہے اور نہ ہی بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر پاتا ہے۔ صحت عامہ کے بحرانوں میں معلومات کی بروقت فراہمی کسی ویکسین سے کم اہم نہیں ہوتی۔ یہ لوگوں کو باخبر کرتی ہے، انہیں ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر آمادہ کرتی ہے اور معاشرے میں اجتماعی شعور کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے برعکس خاموشی، ابہام اور تاخیر نہ صرف بیماری کو پھیلنے دیتی ہے بلکہ خوف اور بداعتمادی کو بھی جنم دیتی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ماضی میں سندھ کے بعض علاقوں، خصوصاً لاڑکانہ، میں ایچ آئی وی کے بڑے آؤٹ بریکس سامنے آ چکے ہیں، جہاں بچوں تک میں یہ مرض پھیلنے کی خبریں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی تھیں۔ ایسے تجربات کے بعد توقع یہی کی جاتی تھی کہ صوبائی سطح پر ایک مضبوط نگرانی اور رپورٹنگ کا نظام قائم کیا جائے گا، مگر موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہ نہ صرف سبق آموز مواقع کے ضیاع کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت سندھ فوری طور پر ایک جامع اور شفاف ڈیٹا سیٹ جاری کرے جس میں نئے کیسز، متاثرہ علاقوں، عمر کے گروہوں اور ممکنہ وجوہات کی تفصیل شامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ پریس بریفنگ کے ذریعے صورتحال کی وضاحت کی جائے تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو اور عوام کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ماہرین صحت، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمت عملی تشکیل دینا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ اس نوعیت کے بحران کا مقابلہ صرف سرکاری سطح پر ممکن نہیں۔

آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز کا مسئلہ محض ایک طبی چیلنج نہیں بلکہ ایک سماجی، نفسیاتی اور انتظامی امتحان بھی ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کا دارومدار شفافیت، بروقت اقدام اور اجتماعی ذمہ داری پر ہے۔ اگر ہم نے اس موقع پر بھی خاموشی اور ابہام کو ترجیح دی تو ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں ہمیں اس کی کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانی پڑے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais