Tuesday, 15 September 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. Naye Sube, Nayi Hukumrani?

Naye Sube, Nayi Hukumrani?

کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت اس کے جغرافیائی رقبے، انتظامی اکائیوں کی تعداد یا سرکاری نقشوں پر کھینچی گئی حد بندیوں سے نہیں، بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان قائم اعتماد کے رشتے سے متعین ہوتی ہے۔ جب یہ رشتہ کمزور پڑنے لگے اور حکمران اشرافیہ کی ترجیحات عام آدمی کی بنیادی ضرورتوں سے متصادم دکھائی دینے لگیں تو ریاستی نظم کا سب سے اہم سوال انتظامی نقشہ نہیں بلکہ حکمرانی کی سمت بن جاتا ہے۔

پاکستان میں آج یہی بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی قوتِ خرید، بجلی و گیس کے ہوش ربا اخراجات، تعلیم و صحت کی دشواریاں اور روزمرہ زندگی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی عام شہری کو مسلسل مضطرب رکھے ہوئے ہے، دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں نئے صوبوں، انتظامی اکائیوں اور صوبائی حدود کی ازسرِنو تشکیل کا چرچا ہے۔ حالیہ Ipsos سروے بھی اس اجتماعی بے اطمینانی کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ملک کی موجودہ سمت سے مطمئن نہیں، جبکہ معیشت اور مہنگائی ان کے سب سے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومتی ترجیحات کا سوال خود ایک بڑا سیاسی سوال بن جاتا ہے۔

نئے صوبوں کا قیام اصولی اعتبار سے کوئی ناقابلِ تصور یا غیر جمہوری اقدام نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک نے بدلتے ہوئے آبادیاتی، معاشی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق اپنی ریاستی ساخت میں تبدیلیاں کی ہیں۔ پاکستان میں بھی جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور دیگر علاقوں کے حوالے سے انتظامی تشکیلِ نو کی بحث طویل عرصے سے جاری رہی ہے۔ تاہم ایک بالغ ریاست میں کسی انتظامی تبدیلی کا آغاز سیاسی نعرے سے نہیں بلکہ تحقیق سے ہوتا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ نئی اکائی کا معاشی حجم کیا ہوگا، اس کے وسائل اور محصولات کہاں سے آئیں گے، پانی کی تقسیم کس اصول کے تحت ہوگی، سرکاری مشینری اور اداروں کی نئی ساخت کیا ہوگی، مقامی آبادی کی نمائندگی کس طرح یقینی بنائی جائے گی اور نئی حد بندی قومی وحدت کو مضبوط کرے گی یا نئی شناختی کشمکش کو جنم دے گی۔ محض یہ تصور کہ چھوٹے صوبے لازماً بہتر حکومت فراہم کرتے ہیں، ایک ایسا سادہ مفروضہ ہے جسے عملی شواہد کے بغیر پالیسی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

حالیہ عرصے میں وفاقی وزرا کی جانب سے نئے صوبوں اور بڑی تعداد میں انتظامی اکائیوں کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ بعض تجاویز میں موجودہ صوبوں کو مزید حصوں میں تقسیم کرنے کی بات ہوئی، جبکہ بعض میں بڑی تعداد میں بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔ بظاہر دونوں تصورات کا مرکزی مقصد انتظامی اختیارات کو عوام کے قریب لانا اور حکمرانی کی کارکردگی بہتر بنانا ہے، مگر یہاں ایک بنیادی سوال نظرانداز نہیں ہونا چاہیے: کیا پاکستان کا بحران واقعی صوبوں کی تعداد کا بحران ہے؟ اگر مسئلہ انتظامی مرکزیت، کمزور بلدیاتی اداروں، غیر مؤثر بیوروکریسی، ناقص منصوبہ بندی اور وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کا ہے تو صرف نئے صوبے بنا دینے سے یہ بیماریاں کیسے ختم ہوں گی؟ ایک ہی انتظامی ثقافت، وہی افسر شاہی، وہی سیاسی مداخلت اور وہی کمزور احتساب اگر نئی اکائیوں میں منتقل کر دیا جائے تو نقشہ تو بدل جائے گا، نظام نہیں۔

سندھ میں اس بحث پر سامنے آنے والا شدید سیاسی ردعمل اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد، پیپلز پارٹی کا واضح مؤقف، ایم کیو ایم کے تحفظات اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مختلف ردعمل نے واضح کر دیا ہے کہ صوبائی حدود کا معاملہ محض انتظامی سہولت کا مسئلہ نہیں بلکہ تاریخی شناخت، سیاسی نمائندگی، وسائل کی تقسیم اور وفاقی اعتماد سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں سیاسی قوت، عددی اکثریت یا عجلت سے زیادہ وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس فیصلے کے نتیجے میں وفاق کی کسی اکائی کو یہ احساس پیدا ہو کہ اس کی شناخت یا سیاسی رضامندی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، وہ انتظامی اصلاح کے بجائے سیاسی بے اعتمادی کو جنم دے سکتا ہے۔

آئینِ پاکستان نے صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے ایک واضح راستہ متعین کر رکھا ہے۔ آرٹیکل 239 کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی منظوری ضروری ہے، جس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس آئینی بندوبست کی روح ہی یہ ہے کہ وفاقی اکائیوں کی جغرافیائی ساخت میں کوئی بنیادی تبدیلی محض مرکزی اقتدار کی خواہش پر نہ کی جا سکے۔ لہٰذا اگر کبھی نئے صوبوں کی ضرورت محسوس ہو تو اسے آئینی اتفاقِ رائے، جامع تحقیق اور متعلقہ علاقوں کی حقیقی سیاسی و عوامی رضامندی کے راستے سے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ ریفرنڈم یا کسی غیر واضح متبادل راستے کے ذریعے آئینی تقاضوں کو کمزور کرنے کی کوشش وفاقی نظام کے لیے غیر معمولی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کے گورننس بحران کا ایک فوری اور نسبتاً قابلِ عمل حل مضبوط بلدیاتی نظام میں موجود ہے۔ آئین کی روح کے مطابق مقامی حکومتیں محض انتخابی نمائندگی کے نمائشی ادارے نہیں بلکہ عوامی خدمت کی بنیادی اکائیاں ہونی چاہئیں۔ شہری کا واسطہ روزانہ پانی، صفائی، سڑک، نکاسیِ آب، ٹریفک، مقامی صحت، تعلیم اور شہری منصوبہ بندی سے پڑتا ہے، ان مسائل کے حل کے لیے ہر معاملہ صوبائی دارالحکومت تک پہنچانا انتظامی دانش مندی نہیں۔ اگر منتخب بلدیاتی اداروں کو مالی وسائل، قانونی اختیار، انتظامی خودمختاری اور مؤثر احتساب دیا جائے تو ریاستی اختیار حقیقی معنوں میں شہری کے دروازے تک پہنچ سکتا ہے۔

حکمرانی کی کامیابی کا راز جغرافیائی تقسیم سے زیادہ ادارہ جاتی معیار میں پوشیدہ ہے۔ قانون کی بالادستی، شفافیت، احتساب، میرٹ، مستقل معاشی پالیسی، باصلاحیت انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی جواب دہی کے بغیر دنیا کا بہترین انتظامی نقشہ بھی عوام کو بہتر زندگی فراہم نہیں کر سکتا۔ مہنگائی سے پریشان خاندان کو نئے صوبے کی سرحد سے زیادہ آٹے، بجلی، علاج، تعلیم اور روزگار کی فکر ہے۔ نوجوان کو نئے دارالحکومت سے زیادہ اپنے مستقبل کی ضمانت درکار ہے۔ کسان کو نئی صوبائی حد سے زیادہ پانی، مناسب قیمت اور زرعی تحفظ چاہیے۔ مزدور کو نئی انتظامی اکائی سے زیادہ باعزت روزگار اور معاشی تحفظ مطلوب ہے۔

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے واقعی وہ مسئلہ حل کریں گے جس نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے؟ اگر جامع تحقیق اس ضرورت کو ثابت کرتی ہے، اگر معاشی و انتظامی امکانات واضح ہیں، اگر متعلقہ صوبوں اور سیاسی قوتوں میں اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے اور اگر آئینی تقاضے پورے ہوتے ہیں تو انتظامی تشکیلِ نو پر سنجیدہ غور ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر صوبوں کی بحث عوام کے حقیقی معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بن جائے تو یہ اصلاح نہیں، ترجیحات کا بحران ہوگا۔ پاکستان کو فی الوقت نقشوں کی تزئین سے زیادہ حکمرانی کی تعمیرِ نو درکار ہے۔ نئی لکیریں کھینچنے سے پہلے ان اداروں کو درست کرنا ہوگا جو پہلے سے موجود ہیں، کیونکہ مضبوط ریاستیں نقشے بدل کر نہیں، نظامِ حکمرانی بہتر بنا کر مضبوط ہوتی ہیں۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui