Saturday, 14 March 2026
  1. Home/
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi/
  3. SESSI Seminar: Ba Ikhtiar Aurat Aur Mehnat Kash Khawateen Ke Huqooq

SESSI Seminar: Ba Ikhtiar Aurat Aur Mehnat Kash Khawateen Ke Huqooq

عصرِ حاضر میں خواتین کا کردار محض گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ معاشرے کی فکری، سماجی اور معاشی تعمیر میں ایک فعال اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر چکی ہیں۔ جدید دنیا میں ترقی کے پیمانے صرف معاشی نمو یا صنعتی پیش رفت تک محدود نہیں بلکہ اس امر سے بھی جڑے ہوئے ہیں کہ کسی معاشرے میں خواتین کو کس حد تک مساوی مواقع، محفوظ ماحول اور باعزت مقام فراہم کیا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں روایتی سماجی ڈھانچے اب بھی مضبوط ہیں، وہاں خواتین کی پیشہ ورانہ جدوجہد ایک اہم سماجی حقیقت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اسی تناظر میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب محض رسمی اجتماعات نہیں بلکہ ان مسائل، چیلنجز اور امکانات پر غور و فکر کا موقع فراہم کرتی ہیں جو خواتین بالخصوص محنت کش طبقے کی خواتین کو درپیش ہیں۔

اسی سلسلے میں ولیکا اسپتال سائٹ میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک بامقصد سیمینار منعقد کیا گیا جس کا موضوع "بااختیار عورت اور محنت کش خواتین کے حقوق" تھا۔ یہ پروگرام سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے شعبہ تعلقات عامہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا جس میں خواتین کے حقوق، ان کی پیشہ ورانہ مشکلات اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو کی گئی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے نہایت مدلل اور فکرانگیز انداز میں خواتین کے کردار اور ان کے حقوق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے محنت کش خواتین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین معاشرے کی فکری، اخلاقی اور سماجی تشکیل میں نہایت اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اس موقع پر سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کی گورننگ باڈی کی رکن زہرا خان نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستانی خواتین معاشرے کی فکری و اخلاقی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک مہذب اور متوازن معاشرہ اسی وقت وجود میں آ سکتا ہے جب خواتین کو تعلیم، روزگار اور فیصلہ سازی کے میدانوں میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔

تقریب میں دیگر مقررین میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ وسیم جمال، ڈاکٹر حنا اعجاز اور ولیکا اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین بھی شامل تھے جنہوں نے اپنے خطابات میں خواتین کے کردار اور ان کے مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین صرف خاندان کی تربیت ہی نہیں کرتیں بلکہ وہ معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں پیشہ ورانہ زندگی میں بھی وہی احترام اور سہولتیں فراہم کی جائیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کا بنیادی اصول ہوتی ہیں۔

ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ وسیم جمال نے اپنے خطاب میں کہا کہ محنت کش خواتین معاشرے اور معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں کام کی جگہ پر باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خواتین کے مسائل کے حل اور ان کی فلاح کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر حنا اعجاز نے خواتین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین ہر شعبۂ زندگی میں اپنی محنت، قابلیت اور عزم کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں مزید مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ولیکا سوشل سیکیورٹی ہسپتال، جنرل سرجن ڈاکٹر غیاث الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحت کے شعبے میں خواتین کی خدمات قابلِ تحسین ہیں اور ادارے کی کوشش ہے کہ خواتین ملازمین کو بہتر سہولیات اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

زہرا خان نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ ادارہ جاتی سطح پر خواتین ملازمین کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بہت سی خواتین اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران مختلف مشکلات کا سامنا کرتی ہیں جن میں بنیادی سہولیات کی کمی، پیشہ ورانہ عدم مساوات اور بعض اوقات نامناسب رویوں جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان کے مطابق اگر ادارے اپنے اندر مثبت اور احترام پر مبنی ماحول پیدا کریں تو خواتین کی کارکردگی اور اعتماد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تقریب کے دوران مقررین نے اس حقیقت کی جانب بھی توجہ دلائی کہ حکومتِ پاکستان نے خواتین کی خودمختاری اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین متعارف کرائے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد خواتین کو ہراسانی، استحصال اور امتیازی سلوک سے محفوظ بنانا ہے۔ تاہم ان قوانین کی مؤثر عملداری کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کے اندر آگاہی پیدا کی جائے اور ایسے انتظامی اقدامات کیے جائیں جو خواتین کو عملی طور پر ایک محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کر سکیں۔

محنت کش خواتین کے مسائل دراصل کئی جہتوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ معاشی ذمہ داریوں کو نبھاتی ہیں اور دوسری طرف انہیں سماجی تعصبات اور روایتی ذہنیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صنعتی اداروں، ہسپتالوں اور دفاتر میں کام کرنے والی خواتین اکثر اوقات طویل اوقاتِ کار، محدود سہولیات اور پیشہ ورانہ ترقی کے محدود مواقع جیسے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں ادارہ جاتی اصلاحات اور حساس پالیسیوں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ادارے کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہاں کام کرنے والے تمام افراد کو مساوی مواقع اور عزت دی جائے۔ خواتین کو بااختیار بنانا دراصل اداروں کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کی شمولیت نے نہ صرف معیشت کو مضبوط کیا ہے بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی فروغ دیا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں خواتین کی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ دیہی علاقوں میں زرعی سرگرمیوں سے لے کر شہری مراکز میں صحت، تعلیم اور صنعت کے شعبوں تک خواتین اپنی محنت اور صلاحیتوں کے ذریعے قومی ترقی میں حصہ ڈال رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان کی خدمات کو وہ اعتراف اور سہولیات نہیں ملتیں جن کی وہ مستحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سیمینارز اور مباحث معاشرے میں شعور پیدا کرنے کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی کو ادارے کی جانب سے یادگاری شیلڈ اور سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک بطور تحفہ پیش کی گئی۔ یہ روایت نہ صرف مہمانوں کے احترام کی علامت ہے بلکہ سندھ کی تہذیبی اقدار اور ثقافتی روایت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے حقوق اور ان کی پیشہ ورانہ بہتری کا مسئلہ محض ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ایک مستقل سماجی اور ادارہ جاتی عمل کے طور پر آگے بڑھانا ہوگا۔ جب تک معاشرے میں صنفی مساوات، باہمی احترام اور انصاف کے اصولوں کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک حقیقی ترقی کا خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے، سماجی تنظیمیں اور نجی شعبہ مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جو خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں۔ اگر یہ اجتماعی شعور مضبوط ہو جائے کہ خواتین معاشرے کی ترقی میں برابر کی شریک ہیں تو یقیناً پاکستان ایک زیادہ منصفانہ، متوازن اور روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais