Saturday, 14 March 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Afghan Awam Ko Bhook Se Maarne Ki Policy

Afghan Awam Ko Bhook Se Maarne Ki Policy

افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں سیاسی فیصلوں کی قیمت عام عوام کو اپنی روزمرہ زندگی سے ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ شاید جنگ زدہ ملک میں استحکام آئے گا، معیشت سنبھلے گی اور عوام کو کم از کم روٹی روزگار کا اطمینان نصیب ہوگا۔ مگر حالات کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک مختلف اور زیادہ تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔

حالیہ دنوں میں افغان تاجروں اور کاروباری نمائندوں کی جانب سے جو خدشات ظاہر کیے گئے ہیں وہ نہ صرف افغانستان کی معیشت بلکہ اس کے مستقبل کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ بورڈ کے رکن خان جان الکوزے نے جس طرح خبردار کیا ہے کہ ملک میں غذائی بحران پیدا ہوسکتا ہے، وہ دراصل ایک ایسے نظام کی ناکامی کی علامت ہے جو معیشت کو سمجھنے کے بجائے صرف طاقت کے بل پر چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق تاجروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت انہیں اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ درآمد شدہ اشیائے خورونوش کو کم قیمت پر فروخت کریں، حالانکہ وہ اشیاء مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہیں۔

بظاہر یہ فیصلہ عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہوگا، مگر معاشیات کے بنیادی اصول یہ بتاتے ہیں کہ اگر کسی تاجر کو اس کی لاگت سے کم قیمت پر چیز بیچنے پر مجبور کیا جائے تو وہ کاروبار جاری نہیں رکھ سکتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو تجارت بند ہوجاتی ہے یا پھر اشیاء کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کا خدشہ اس وقت افغانستان میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بازاروں میں اشیاء کی دستیابی محدود ہو رہی ہے اور تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ ذخائر زیادہ سے زیادہ ایک سے ڈیڑھ ماہ تک چل سکتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بحران کی ابتدا بھی ہوسکتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا طالبان حکومت کو واقعی معیشت چلانے کی صلاحیت حاصل ہے۔ کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے صرف طاقت یا نظریاتی وابستگی کافی نہیں ہوتی بلکہ انتظامی مہارت، معاشی فہم اور عالمی روابط بھی ضروری ہوتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی معیشتیں باہمی تجارت اور تعاون پر چلتی ہیں۔ افغانستان چونکہ ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے اس لیے اسے تجارت کے لیے ہمسایہ ممالک کے راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جب علاقائی کشیدگی بڑھتی ہے یا تجارتی راستے بند ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اثر افغانستان کی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ اس وقت بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تجارتی رکاوٹیں اور ایران کی غیر یقینی صورتحال نے افغانستان کی سپلائی چین کو متاثر کر دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور درآمدات کم ہوتی جا رہی ہیں۔

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے کہ طالبان حکومت کو اقتدار میں آئے چند سال ہو چکے ہیں مگر آج تک عالمی برادری نے اسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس سفارتی تنہائی کا براہ راست اثر افغانستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ جب کسی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہ کیا جائے تو بین الاقوامی سرمایہ کاری رک جاتی ہے، بینکنگ نظام مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے اور امدادی پروگرام بھی محدود ہوجاتے ہیں۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک طرف عالمی پابندیاں اور سفارتی مسائل ہیں اور دوسری طرف داخلی سطح پر ایسی معاشی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں جو کاروبار کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔

طالبان قیادت شاید یہ سمجھتی ہے کہ سخت فیصلوں اور حکومتی دباؤ کے ذریعے معیشت کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے، مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ معیشت کسی حکم نامے سے نہیں چلتی۔ بازار کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں، طلب اور رسد کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ اگر حکومت ان اصولوں کو نظر انداز کرکے زبردستی قیمتیں مقرر کرے یا تاجروں کو نقصان میں کاروبار کرنے پر مجبور کرے تو نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔ سوویت یونین سے لے کر کئی دوسرے ممالک تک، جہاں بھی معیشت کو سخت سرکاری کنٹرول کے ذریعے چلانے کی کوشش کی گئی، وہاں آخرکار قلت، بلیک مارکیٹ اور معاشی بدحالی ہی پیدا ہوئی۔

افغانستان کے عوام پہلے ہی دہائیوں کی جنگ، غربت اور بے یقینی کا سامنا کر چکے ہیں۔ انہیں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت استحکام اور معاشی بہتری کی ہے۔ تاہم حکومت کی پالیسیاں ایسی ہوں جو کاروبار کو محدود کریں اور تجارت کو نقصان پہنچائیں تو عام آدمی کی مشکلات بڑھنا فطری بات ہے۔ خوراک کی قلت کا خدشہ اسی لیے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ افغانستان کے دیہی علاقوں میں پہلے ہی غربت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اگر بازاروں میں اشیائے خورونوش کم ہوگئیں یا قیمتیں مزید بڑھ گئیں تو لاکھوں لوگ براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال طالبان حکومت کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ اقتدار حاصل کرنا ایک بات ہے مگر ریاست چلانا بالکل مختلف ذمہ داری ہے۔ حکومت کو صرف نظریاتی نعروں سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے پرکھا جاتا ہے۔ اگر عوام کو روزگار، خوراک اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں تو کسی بھی حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ طالبان قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید دنیا میں معاشی استحکام کے بغیر سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لیے علاقائی تعلقات بھی بے حد اہم ہیں۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت افغانستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر یہ راستے بند ہو جائیں یا کشیدگی بڑھ جائے تو اس کا براہ راست اثر افغان عوام پر پڑتا ہے۔ اس لیے طالبان حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

بدقسمتی سے اب تک جو تصویر سامنے آئی ہے وہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ افغانستان میں کاروباری برادری بار بار خبردار کر رہی ہے کہ موجودہ پالیسیاں معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، مگر حکومتی سطح پر اس تشویش کا کوئی واضح حل نظر نہیں آتا۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو افغانستان کو ایک اور بڑے انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہاں سیاسی تبدیلیاں اکثر بڑی امیدوں کے ساتھ آتی ہیں تاہم ان کے ساتھ موثر حکمرانی نہ ہو تو وہ امیدیں جلد مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔

طالبان حکومت کے لیے بھی یہی لمحہ امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی افغانستان کو استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جانا چاہتی ہے تو اسے معاشی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا، کاروباری طبقے کے خدشات کو سننا ہوگا اور ایسی پالیسیاں اپنانا ہوں گی جو تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ افغانستان ایک بار پھر ایسے بحران کی طرف بڑھ جائے گا جہاں سیاست کے فیصلوں کا بوجھ سب سے زیادہ عام لوگوں کے کندھوں پر پڑے گا اور تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب روٹی کی کمی ہو جائے تو نظریاتی نعرے زیادہ دیر تک عوام کو مطمئن نہیں رکھ سکتے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais