Saturday, 07 February 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Basant Ki Wapsi

Basant Ki Wapsi

گزشتہ کئی برسوں سے بسنت کے تہوار سے محروم ہوتا چلا آ رہا لاہور پچھلے دس دنوں سے بسنت کی تیاریوں میں اس طرح مصروف نظر آیا ہے جیسے کوئی عاشق اپنے بچھڑے ہوئے محبوب سے ملنے کے لیے تیاری کرتا ہے۔ بالآخر آج لاہور نے برسوں بعد ایک بار پھر اپنے آسمان پر رنگ بکھرتے دیکھے ہیں اور یہ رنگ محض پتنگوں کے نہیں بلکہ اس شہر کی کھوئی ہوئی خوشیوں، دبے ہوئے جذبات اور معطل شدہ ثقافتی شناخت کے ہیں۔ بسنت کی واپسی محض ایک تہوار کی بحالی نہیں بلکہ لاہور کے اجتماعی شعور کی بازیافت ہے، ایک ایسا لمحہ جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ تاریخ کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اسے وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔

آج جب گلیوں، چھتوں، بازاروں اور دلوں میں ایک پرجوش چہل پہل ہے تو اس کے پیچھے ایک واضح ریاستی فیصلہ، انتظامی جرأت اور سیاسی اعتماد کارفرما ہے، جس کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سر جاتا ہے، جنہوں نے پنجاب بالخصوص لاہور کو وہ ثقافتی موقع واپس دلایا ہے جو اس شہر کی پہچان تھا اور جس کی کمی برسوں سے شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ لاہور ہمیشہ سے صرف اینٹوں، سڑکوں اور عمارتوں کا شہر نہیں رہا بلکہ یہ روایت، موسیقی، میلوں، تہواروں اور اجتماعی خوشی کا مرکز رہا ہے اور بسنت اسی روایت کی سب سے روشن علامت تھی۔ آج اس علامت کا دوبارہ زندہ ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ ریاست اگر چاہے تو خوشی کو بھی نظم و ضبط کے ساتھ ممکن بنا سکتی ہے۔

بسنت کا تہوار تاریخی طور پر لاہور کی سماجی زندگی میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا رہا ہے، جب شہر کے مختلف طبقے، امیر و غریب، قدیم و جدید، ایک ہی آسمان تلے جمع ہو جاتے تھے۔ پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ موسیقی، روایتی کھانے، رنگ برنگے ملبوسات اور خاندانی میل جول بسنت کا حسن ہوا کرتے تھے۔ برسوں تک اس تہوار کا نہ ہونا لاہور کی فضا میں ایک خلا کی صورت محسوس ہوتا رہا، جیسے شہر کی سانسیں مکمل نہ ہوں۔ آج وہ خلا بھرپور طور سے پُر ہوا ہے اور یہ بحالی جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے، ذمہ دار اور منظم حکومتی وڑن کا ثمر ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے یہ ثابت کیا ہے کہ ثقافت کو بچانے کے لیے اسے اندھا دھند آزادی دینے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے قانون، شعور اور نگرانی کے ساتھ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس بسنت کو ماضی سے مختلف اور حال سے ہم آہنگ بنایا ہے۔

آج لاہور میں بسنت صرف خوشی کا اظہار نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی سرگرمی بھی ہے۔ ہوٹلوں کی بکنگ، گیسٹ ہاؤسز کی بھرمار، ریسٹورنٹس اور فوڈ سٹریٹس پر رش، پتنگ سازی، کاغذ، دھاگہ، سجاوٹ، ملبوسات، موسیقی کے آلات، لائٹنگ اور ایونٹ مینجمنٹ جیسے درجنوں شعبے اس تہوار سے براہِ راست منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ خاص طور پر اس بسنت سے فائدہ اٹھاتا نظر آ رہا ہے، جہاں کھلی چھتوں، بالکونیوں اور روف ٹاپ والی جائیدادوں کی طلب میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں عارضی کرایوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ پراپرٹی ڈیلرز کے مطابق بسنت نے شہری اعتماد کو بھی بحال کیا ہے، جو کسی بھی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لیے بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ یوں بسنت نے صرف یادوں کو نہیں بلکہ معیشت کو بھی متحرک کیا ہے۔

اس تمام سرگرمی کے دوران سب سے اہم پہلو وہ ذمہ دارانہ حکمت عملی ہے جو حکومتِ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ نے اختیار کی۔ ماضی میں بسنت کے ساتھ جڑے ہوئے حادثات اور تلخ تجربات آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں اور انہی خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے اس بار حفاظتی انتظامات کو اولین ترجیح دی گئی۔ واضح قوانین، مخصوص دن، نگرانی کے مؤثر نظام، ٹریفک مینجمنٹ، طبی سہولیات، آگاہی مہمات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی نے اس تہوار کو ایک محفوظ دائرے میں رکھا ہے۔ یہ انتظامات کسی خوف کی علامت نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری کا اظہار ہیں، جنہوں نے عوام کو یہ یقین دلایا کہ خوشی اور تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ اعتماد ہے جس کی وجہ سے آج خاندانوں کی بڑی تعداد، بزرگ، خواتین اور بچے کھلے دل کے ساتھ بسنت کا حصہ بن رہے ہیں۔

تعلیمی اداروں، والدین اور سماجی تنظیموں نے بھی اس بسنت میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو نہ صرف بسنت کی تاریخ سے آگاہ کیا گیا بلکہ محفوظ طریقوں پر بھی زور دیا گیا، تاکہ یہ تہوار آنے والی نسلوں کے لیے بھی خوشی کا استعارہ رہے، کسی خوف کی یاد نہ بنے۔ یہ اجتماعی شعور اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ بھی اب محض جذبات کے بجائے ذمہ داری کو اہمیت دینے لگا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو کسی بھی تہذیبی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

بسنت کی واپسی دراصل لاہور کی شناخت کی واپسی ہے۔ یہ شہر جو ہمیشہ زندگی سے بھرپور رہا ہے، آج پھر سے خود کو پہچان رہا ہے۔ آسمان پر رنگ بکھر رہے ہیں، چھتوں پر قہقہے گونج رہے ہیں، موسیقی فضا میں تحلیل ہو رہی ہے اور لوگ ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔

آج بسنت صرف ایک دن کا جشن نہیں بلکہ ایک پیغام ہے، کہ ثقافت کو مارا نہیں جا سکتا، اسے سمجھا، سنبھالا اور محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ لاہور نے برسوں بعد اپنے تاریخی تہوار کو دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور یہ حصول محض اتفاق نہیں بلکہ ارادے، قیادت اور اجتماعی تعاون کا نتیجہ ہے۔ آج جب لاہور بسنت منا رہا ہے تو یہ دراصل اسکی زندگی، شناخت اور اچھے مستقبل کے آغاز کا جشن ہے اور یہی اس دن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais