آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے پھیلنے سے تیس سال پہلے پاکستان آرٹیفیشل لٹریچر کے نرغے میں آنا شروع ہو چکا تھا۔ یہ ناصر کاظمی اور فیض احمد فیض کی رحلت کے بعد کے دنوں میں شروع ہوا، جب کسوٹی سے ووہٹی کی طرف چھلانگ لگانے والے لے پالک شاعروں اور اخبارات کے ادبی صفحات کے ذریعے، آدھے تیتر اور آدھے بٹیر قسم کے چاق و چوبند دستے نے ادبی صحافت اور ادبی اداروں کی سربراہی کے ذریعے بڑے ادیبوں کا روپ دھارنے اور ادب کو پیسہ بنانے والی فیکٹری سمجھ کر اس سے مال کمانے کی منصوبہ بندی کی۔ اس رویے کے خلاف پہلی آواز بلند کرنے والوں میں سب سے نمایاں میں تھا اور مجھے سب سے زیادہ ہمت اور حوصلہ عطا کرنے والوں میں علی نواز شاہ، شفیق احمد خان اور اعجاز رضوی تھے۔
اعجاز رضوی صرف ایک شخص نہیں تھا، بیک وقت ایک خاندان، پورا شہر اور ایک عہد تھا۔ دنیا اسے دوست، بھائی، شاعر اور خاکہ نگار کہتی ہے، میں اسے والدِ محترم کہتا تھا، اباجی۔ ہماری عمروں میں صرف چار چھ سال کا فرق ہوگا، لیکن اعجاز رضوی انسانی مرتبے، سماجی رکھ رکھاؤ، ظرف اور روحانی مقام میں ایسی بلندی پر فائز تھا کہ مجھے اسے اپنا بزرگ سمجھنے میں اپنی عظمت کا احساس ہوتا تھا۔
مفادات کی دوڑ اور ترجیحات کے اس دور میں اب کہیں کسی خالص انسان کا ملنا اتنا ہی مشکل ہو چکا ہے جتنا سچائی اور نیک نیتی کا۔ ایسے بے حس اور افراتفری کے مارے ہوئے دور میں بھی اسے تعلق نبھانا آتا تھا، اسے نظریے اور حق و باطل کی تفریق کی بنیاد پر جم کر کھڑے رہنا آتا تھا۔ اسے اپنی زندگی کے دکھوں کو مسکراہٹ میں لپیٹ کر زمانے کو بسر کرنا بھی آتا تھا۔
اعجاز رضوی مودّت، محبت اور محنت کی مٹی سے بنا ہوا شخص تھا۔ رب تعالیٰ نے اسے بنگلے کوٹھیاں بنانے پر لگانے کی بجائے انسانی اقدار کے آخری حامل لوگوں میں شامل رکھا۔ وہ زندگی کے آخری وقت تک مزدور رہا۔ وہ آخری سانس تک رزقِ حلال کے جلال کے ساتھ زندہ رہا۔
بطور شاعر اعجاز رضوی نے اس وقت جدید نظمیں لکھیں جب بیشتر شاعر سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جدید نظم کیسے لکھی جاتی ہے۔ وہ اس وقت خاکہ نگاری کے میدان میں پورے طمطراق اور قوت سے اترا جب اس صنف کو زندگی بخشنے کی ضرورت تھی۔
غزل کی طرف اسے میں، فیصل زمان چشتی اور شفیق احمد خان کھینچ کر لائے اور پھر وہ ہم سب سے آگے نکل گیا۔
منقبت اور سلام اس کے رُوم رُوم میں بسے ہوئے تھے۔ کوئی بھی صاحب ادراک جب آلِ محمدﷺ کی اقدار کی رفعت دیکھتا ہے تو اس عظیم خانوادے سے نسبت اتنی ہی عظیم ذمہ داری محسوس ہوتی ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت کم سادات دیکھے ہیں جو اپنے آباء کے کردار کی پاسداری کی کوشش کرتے ہیں۔ اعجاز رضوی کو دیکھ کر، محسوس کرکے اور اس کے ساتھ زندگی کے چھتیس سال بسر کرکے اندازہ ہوا کہ اسے سچ بولنے، بھلائی کرنے، حق بات پر ڈٹ کر کھڑے رہنے اور قربانی دینے کے لیے کوشش نہیں کرنا پڑتی۔ یہ اس کے لئے مدینے والے کی عطاء ہے۔
اعجاز رضوی نے احمد ندیم قاسمی کے ساتھ ایسی وفاداری نبھائی جس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ خالد احمد اور نجیب احمد کے ساتھ یوں رہا جیسے تعلق اور احترام کی چھاؤں ہو۔ اس نے جس شان سے پچھلے دس سال حلقۂ اربابِ ذوق سے مفادات اٹھانے والے کمتر تخلیقی درجے کے لوگوں کے جعلی اور نمائشی حلقے کے سامنے بے لوث، معیاری اور حقیقی تخلیق کاروں کے حلقے کی حفاظت کی، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔
وہ اصلی ادب والے لاہور کا آخری وارث تھا۔ شہر اینٹوں اور عمارتوں سے نہیں، سماجی اقدار، اجتماعی مزاج اور انفرادی سلوک سے بنتے ہیں۔ شہروں کے خدوخال اشرافیہ کے تصنع سے نہیں، عام آدمی کے تنوع سے اجاگر ہوا کرتے ہیں۔ اعجاز رضوی لاہور کے انفراد کا مجموعی تاثر بھی تھا اور مجموعی تاثر کی انفرادی تصویر بھی۔
اگر اس کے ان خاکوں کو، جو اس نے پرانے لاہور کے کرداروں پر لکھے ہیں، ڈی کوڈ کیا جائے تو ایک طرف لاہور لکھا نظر آتا ہے تو دوسری طرف اعجاز رضوی۔
اعجاز رضوی کبھی کسی کے گھر خالی ہاتھ نہیں گیا۔ اس کی صرف ایک اسی عادت میں لاہور، پنجاب، مشرق اور کربلا والوں کا معاشرتی مزاج جھلکتا ہے۔ اگر دوستوں یا عزیز و اقارب میں کہیں کوئی بیمار پڑ گیا تو گھر والوں سے زیادہ ذمہ داری اعجاز رضوی سنبھال لیتا۔ وہ اپنوں کی ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ اور خوشی غمی میں ان سے آگے رہنے والا بے بدل تعلق تھا۔
وہ ہر کسی سے ہمیشہ مسکرا کر ملتا تھا۔ دوستوں میں بیٹھتا تو بلا کی حسِ مزاح سے مسلح نظر آتا۔ بزلہ سنجی ایسی تھی کہ اعجاز رضوی شاعر ضائع کر دیتا تھا لیکن جملہ ضائع نہیں کرتا تھا۔ میں نے اسے بارہا خفا ہوتے تو دیکھا لیکن مخالف ہوتے کبھی نہیں دیکھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ بظاہر ہنستا مسکراتا نظر آنے کے باوجود قیامت کی سنجیدگی کا حامل انسان تھا۔ ایک سچا کربلائی آپ کو لاکھ ہنستا مسکراتا ملے، وہ اپنے اندر غم اور صبر کے اتھاہ تموّج کی ریاضت کا امین ہوتا ہے۔ جس جس نے اس کا آخری دیدار کیا، وہ میری اس بات کی گواہی دے گا کہ کسی میت کو ایسی باوقار سنجیدگی اور پُرجلال متانت کم کم ہی نصیب ہوتی ہےجو اعجاز رضوی کے چہرے پر تھی۔
وہ ہے ہی ایسا۔ وہ تھا ہی ایسا۔ اسے "تھا" اس لیے لکھنا پڑ رہا ہے کہ وہ پردہ فرما گیا ہے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ وہ گیا نہیں ہے۔ وہ ایسے جانے والا بھی نہیں۔ وہ ہمیشہ یہیں رہے گا، اپنی نظموں اور تحریروں میں، ہمارے دلوں اور یادوں میں۔