Friday, 23 October 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Jaameat Ya Degriyan Bantne Ke Marakiz?

Jaameat Ya Degriyan Bantne Ke Marakiz?

یونیورسٹی کسی بھی معاشرے کا محض ڈگریاں تقسیم کرنے اور ملازمتوں کے لیے افراد تیار کرنے والا ادارہ نہیں، بلکہ اس کے فکری مستقبل کی معمار ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی کام ایسے باشعور، خوداعتماد اور اہل انسان تیار کرنا ہے جو اپنے عہد، معاشرے اور زندگی کے مسائل کو سمجھ سکیں، دلیل کی بنیاد پر فیصلے کریں اور اپنی صلاحیتوں کو انسانی و سماجی بہتری کے لیے استعمال کریں۔ لیکن اگر جامعات کی توجہ تحقیق، معیاری تدریس اور کردار سازی کے بجائے نمائشی تقریبات، لٹریری فیسٹیولز، مشاعروں اور انتظامی تشہیر پر مرکوز ہو جائے تو ان کے حقیقی کردار کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

پاکستانی جامعات کی موجودہ صورت حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس قسم کے اساتذہ اور تعلیمی قیادت کے حوالے کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے نوجوانوں کو تنقیدی سوچ، آزادانہ تحقیق اور عملی زندگی کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت دے رہے ہیں، یا وہ محض امتحانات پاس کرنے، ڈگریاں حاصل کرنے اور ملازمت کی دوڑ میں شامل ہونے کی تربیت تک محدود ہیں؟ اگر ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگاری، معاشی استحصال، طبقاتی ناانصافی اور سماجی مسائل کے اسباب سمجھنے سے قاصر رہتا ہے تو اس ناکامی کا جائزہ صرف طالب علم کی انفرادی صلاحیت کے حوالے سے نہیں لیا جا سکتا۔ اس کے اساتذہ، نصاب، تدریسی ماحول اور ادارہ جاتی قیادت بھی جواب دہ ہیں۔

اسی لیے وائس چانسلرز اور اساتذہ کی تقرری اور کارکردگی کی شفاف اسکریننگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وائس چانسلر کسی یونیورسٹی کا انتظامی سربراہ ہی نہیں، بلکہ اس کے علمی ماحول، تحقیقی ترجیحات اور ادارہ جاتی ثقافت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر تقرریاں سیاسی سفارش، ذاتی تعلقات یا گروہ بندی کے زیراثر ہوں تو علمی قابلیت، تحقیق اور طلبہ کی فکری تربیت پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح استاد محض نصاب پڑھانے والا ملازم نہیں بلکہ نوجوان ذہنوں کی تشکیل کا ذمہ دار ہے۔ غیر سنجیدہ، غیر اہل یا پیشہ ورانہ اخلاقیات سے محروم استاد طالب علم کی فکری نشوونما کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ضروری ہے کہ وائس چانسلرز اور اساتذہ کی اسناد، مضمون پر گرفت، تحقیقی صلاحیت، تدریسی مہارت، پیشہ ورانہ اخلاقیات، طلبہ کے ساتھ رویے اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔ وائس چانسلرز کے لیے شفاف انتظام، مالی جواب دہی، علمی آزادی کے تحفظ اور تحقیق کے فروغ کو بنیادی معیار بنایا جائے۔ اساتذہ کی جانچ میں مضمون کی قابلیت کے ساتھ طلبہ کو سوال کرنے، اختلاف کرنے اور آزادانہ سوچنے کی ترغیب دینے کی صلاحیت بھی دیکھی جائے۔ جہاں کمی سامنے آئے وہاں تربیت اور اصلاح کا موقع دیا جائے، جبکہ مسلسل نااہلی کی صورت میں منصفانہ احتساب یقینی بنایا جائے۔ یہ عمل کسی سیاسی یا ذاتی تعصب کے بجائے واضح معیار، غیر جانب دار ماہرین اور شفاف طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے۔

تعلیمی اداروں میں پیشہ ورانہ اور نفسیاتی موزونیت بھی اہم ہے۔ استاد اور تعلیمی منتظم میں جذباتی توازن، اختلاف برداشت کرنے، تنازعات حل کرنے اور دباؤ میں مناسب فیصلے کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ تاہم اسکریننگ کا مقصد کسی فرد کو محض ذاتی تاثر یا کسی نفسیاتی تشخیص کی بنیاد پر نااہل قرار دینا نہیں، بلکہ اس کے پیشہ ورانہ طرزِعمل اور طلبہ کے لیے محفوظ و معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی صلاحیت کا منصفانہ جائزہ لینا ہے۔

جامعات میں لٹریری فیسٹیولز اور ثقافتی سرگرمیوں کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ادب، شاعری اور ثقافت انسانی شعور کو وسعت دیتے ہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ سرگرمیاں علمی ذمہ داریوں کا متبادل بن جائیں۔ کسی یونیورسٹی کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ کتنے بڑے مشاعرے ہوئے، کتنی معروف شخصیات آئیں یا ذرائع ابلاغ میں کتنی تصاویر شائع ہوئیں۔ اصل معیار یہ ہے کہ وہاں کتنی معیاری تحقیق ہوئی، طلبہ نے کیا سیکھا، ان کی تجزیاتی صلاحیت میں کتنا اضافہ ہوا اور انہیں معاشرے کے حقیقی مسائل پر غور کرنے کے کتنے مواقع ملے۔

اگر یونیورسٹیوں میں ادبی میلوں کی رونقیں بڑھ رہی ہوں، لیکن بے روزگاری، معاشی ناہمواری، تعلیمی عدم مساوات، ذہنی صحت، انسانی حقوق اور علمی آزادی جیسے موضوعات پر سنجیدہ مکالمہ کم ہو تو تعلیمی ترجیحات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو صرف کامیابی کے انفرادی نسخے بتانا کافی نہیں، انہیں یہ سمجھنے کا موقع بھی ملنا چاہیے کہ روزگار کے مواقع کیوں محدود ہیں، تعلیم اور معیشت کے درمیان تعلق کیوں کمزور ہے اور سماجی و ادارہ جاتی ڈھانچے ان کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ کمزور تعلیمی نظام کے نتائج ڈگری یا ملازمت تک محدود نہیں رہتے۔

معیاری تربیت سے محروم نوجوان عملی زندگی کے دباؤ، اختلافات اور ناکامیوں کا سامنا کرنے میں مشکلات محسوس کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اچھی تعلیم انسان میں خود اعتمادی، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تنقیدی فکر اور اجتماعی ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔ موجودہ معاشی اور سماجی دباؤ کے دور میں جامعات کو نوجوانوں کو صرف پیشہ ورانہ قابلیت نہیں بلکہ زندگی کے پیچیدہ حالات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت بھی دینی چاہیے۔

اس مقصد کے لیے اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور متعلقہ حکام کو وائس چانسلرز کی تقرری اور کارکردگی کے لیے شفاف معیار مقرر کرنے چاہییں۔ اساتذہ کی بھرتی میں تحقیقی قابلیت اور عملی تدریسی مظاہرے کو اہمیت دی جائے۔ جامعات کے بجٹ، تحقیقی منصوبوں اور علمی سرگرمیوں میں شفافیت ہو، جبکہ طلبہ کو اپنی شکایات، اختلافات اور تجاویز پیش کرنے کا مؤثر حق حاصل ہو۔ اداروں کی کارکردگی کا تعین صرف داخلوں، ڈگریوں اور تقریبات کی تعداد سے نہیں بلکہ تعلیم کے معیار، تحقیق، علمی آزادی اور فارغ التحصیل نوجوانوں کی عملی صلاحیت سے کیا جائے۔

ہم ہر سال ایک کمزور نسل کو زندگی کے میدان میں اتارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بچوں کو جامعات کے حوالے کرنا دراصل انہیں اساتذہ، وائس چانسلرز اور ایک پورے تعلیمی نظام کے سپرد کرنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس نظام کی اہلیت، دیانت اور کارکردگی یقینی بنائی جائے۔ قومی مستقبل کو سیاسی سفارشوں، نمائشی سرگرمیوں اور رسمی احتساب کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ جامعات کی اصلاح عمارتوں، نعروں اور تقریبات سے نہیں، اہل قیادت، قابل اساتذہ، معیاری تحقیق اور شفاف جواب دہی سے ممکن ہے۔ ہمیں ایسی جامعات درکار ہیں جو محض ڈگری یافتہ افراد نہیں بلکہ آزاد ذہن، مضبوط کردار اور عملی زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے قابل انسان تیار کریں۔ یہی ہمارے تعلیمی نظام کی اصل کامیابی اور قومی مستقبل کی بنیادی ضمانت ہے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui