فروری کی نرم دھوپ ملتان کی کشادہ فضا اور نشانے پر جمی نگاہیں۔ یہ منظر کسی فلم کا نہیں بلکہ آل پاکستان محمد علی جناح اوپن لانگ رینج شوٹنگ چیمپئن شپ سی او اے ایس کپ دو ہزار چھبیس کا تھا جس نے اس برس ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان میں کھیل صرف کرکٹ تک محدود نہیں۔ تیرہ سے پندرہ فروری تک جاری رہنے والی اس چیمپئن شپ کا انعقاد پاکستان لانگ رینج رائفل ایسوسی ایشن نے کیا اور ملک کے چاروں صوبوں سے آئے ہوئے اکسٹھ ماہر نشانہ بازوں نے اپنی مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دیکھنے والے دم بخود رہ گئے۔ خاص طور پر بلوچستان سے آنے والا پندرہ رکنی دستہ توجہ کا مرکز رہا جس کی شرکت نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ کھیل قومی یکجہتی کی سب سے خوبصورت زبان ہے۔
لانگ رینج شوٹنگ کوئی آسان کھیل نہیں۔ یہ صرف بندوق اور گولی کا معاملہ نہیں بلکہ اعصاب کی مضبوطی سانس کی ترتیب آنکھ اور انگلی کے تال میل اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوا کے حساب کتاب کا نام ہے۔ جب سینکڑوں میٹر دور نصب ہدف پر نشانہ لیا جاتا ہے تو ایک معمولی سی لغزش بھی پوری محنت پر پانی پھیر سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کھیل کو اعصاب کا امتحان کہا جاتا ہے۔ ملتان کے میدان میں جب مقابلہ اپنے عروج پر تھا تو ہر فائر کے بعد چھا جانے والی خاموشی اور پھر نتائج کے اعلان پر گونجتی تالیوں نے اس ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔
اس چیمپئن شپ کا نام بانی پاکستان محمد علی جناح سے منسوب ہونا بھی معنی خیز ہے۔ قائداعظم نظم و ضبط یکسوئی اور اعلی معیار کے قائل تھے اور یہی اوصاف اس کھیل کی روح بھی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میدان میں موجود ہر کھلاڑی اپنے نشانے کے ساتھ ساتھ ایک قومی روایت کو بھی مضبوط کر رہا ہو۔ سی او اے ایس کپ کی نسبت نے مقابلے کو مزید وقار بخشا اور یہ پیغام دیا کہ قومی ادارے کھیلوں کے فروغ میں سنجیدہ کردار ادا کر رہے ہیں۔
دلچسپ امر یہ تھا کہ مقابلے میں شامل نوجوانوں کی بڑی تعداد پہلی بار اس سطح کے مقابلے میں شریک ہو رہی تھی۔ ان کے چہروں پر جوش بھی تھا اور ذمہ داری کا احساس بھی۔ سینئر نشانہ بازوں نے نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ جونیئر کھلاڑیوں کی رہنمائی بھی کی۔ یہی وہ روایت ہے جو کسی بھی کھیل کو دوام بخشتی ہے ایک طرف تجربہ کار نشانہ باز اپنی مہارت سے متاثر کر رہے تھے تو دوسری طرف نئے کھلاڑی ثابت کر رہے تھے کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں، صرف مواقع کی ضرورت ہے۔
بلوچستان سے آنے والے دستے کی شرکت خصوصی طور پر قابل ذکر رہی یہ محض ایک ٹیم نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت تھی کہ دور دراز علاقوں میں بھی کھیل کا شوق زندہ ہے۔ جب مختلف صوبوں کے کھلاڑی ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر مقابلہ کرتے ہیں تو تعصبات کی دیواریں خود بخود گرنے لگتی ہیں۔ اس چیمپئن شپ نے یہی منظر پیش کیا۔ پنجاب سندھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نوجوان ایک ہی ہدف پر نظریں جمائے ہوئے ایک ہی جذبے سے سرشار۔ عوامی دلچسپی بھی قابل دید تھی۔ اگرچہ نشانہ بازی کا کھیل کرکٹ یا فٹبال جیسی مقبولیت نہیں رکھتا لیکن جس سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں اس مقابلے کا انعقاد کیا گیا اس نے شائقین کو متوجہ کیا۔
سماجی ذرائع ابلاغ پر جھلکیاں پھیلیں مقامی سطح پر گفتگو کا موضوع بنا اور نوجوانوں میں اس کھیل کے بارے میں تجسس پیدا ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کھیلوں کو منظم انداز میں پیش کیا جائے تو عوام ضرور جڑتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں شوٹنگ رینجز اور تربیتی سہولیات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے ایسے مقابلے نہ صرف کھلاڑیوں کو پلیٹ فارم دیتے ہیں بلکہ پالیسی سازوں کو بھی یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے۔ اگر ضلعی سطح تک مقابلوں کا دائرہ وسیع کیا جائے تعلیمی اداروں میں نشانہ بازی کو بطور کھیل متعارف کرایا جائے اور کوچنگ کے معیاری نظام کو فروغ دیا جائے تو ہم بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
مقابلے کے اختتام پر انعامات کی تقسیم کا مرحلہ بھی یادگار رہا کامیاب کھلاڑیوں کی آنکھوں میں چمک صرف جیت کی نہیں بلکہ اس اعتراف کی تھی کہ ان کی محنت کو سراہا گیا ہے مگر اس سے بڑھ کر وہ جذبہ قابل قدر تھا جو ہارنے والوں کے چہروں پر بھی دکھائی دیا۔ وہ مایوس نہیں بلکہ پرعزم تھے کہ اگلے سال مزید تیاری کے ساتھ آئیں گے یہی کھیل کا اصل اخلاق ہے جو کسی بھی معاشرے کی طاقت بن جاتا ہے۔
ملتان کی سرزمین نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ یہاں صرف آم ہی نہیں عزم اور ہنر بھی پیدا ہوتا ہے۔ آل پاکستان محمد علی جناح اوپن لانگ رینج شوٹنگ چیمپئن شپ سی او اے ایس کپ دو ہزار چھبیس کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور منصوبہ بندی مضبوط تو کوئی ہدف دور نہیں۔ نشانہ بازی کے اس مقابلے نے ہمیں یاد دلایا کہ اصل کامیابی صرف ہدف کو گرانا نہیں بلکہ قوم کو جوڑنا ہے اور اس محاذ پر یہ چیمپئن شپ پوری طرح کامیاب رہی۔