چین کے زیر اثر دنیا ایک نئے ورلڈ آرڈر میں داخل ہو رہی ہے جسے ٹرانزیکشنل سسٹم کانام دیاجا رہا ہے۔ ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر دراصل ایک ایسا عالمی نظام ہے جس میں ریاستیں اپنے تعلقات کو اصولوں، نظریات یا مستقل وابستگیوں کے بجائے فوری مفادات، سودے بازی اور وقتی فائدے کی بنیاد پر استوار کرتی ہیں، یعنی یہاں دوستی یا دشمنی مستقل نہیں رہتی بلکہ ہر تعلق ایک "ڈیل" کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس فریق کو کیا حاصل ہو رہا ہے، اس نظام میں طاقتور ممالک اپنی شرائط کے مطابق تعلقات ترتیب دیتے ہیں جبکہ کمزور ممالک حالات کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں، یوں عالمی سیاست ایک ایسے بازار میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں ہر چیز کی قیمت ہے اور ہر تعلق ایک لین دین کی صورت رکھتا ہے۔
اس بنیادی تعارف کے بعد جب ہم اس نظام کے ابھرتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہیں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اسے صرف مغربی زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ اس میں مشرق، بالخصوص چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی سمجھیں، کیونکہ اکیسویں صدی میں عالمی نظام کی تشکیل اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت، معیشت اور بیانیہ مختلف مراکز میں تقسیم ہو کر ایک نئے طرز کی عالمی ترتیب پیدا کر رہے ہیں۔
چین اس نئے منظرنامے میں محض ایک معاشی قوت نہیں بلکہ ایک ایسے ماڈل کا نمائندہ بن کر سامنے آیا ہے جو بظاہر نظریاتی تصادم سے گریز کرتا ہے مگر عملی طور پر انتہائی گہری ٹرانزیکشنل بنیادوں پر استوار ہے، چین کی عالمی حکمت عملی میں ہمیں واضح طور پر یہ نظر آتا ہے کہ وہ کسی ملک کے سیاسی نظام، جمہوری اقدار یا داخلی ڈھانچے پر تنقید کرنے کے بجائے براہِ راست معاشی شراکت داری، انفراسٹرکچر سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے، اس حکمت عملی کی سب سے نمایاں مثال بیلٹ اینڈ روڈ انِشیئٹو ہے جس کے ذریعے چین نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درجنوں ممالک کے ساتھ سڑکوں، بندرگاہوں، ریلویز اور توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، بظاہر یہ ترقی اور باہمی تعاون کا ماڈل ہے مگر اس کے اندر ایک گہری ٹرانزیکشنل روح کارفرما ہے جہاں ہر شراکت داری ایک مخصوص مفاد، رسائی یا جغرافیائی برتری سے جڑی ہوئی ہے۔
چین اس نظام میں اخلاقی یا نظریاتی بالادستی کے دعوے کے بجائے خاموشی سے ایک ایسا نیٹ ورک بنا رہا ہے جہاں معیشت، رسد اور انحصار کے ذریعے اثر و رسوخ قائم کیا جاتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر اپنی مکمل شکل میں ظاہر ہوتا ہے، یعنی ایک ایسا عالمی نظام جہاں اصولوں کی بجائے مفادات اور نظریاتی وابستگیوں کی بجائے عملی سودے بازی فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
میں جب اس ابھرتے ہوئے نظام کو اپنی تھیوریز کے تناظر میں دیکھتا ہوں تو اس کی تہہ در تہہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے، میری ادراکی تنقیدی تھیوری، جسے میں Perceptionism کے نام سے پیش کرتا ہوں، اس امر کو سامنے لاتی ہے کہ دنیا میں حقیقت کوئی جامد یا غیر متبدل شے نہیں بلکہ اسے طاقتور قوتیں اپنے بیانیے، اپنی زبان اور اپنے ابلاغی ذرائع کے ذریعے تشکیل دیتی ہیں، چنانچہ ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر میں اصل لین دین صرف وسائل یا معاہدات کا نہیں بلکہ "ادراک" کا ہوتا ہے، چین کی مثال ہی لے لیجیے، وہ اپنی عالمی پیشکش میں خود کو ایک ایسے شراکت دار کے طور پر پیش کرتا ہے جو سیاسی مداخلت نہیں کرتا، جو ترقی کا ضامن ہے اور جو باہمی فائدے پر یقین رکھتا ہے۔
یہ بیانیہ ایک مخصوص ادراک کو جنم دیتا ہے جس میں چین ایک "متبادل امید" کے طور پر ابھرتا ہے، مگر Perceptionism ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اس ادراک کو محض اس کی ظاہری صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ تصور کیسے تشکیل دیا جا رہا ہے، کن ذرائع سے پھیلایا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سے مفادات کارفرما ہیں، اسی طرح مغربی دنیا بھی اپنی پالیسیوں کو جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی استحکام کے بیانیے میں پیش کرتی ہے، یوں عالمی سطح پر مختلف طاقتیں نہ صرف وسائل کی تقسیم میں مصروف ہیں بلکہ حقیقت کے تصور کو بھی اپنے حق میں تشکیل دے رہی ہیں، اس طرح ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر ایک ادراکی میدانِ جنگ بن جاتا ہے جہاں سچ اور بیانیہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
اسی کے ساتھ میری Theory Economy Twistup اس پورے نظام کی معاشی ساخت کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس تھیوری کے مطابق عالمی معیشت کسی سیدھی، شفاف اور منصفانہ لکیر پر نہیں چلتی بلکہ یہ ایک پیچیدہ، مڑی ہوئی اور طاقت کے گرد گھومتی ہوئی ساخت رکھتی ہے، چین کے معاشی منصوبے، مغربی مالیاتی اداروں کے قرضہ جاتی نظام اور عالمی تجارت کے غیر متوازن اصول، سب مل کر ایک ایسے "twisted flow" کو جنم دیتے ہیں جس میں وسائل اور سرمایہ بظاہر مختلف ممالک میں پھیلتے ہیں مگر بالآخر انہی مراکزِ طاقت کی طرف لوٹ آتے ہیں جو پہلے سے مضبوط ہیں، ترقی پذیر ممالک کو دیے جانے والے قرضے، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، یا تجارتی معاہدات بظاہر ترقی کا راستہ کھولتے ہیں مگر طویل المدت میں یہ ممالک ایک ایسے انحصاری دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں ان کی معاشی خودمختاری محدود ہوتی چلی جاتی ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر صرف ایک سیاسی یا سفارتی تصور نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل معاشی جال کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس میں ہر راستہ کسی نہ کسی مرکزِ طاقت کی طرف مڑ جاتا ہے۔
اگر ہم ان دونوں تھیوریز کو یکجا کرکے دیکھیں تو ایک نہایت گہری اور قدرے تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے، ایک طرف دنیا کو ایک مخصوص انداز میں "دکھایا" جا رہا ہے، جہاں ترقی، شراکت داری اور استحکام کے بیانیے غالب ہیں اور دوسری طرف دنیا کو ایک مخصوص انداز میں "چلایا" جا رہا ہے، جہاں وسائل، سرمایہ اور مواقع کا بہاؤ طاقتور قوتوں کے گرد گھومتا رہتا ہے، یوں ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر دراصل ایک دوہرا نظام بن جاتا ہے جس میں ادراک اور معیشت ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، طاقتور قوتیں نہ صرف عالمی معیشت کو اپنے حق میں موڑتی ہیں بلکہ عالمی ادراک کو بھی اس طرح تشکیل دیتی ہیں کہ ان کی برتری ایک فطری حقیقت محسوس ہونے لگتی ہے، نتیجتاً کمزور ریاستیں صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ ادراکی طور پر بھی ایک مخصوص دائرے میں قید ہو جاتی ہیں جہاں ان کے فیصلے، ان کی ترجیحات اور حتیٰ کہ ان کے خواب بھی ایک حد تک تشکیل شدہ ہوتے ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر اپنی سب سے گہری معنویت اختیار کرتا ہے، یہ محض مفادات کا تبادلہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو حقیقت، معیشت اور طاقت کو ایک ہی دھارے میں بہا دیتا ہے، یہاں سچ اور مفاد کے درمیان حد فاصل دھندلا جاتی ہے، یہاں اصول اور ضرورت ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور یہاں آزادی ایک ایسے تصور میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے مختلف طاقتیں اپنی اپنی ضرورت کے مطابق تشکیل دیتی ہیں، چین کا ابھرتا ہوا کردار، مغرب کی بدلتی ہوئی حکمت عملیاں اور ترقی پذیر دنیا کی پیچیدہ مجبوریوں کے درمیان یہ نظام مسلسل اپنی شکل بدل رہا ہے مگر اس کی بنیادی روح وہی رہتی ہے، یعنی سودے بازی، مفاد پرستی اور ادراک کی تشکیل اور میں اپنی تھیوریز کی روشنی میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک دنیا اس ادراکی اور معاشی پیچیدگی کو شعوری طور پر نہیں پہچانے گی، تب تک وہ اس نظام کا حصہ تو بنے گی مگر اس پر اختیار حاصل نہیں کر سکے گی، یوں ٹرانزیکشنل ورلڈ آرڈر ایک ایسی حقیقت بن کر سامنے آتا ہے جو نظر بھی آتی ہے اور اوجھل بھی رہتی ہے، جو فائدہ بھی دیتی ہے اور انحصار بھی پیدا کرتی ہے اور جو ترقی کا راستہ بھی کھولتی ہے مگر اسی کے ساتھ ایک نیا دائرۂ کنٹرول بھی قائم کر دیتی ہے جہاں طاقت خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہے اور دنیا اسے حقیقت سمجھ کر قبول کرتی رہتی ہے۔