Sunday, 24 May 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Naya Mahaaz

Naya Mahaaz

کبھی کبھی قومیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر بھی وطن کا دفاع کرتی ہیں۔ آج کے دور میں جنگ کا میدان صرف پہاڑ، سمندر یا فضائیں نہیں رہیں بلکہ موبائل فون کی سکرینیں، سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز اور نوجوانوں کے اذہان بھی ایک بڑا محاذ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راولپنڈی میں منعقد ہونے والی نیشنل سکیورٹی اینڈ سٹریٹیجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026ء محض ایک رسمی سرکاری تقریب محسوس نہیں ہوئی بلکہ یہ مستقبل کے پاکستان کے فکری خدوخال پر ہونے والا ایک سنجیدہ مکالمہ دکھائی دی۔ اس نشست میں ملک بھر کی دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز، رجسٹرارز اور سینئر پروفیسرز کی شرکت دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھی کہ آنے والے برسوں میں قوموں کی طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ شعور، تحقیق، بیانیے اور درست معلومات سے ناپی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نشست میں شریک تعلیمی قیادت نے قومی سلامتی کو صرف عسکری زاویے سے نہیں دیکھا بلکہ اسے نوجوان نسل کے فکری تحفظ، ڈیجیٹل آگاہی اور سماجی استحکام سے جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے، کیونکہ ہمارے ہاں طویل عرصے تک تعلیمی ادارے اور ریاستی ادارے دو الگ دنیاؤں کی طرح دکھائی دیتے رہے۔ ایک طرف یونیورسٹیاں تھیں جہاں نظریات، تنقید اور سوالات کی دنیا آباد تھی، جبکہ دوسری طرف قومی سلامتی کے ادارے تھے جہاں نظم، حکمت عملی اور ریاستی مفادات کا بیانیہ موجود تھا۔ اب اگر یہ دونوں حلقے ایک میز پر بیٹھ کر نوجوان نسل کے مستقبل پر گفتگو کررہے ہیں تو اسے ایک مثبت پیش رفت سمجھنا چاہیے۔

اس نشست کا سب سے اہم پہلو شاید وہ اعتراف تھا جو وائس چانسلرز اور اساتذہ نے سوشل میڈیا کے اثرات کے حوالے سے کیا۔ آج کا نوجوان ایک عجیب دور میں جی رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں دنیا کا سب سے طاقتور مواصلاتی ہتھیار موجود ہے مگر اکثر اس کے پاس یہ طے کرنے کا معیار نہیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔ ہر لمحہ اس کے سامنے خبریں، ویڈیوز، بیانیے اور جذباتی مواد آرہا ہوتا ہے۔ کچھ معلومات حقیقت ہوتی ہیں، کچھ آدھے سچ اور کچھ مکمل طور پر گمراہ کن۔ اس صورتحال میں اگر جامعات کے اساتذہ یہ محسوس کررہے ہیں کہ نوجوانوں کو صرف نصابی علم نہیں بلکہ "معلومات کو پرکھنے کا شعور" بھی دینا ضروری ہے تو یہ یقیناً ایک تعمیری سوچ ہے۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوجوان کیا پڑھ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس پر یقین کررہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اکیڈیمیا کا کردار محض تدریس سے آگے بڑھ کر فکری رہنمائی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ پاکستان کی پینسٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دنیا کی کئی قومیں ایسی آبادی کو خواب سمجھتی ہیں، لیکن اگر یہی نوجوان فکری انتشار، نفسیاتی دباؤ اور ڈیجیٹل افراتفری کا شکار ہوجائیں تو یہی طاقت کمزوری میں بدل سکتی ہے۔ اس لیے قومی سلامتی کی بحث کو صرف بارود اور بندوق تک محدود رکھنا اب کافی نہیں۔ ایک نوجوان اگر سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اپنے ہی ملک کے بارے میں مایوسی، نفرت یا بد اعتمادی کا شکار ہوجائے تو یہ بھی ایک خطرناک صورتحال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انفارمیشن وارفیئر آج دنیا کا سب سے پیچیدہ میدان بنتا جارہا ہے۔ یہاں گولیاں نہیں چلتی، یہاں ذہن متاثر کیے جاتے ہیں۔ یہاں فوجی ٹینک نہیں آتے، یہاں بیانیے حملہ آور ہوتے ہیں اور یہی وہ محاذ ہے جہاں استاد، محقق اور دانشور سپاہی بن جاتے ہیں۔

اس ساری گفتگو میں سب سے امید افزا پہلو شاید یہ تھا کہ شرکاء نے افواجِ پاکستان اور اکیڈیمیا کے درمیان رابطے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ترقی یافتہ دنیا میں ریاستی ادارے، جامعات، تحقیقاتی مراکز اور میڈیا مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں تاکہ قومی پالیسیوں میں فکری توازن برقرار رہے۔ پاکستان میں بھی اب یہ احساس مضبوط ہورہا ہے کہ نوجوانوں کو محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ تحقیق، دلیل، مکالمے اور شعور سے جوڑنا ہوگا۔ ایک باشعور طالب علم صرف ڈگری یافتہ فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے معاشرے کے حقائق کو سمجھنے والا ذمہ دار شہری بھی بنتا ہے۔

یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی سامنے آتا ہے۔ جب ریاستی ادارے جامعات کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ سننا چاہتے ہیں کہ نوجوان کیا سوچ رہے ہیں، اساتذہ کن خدشات کا اظہار کررہے ہیں اور معاشرہ کس سمت جارہا ہے۔ یہی مکالمہ کسی بھی صحت مند ریاست کی علامت ہوتا ہے۔ اختلاف، سوال، تحقیق اور تنقید اگر قومی مفاد کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھیں تو وہ معاشروں کو مضبوط بناتے ہیں، کمزور نہیں کرتے۔

راولپنڈی کی اس ورکشاپ کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ صرف ایک بریفنگ نہیں تھی بلکہ شاید اس احساس کا اظہار تھی کہ مستقبل کا پاکستان کلاس روم، تحقیق گاہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور قومی ادارے مل کر تعمیر کریں گے۔ اگر نوجوان نسل کو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کا شعور مل گیا، اگر جامعات تحقیق اور فکری دیانت کے مراکز بن گئیں، اگر ریاستی ادارے مکالمے کی روایت کو مضبوط کرتے رہے، تو پھر شاید پاکستان صرف جغرافیے کا نہیں بلکہ شعور کا بھی ایک مضبوط ملک بن سکے گا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais