Saturday, 28 March 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Pakistan Kisi Ke Baap Ka Mulk Nahi

Pakistan Kisi Ke Baap Ka Mulk Nahi

عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ یہ بڑھاپے کی عمر کوپہنچ کر بھی ذہنی طور پر بڑا نہ ہوسکا۔ ایک جھجھک شدہ کھلاڑی جو کھیل کے میدان میں جیتنے اور عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود بطور انسان لڑکپن سے باہر ہی نہیں آسکا۔ یہ بات آج تک کسی نے کیوں نوٹ نہیں کی کہ زندگی اور سیاست کو کرکٹ کی روشنی میں چلانے والا یہ آدمی کھیل کے میدان اور دنیا کی بساط میں فرق کا شعور ہی نہیں رکھتا۔

حقیقی انقلابی لیڈر آنے والی نسلوں کی نظریاتی تربیت کرتے ہوئےان کے اذہان کو صدیوں تک کے لیے سیاسی سماجی سنجیدگی سے بھر دیتا ہے جبکہ عمران خان نے اپنے فالوورز کے دہانے مغلظات سے بھر دیے ہیں۔ جہاں نظریہ نہیں ہوتا ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ بیچارہ نہ تو خود میچور ہوسکا نہ اس کے فالوورز ہو سکے۔ سہیل آفری کہتا ہے ملک کسی کے باپ کا نہیں، اگر ایسا ہے تو پھر ملک عمران خان کے باپ کا بھی نہیں، نا ہی یہ سہیل آفریدی کے باپ کا ہے۔

ملک ان غریب عوام کا ہے جنہیں آج تک حکمران نہ روٹی دے سکے نہ مکان، نہ علاج دے سکے نہ تعلیم۔ گزشتہ پون صدی میں جو جو بھی اقتدار میں آیا اس نے یہی سمجھا کہ ملک اس کے باپ کا ہے۔ جن بیچارے عوام پر حکومت کی جاتی ہے انہیں ہمیشہ کیڑے مکوڑے سمجھا گیا ہے۔ کیا یہ ملک جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور سیاسی اُٹھائی گیروں کے باپ کا ہے؟

ہم سے ہی چندے لے کر ہم پر مسلط ہونے والے نے سیاسی پارٹی میں کسی باوقار اور دانا انسان کو رہنے ہی نہیں دیا۔ کہاں پھینک دیا گیا وہ حقیقی ورکر جس نے نئے پاکستان کا خواب دیکھ کے سترہ سال اپنی جوانیاں اس تحریک کے سپرد کی تھیں۔ کہاں گیا وہ دعویٰ کہ اسٹیبلشمینٹ کے کندھوں پر بیٹھ کے اقتدار میں نہیں آؤں گا۔ اس نے ہم سے جھوٹ بولا، یہ انہی کے کندھوں پہ بیٹھ کے آیا۔ اس نے ہم سے بار بارجھوٹ بولا، کہتا تھا ایک کروڑ نوکریوں کی خوش خبری دوں گا۔ اس نے صرف اپنی شادیوں کی خوش خبری دی۔

کیا اس نے سرمایہ داروں کی اے ٹی ایم سہولتیں استعمال نہیں کیں؟ کیا وہ شوگر مافیا کے جہازوں پر چڑھ چڑھ کر نہیں بیٹھتا رہا؟ جس آدمی پر پاکستان جیسے غریب ملک اور پاکستان کے مظلوم عوام جیسے چوبیس کروڑ انسانوں کا بوجھ ہو اسے تو اپنا آپ یاد نہیں رہنا چاہیے اسے شادیاں کیسے یاد رہیں۔ یہ ہمیں بتائیں گے کہ ملک کس کے باپ کا ہے جو اپنے اقتدار کی خاطر ہر اس دروازے پر جھولی پھیلا کر بیٹھے ہیں جس سے پاکستان کےلیے کبھی خیر نکلی ہی نہیں۔

شیعان حیدرکرار کی صفوں میں گھس کے انہوں نے وہ کام کرنے کی کوشش کی ہے جو آج تک بھارت اور اسرائیل نہیں کرسکا۔ دنیا پر قامت برپا ہے، پاکستان حالت جنگ میں ہے اور یہ اندر بیٹھ کر ہر وہ قدم اٹھا رہے ہیں جس سے چرکہ پاکستان کے سینے پہ لگ رہا ہے۔ بے بہرہ اور ناخلف یوٹیوبروں کے سر پہ بیٹھ کے سیاست کرنے والے بے صبروں کو یہ تک شعور نہیں کہ عوام نے ان کو کب کا فارغ کردیا ہوا ہے۔

علامہ ناصر عباس نے نہ وقت کی نزاکت دیکھی اور نہ حالات کی حساسیت۔ علامہ صاحب! کربلا نے شہادت کو جس درجے پہ فائز کیا، جس مرتبے کی گواہی کی تصویر انسانی تاریخ کی پیشانی پر ثبت کی، کیا آپ اس راستے پہ چل رہے ہیں یا اس کی مخالف سمت؟ آپ کے شر انگیز بیانات نے جو آگ لگائی ہے بتائیں یہ کس کی پیروی ہے۔ کیا آپ کو امام زین العابدین علیہ سلام کے صبر اور استقامت کا بھی ادراک نہیں؟

اب تو یہی لگ رہا ہے کہ نہیں ہے۔ آپ نے شر کی آگ کو ہوا دے کر صیہونیوں کی سنت پر عمل کیا ہے۔ کم از کم ہزاروں شیعان حیدر کرار کے قاتل فتنہ الخوارج کی سرکوبی کے لیے شہادت کو چوم کر وطن پر قربان ہو جانے والے شہداء کا ہی مان رکھ لیا ہوتا۔ آپ جس شخص کی محبت میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں چلیں اسی کو ہی کربلا کا ادراک ہوتا تو تاریخ آپ کو بری الذمہ قرار دے دیتی۔ لیکن اب ایسا نہیں لگتا۔

ایک بات اب آپ بھی یاد رکھ لیں کہ یہ ملک نہ آپ کے باپ کا ہے نہ سہیل آفریدی کے اور نہ ہی عمران خان کے باپ کا۔ یہ ملک ہر مسلک کے مسلمانوں اور اقلیتوں سمیت ہر اس شہری کے باپ کا ملک ہے جس نے اس کے قیام کے لیے قربانی دی اور جس نے اس کے استحکام کو مقدم جانا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais