Friday, 11 September 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Quaid e Azam, Jad o Jehad Ki Azmat Ka Isteara

Quaid e Azam, Jad o Jehad Ki Azmat Ka Isteara

دنیا میں کچھ انسان دوسرے لاکھوں، کروڑوں انسانوں سے مختلف شخصیت، کردار اور راہِ حیات لے کر پیدا ہوتے ہیں، مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ انہیں قدرت کی طرف سے ان کی منزل بھی بتا دی جاتی ہے اور منزل تک پہنچنے کی کٹھنائیاں بھی، ان میں سے بھی کچھ چنیدہ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں اپنے لیے نہیں بلکہ دوسرے انسانوں کے لیے منزل کا تعین کرنا ہوتا ہے، راستے کی نشاندہی کرنی ہوتی ہے اور قافلوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ایک عظیم منزل کے حصول کے لیے گامزن بھی ہونا ہوتا ہے، بانیِ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح کا شمار دنیا کی ایسی ہی منتخب ہستیوں میں ہوتا ہے۔

آپ پچیس دسمبر اٹھارہ سو چھہتر کو کراچی کے ایک مشہور تجارتی خاندان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم سندھ مدرسۃ الاسلام اور کرسچن مشن سکول سے حاصل کی، اٹھارہ سو ترانوے میں لنکن اِن میں شمولیت اختیار کی اور تین سال بعد وکالت کا پیشہ اپنایا، آپ یہ کام کرنے والے سب سے کم عمر ہندوستانی تھے، اپنی سنجیدگی، متانت، مستقل مزاجی، قانون پر مہارت اور استدلال کی بےمثال قابلیت کی بدولت جلد ہی بمبئی کے سب سے کامیاب وکیل بن گئے، وکالت میں مضبوطی سے قدم جمانے کے بعد انیس سو پانچ میں انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے باضابطہ طور پر سیاست میں قدم رکھا، اسی سال گوپال کرشن گوکھلے کے ساتھ ایک وفد کے رکن کی حیثیت سے انگلستان بھی گئے، دادا بھائی نوروجی کے سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات دیں اور کلکتہ کانگریس اجلاس میں پہلی سیاسی تقریر کی۔

انہوں نے اپنی زندگی کے بیالیس سال اسی جدوجہد کے لیے وقف کیے، ہندو مسلم اتحاد کے داعی، آئین پسند، ممتاز پارلیمنٹیرین اور اعلیٰ درجے کے سیاستدان کے طور پر ابھرے، جو بات انہیں دیگر عالمی رہنماؤں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے قائدین نے پہلے سے موجود اقوام کی قیادت سنبھال کر انہیں آزادی کی طرف بڑھایا، جبکہ قائدِاعظم نے ایک بکھری ہوئی اقلیت کو اکٹھا کیا، اسے قوم بنایا اور نہایت قلیل مدت میں اس کے لیے وطن حاصل کر دیا، تیس سال سے زائد عرصہ تک ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں کے خوابوں کو زبان دی، انہیں ہم آہنگ کیا اور واضح سمت عطا کی۔

انیس سو دس میں امپیریل قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور کونسل کے توسط سے پرائیویٹ ممبر بل چلانے والے پہلے ہندوستانی بھی بنے، جنگِ عظیم اول کے اختتام پر برطانوی وزیر مونٹیگو نے ان کے بارے میں کہا کہ ایسے ہوشیار آدمی کو اپنے ملک کے معاملات چلانے کا موقع نہ دینا نامناسب ہے، تین دہائیوں تک جناح نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کیا، گوکھلے نے انہیں فرقہ وارانہ تعصب سے آزاد قرار دیتے ہوئے اتحاد کا بہترین سفیر کہا اور انیس سو سولہ میں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان معاہدۂ لکھنؤ کرانے کا سہرا بھی انہی کے سر رہا، انیس سو سترہ تک وہ ہندوستان کے نمایاں ترین رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔

مگر وقت کے ساتھ سیاست میں بڑھتے تعصبات اور تشدد نے انہیں شدید مایوس کیا، جناح منظم پیشرفت، اعتدال پسندی اور آئین پرستی کے قائل تھے، انہوں نے گاندھی کی تحریکِ خلافت اور عدم تعاون کی حکمتِ عملی کی مخالفت کی اور ناگپور اجلاس میں متنبہ کیا کہ ایسا ناممکن ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا، بعد کے واقعات نے ان کے اندیشوں کو درست ثابت کیا، کانگریس سے راستے جدا ہونے کے باوجود وہ ہندو مسلم مفاہمت کی کوششیں جاری رکھتے رہے، انیس سو ستائیس میں دہلی مسلم تجاویز کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے علیحدہ حقِ رائے دہی تک کی قربانی دے دی، مگر انیس سو اٹھائیس کی نہرو رپورٹ نے بنیادی مسلم مطالبات کو بھی رد کر دیا، جناح نے کانگریس کے قومی کنونشن میں مشترکہ مفاد کی دلیل دی، مگر مطالبات مسترد ہونے سے ہندو مسلم اتحاد کو ایسا دھچکا لگا کہ یہ ان کے لیے راستے جدا کرنے کا سبب بن گیا، اس کے بعد وہ لندن ہجرت کر گئے، تاہم اپنے ہم مذہب ساتھیوں کی درخواست پر انیس سو چونتیس میں واپس آ کر دوبارہ قیادت سنبھالی۔

اس وقت مسلم لیگ غیرفعال اور اس کی صوبائی تنظیمیں بکھری ہوئی تھیں، پنجاب، بنگال، سندھ، صوبہ سرحد، آسام، بہار اور متحدہ صوبوں میں مسلم رہنما اپنی اپنی جماعتیں بنا چکے تھے، ایسے میں علامہ اقبال نے پسِ پردہ رہ کر جناح کی رہنمائی کی، جناح نے ملک گیر دورے کیے، صوبائی رہنماؤں سے اختلافات ختم کرکے لیگ میں شامل ہونے کی اپیل کی، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ انیس سو پینتیس پر مسلمانوں کے جذبات کو ہم آہنگ کیا اور انیس سو سینتیس کے انتخابات کے لیے لیگ کا منشور بھی مرتب کیا، ان انتخابات میں لیگ نے چار سو پچاسی مسلم نشستوں میں سے ایک سو آٹھ نشستیں حاصل کیں اور سب سے بڑی ملک گیر مسلم جماعت کے طور پر ابھری، یوں یہ انتخابات مسلم ہندوستان کے قیام کی طرف پہلا سنگِ میل ثابت ہوئے۔

کانگریس نے سات صوبوں میں اقتدار سنبھالنے کے بعد لیگ سے تعاون کی پیشکش مسترد کر دی اور مسلمانوں کو سیاسی اکائی کے طور پر نظرانداز کیا۔ قائدِاعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایک قوم ہیں، اپنی الگ ثقافت، زبان، تاریخ، اقدار اور نظریۂ حیات کے حامل، انیس سو چالیس میں پاکستان کے مطالبے نے ہندوستانی سیاست کا رخ ہی بدل دیا، ایک طرف اس نے متحدہ ہندوستان کے خواب کو ختم کیا، دوسری طرف اسلامی نشاۃِ ثانیہ کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

مسلم مطالبے پر ہندوؤں اور انگریزوں دونوں کا ردعمل تلخ اور غیرمتوقع تھا، وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ دس کروڑ انسان اچانک اپنی الگ قومیت اور منزل سے باشعور ہو چکے تھے، مسلم سیاست کا رخ پاکستان کی طرف موڑنے اور انیس سو سینتالیس میں اس کی تکمیل تک پہنچانے میں قائدِاعظم محمد علی جناح سے زیادہ فیصلہ کن کردار کسی نے ادا نہیں کیا، یہ سب ان کی حکمتِ عملی، ثابت قدمی اور مؤثر وکالت کا نتیجہ تھا، جس نے پاکستان کے قیام کو تاریخ کی ایک ناگزیر حقیقت بنا دیا۔

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui