Sunday, 01 March 2026
  1. Home/
  2. Farhat Abbas Shah/
  3. Syed Salman Gilani Muskurahaton Ke Moammar

Syed Salman Gilani Muskurahaton Ke Moammar

آج کل سید سلمان گیلانی کی رحلت کی خبر نے ادبی اور مذہبی حلقوں میں جس قدر دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم شخصیت کے مالک تھے، 21 فروری 2026ء کو لاہور میں 74 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا اور وہ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں سمیت اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے، طویل علالت کے بعد شیخ زید ہسپتال میں انہوں نے آخری سانس لی، دل اور جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور حال ہی میں بائی پاس سرجری بھی کرائی تھی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

سید سلمان گیلانی 7 ستمبر 1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ان کی ابتدائی تعلیم شیخوپورہ میں ہوئی جبکہ ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے کیا، وہ تحریک ختم نبوت کے معروف رہنما سید امین گیلانی کے صاحبزادے تھے جن کا تعلق امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے قریبی حلقے سے تھا، یہ دینی اور علمی ماحول تھا جس نے سلمان گیلانی کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، بچپن ہی سے ان کے اندر عشق رسولﷺ کی ایسی لگن تھی جو عمر بھر تر ہوتی رہی اور پھر نعت گوئی ان کے وجود کا لازمی جزو بن گئی، وہ نعت کے حوالے سے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور ان کی نعتوں میں سوز و گداز اور عقیدت کی وہ کیفیت تھی جو سننے والوں کو جہانِ رقت میں مبتلا کر دیتی تھی۔

انہیں "شاعرِ ختمِ نبوت" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے ختم نبوت کے موضوع پر بھی بھرپور شاعری کی اور اس تحریک کو اپنا قلمی اور عملی تعاون دیا، اسی جذبے کے تحت وہ 80ء کی دہائی میں ختم نبوت کی تحریک میں بھی پیش پیش رہے اور ان کی نعتیہ نظمیں جلسوں اور جلوسوں میں سنی جاتی تھیں، مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان اور مولانا شاہ احمد نورانی جیسی شخصیات ان سے فرمائش کرکے کلام سنا کرتی تھیں، مگر سید سلمان گیلانی کی شخصیت کا دوسرا حیرت انگیز پہلو ان کی مزاحیہ شاعری تھا۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ نعت گوئی اور مزاح ایک شاعر میں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ دونوں کے مزاج اور طرز اظہار جداگانہ ہیں مگر سلمان گیلانی نے یہ مشکل کام کر دکھایا اور دونوں اصناف میں یکساں مقبولیت حاصل کی، ابتدا میں وہ خود اس کشمکش کا شکار رہے کہ نعت گوئی کے ساتھ مزاحیہ شاعری کرنا مناسب ہے یا نہیں، پھر ایک دن انہوں نے محسوس کیا کہ لوگ آج کل جتنے پریشان ہیں اور وسائل کی قلت اور دکھوں میں گھرے ہوئے ہیں اگر ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا کوئی وسیلہ بنایا جائے تو یہ بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے، اس کے بعد انہوں نے مزاحیہ شاعری کا آغاز کیا مگر وہ بھی اپنے منفرد اور شستہ انداز میں۔

ان کی مزاحیہ شاعری میں آج کے بیشتر مزاحیہ شاعروں کی طرح پھکڑ پن اور رشتوں کی تضحیک نہیں ملتی بلکہ وہ نہایت شائستہ انداز میں ایسی فضا بنا دیتے تھے کہ سننے والا مسکرائے بغیر رہ نہیں پاتا تھا، ان کا مزاحیہ کلام درحقیقت ہماری آج کی زندگی کا بے داغ آئینہ تھا جس میں معاشرتی رویوں، سیاسی حالات اور روزمرہ کے تضادات کو خوش اسلوبی سے پیش کیا جاتا تھا، پھر سب سے بڑی بات ان کی خوش الحانی اور ترنم تھا، خواہ نعت ہو یا مزاحیہ نظم، جب وہ اسے پڑھتے تو سامعین محو ہو جاتے، ان کی بے ساختہ شاعری اور طنزیہ اشعار سامعین کے دل موہ لیتے تھے، انہوں نے نہ کبھی منہ بگاڑ کر ہنسانے کی کوشش کی اور نہ ہی کبھی مشاعرے کے درمیان لطیفے اور مزاحیہ واقعات سنا کر قہقہے سمیٹے۔

سید سلمان گیلانی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی مشاعروں میں شرکت کرتے رہے، 2012ء میں کراچی کے عالمی مشاعرے میں شرکت کی تو 2015ء میں دبئی میں بھی اپنا کلام سنایا۔ بیماری کے دنوں میں بھی ان کی شگفتہ مزاجی اور بذلہ سنجی قائم رہی، جو بھی ان کے پاس جاتا اسے نعت ضرور سناتے تھے اور اللہ سے زیارت کعبہ اور روضہ رسول کا ایک اور موقع مانگتے تھے، مگر 21 فروری کو وہ دِل کو سنبھالتے سنبھالتے اس عارضی جہان سے رخصت ہو گئے، ان کی وفات پر مولانا فضل الرحمن، مریم نواز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور ادیب و شاعر زاہدفخری، علی نوازشاہ، فیصل زمان چشتی، اعجاز رضوی، شفیق احمد خان اور ڈاکٹر ابرار عمر سمیت متعدد ادبی شخصیات نے اظہار تعزیت کیا، ان کی نماز جنازہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں ادا کی گئی اور مصطفیٰ ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

سید سلمان گیلانی ایک کشادہ فکر اور کشادہ ذہن انسان تھے جو اس بات کے قائل تھے کہ اپنا نظریہ چھوڑو نہ اور دوسرے کا نظریہ چھیڑو نہ۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں بھی گئے پذیرائی اور قبولیت ملی۔ ان کا انداز بیان سادہ مگر پُراثر تھا، نثر میں بھی ان کا اسلوب منفرد تھا اور وہ ایک صاحب طرز نثر نگار کے طور پر بھی جانے جاتے تھے، وہ پاکستان کے پہلے شاعر تھے جو ایک طرف نعت گوئی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور دوسری طرف مزاحیہ شاعری کے ایک منفرد اور نئے دبستان کے بانی تھے، یہ انفرادیت انہیں ہمیشہ یادگار بنائے رکھے گی، بے شک لاکھوں درود و سلام ہوں اس محبوبِ خدا پر جن کی محبت نے سلمان گیلانی جیسے شاعروں کو صداقت اور عقیدت کا وہ پیرہن عطا کیا جو کبھی پرانا نہیں ہوتا اور مسکراہٹوں کی اس بیش بہا دولت نے انہیں عوام کا شاعر بنا دیا۔

آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی نعتیں آج بھی عقیدت مندوں کی زبان پر ہیں اور ان کے مزاحیہ اشعار آج بھی محفلوں کو چار چاند لگا رہے ہیں، ایک عام خیال ہے کہ سید سلمان گیلانی صرف نعت اور مزاح کے شاعر تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ غزل کے بھی قادرالکلام شاعر تھے اور ان کی غزلوں میں وہی چاشنی اور تغزل ملتا ہے جو اس صنف کی پہچان ہے، وہ کالم نگاری کی طرف بھی راغب ہوئے اور ان کے کالموں میں بھی شگفتہ مزاجی اور مزاح کے چٹکلے شامل ہوتے تھے، ان کی وفات سے اردو ادب، نعتیہ شاعری اور مزاحیہ ادب ایک توانا آواز سے محروم ہو گئے ہیں۔

یقیناََ یہ خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا، لیکن ان کی یادگار تصانیف اور ان کا کلام ہمیشہ انہیں زندہ رکھے گا۔ سید سلمان گیلانی کی شخصیت اس بات کی روشن مثال ہے کہ انسان بیک وقت عشق رسول میں ڈوبا ہوا بھی ہو سکتا ہے اور معاشرے کو مسکراہٹیں دینے والا بھی، یہ وہ حسین امتزاج تھا جو انہیں اپنے معاصرین میں ممتاز مقام دلاتا ہے، وہ چلے گئے مگر اپنے پیچھے عقیدت کے پھول اور مسکراہٹوں کی چھاپ چھوڑ گئے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais