سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کے لئے شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کیا۔ حکومت، پاکستان پریزن رولز (قیدیوں اور زیر سماعت مقدمات کے ملزمان یعنی حوالاتیوں کے لیئے قانون) 1978 کی بعض شقوں کا سہارا لئے نظر ثانی کی اپیل کے ساتھ عدالت پہنچ گئی۔ قوانین کی حد تک حکومت کا موقف درست ہے مگر کیا اس ملک کے معرض وجود میں آنے سے آج تک سارے کام دھندے قوانین کے مطابق ہوتے آئے ہیں؟
اس معاملے پر اس سے زیادہ مزید کچھ نہیں کیونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے نمائندوں اور حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی کے وفود کی اپوزیشن رہنماوں محمود خان اچکزئی و سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔ تحریک انصاف کے ایک وفد نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے بھی ملاقات کی حکومتی اتحادی جماعت کے وفد کی قومی اسمبلی و سینیٹ میں حزب اختلاف کے قائدین سے ملاقات میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنماوں کے علاوہ تحریک تحفظِ آئین نامی اتحاد کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ ان ملاقاتوں کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کی گئی گفتگو بڑی دلچسپ ہے سیاستدان ایسی ہی دلچسپ اور "پُرمغز" گفتگو کرتے رہتے ہیں یہی سیاست اور سیاسی عمل کا حُسن ہے جو ہمارے ہاں اب متروک ہوتا جارہا ہے۔
اس پر دو آرا ہرگز نہیں کے سیاسی عمل تحمل تدبر اور مکالمے سے آگے بڑھتا ہے۔ ہمارے ہاں بسا اوقات نہیں بلکہ اکثر اسے تندوتیز بیانات اور تحقیر سے عبارت جملوں کے چابکوں سے آگے بڑھایا جاتا رہا ہے۔ نتائج مختلف الخیال و مختلف المزاج 26 کروڑ پاکستانیوں کے سامنے ہیں۔ سیاسی و معاشی استحکام کے حوالے سے ہمارے ہاں خوشگوار صورتحال کبھی بھی نہیں رہی لیکن لگ بھگ عشرہ بھر سے ہم بند گلی میں پھنسا دیئے گئے ہیں۔ اس صورتحال کے سیاستدان کتنے فیصد ذمہ دار ہیں اور تجربوں کی شوقین اسٹیبلشمنٹ کتنی "ذمہ وار" اس پر کُھلے ڈھلے انداز میں بات ہونی چاہئے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ دستیاب سیاسی جماعتیں بوقت ضرورت نظریہ ضرورت کی شیدائی ہوجاتی ہیں اور بعد میں نظریہ ضرورت کی ناقد یہ صاف چھپتے نہیں سامنے آتے بھی نہیں جیسا معاملہ ہرگز نہیں لُکن چُھپائی کا کھیل بھی نہیں نرم سے نرم الفاظ میں یہ کہہ لیجے کہ یہاں سبھی اُسی عطار کے بالک سے دوا لینے کے خواہش مند تھے اور ہیں حالانکہ یہ حقیقت سب پہ دوچند ہے کہ عطار کے بالک عطائی ہیں حاذق حکیم خود سیاستدان ہیں انہیں ہی سیاسی و معاشی عدم استحکام کا علاج دریافت کرنا چاہئے یہی ان کی ذمہ داری ہے پر اس کا کیا کیجے کہ شافی علاج کی دوا عطار کے بالک کے پاس ہی ہے کی سوچ پروان چڑھ چکی ہے، کیا کبھی اس سوال پر غور کرنے کی زحمت ہوسکے گی کہ جہاں آج ملک اور عوام کھڑے ہیں انہیں یہاں تک لانے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ آسان جواب یہی ہے کہ معاملہ ففٹی ففٹی پر طے ہوگا وہ اس لئے کہ عطار کے بالک کو پروانے طبقاتی جمہوریت کے میخانے سے ہی ملتے ہیں ہمیشہ۔
بہرحال مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کے درمیان حالیہ رابطے خوش آئند ہیں۔ گھٹن ختم ہونی چاہئے اور عدم برداشت بھی تاکہ ملک جس سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہے اس سے نجات مل سکے اور ان بدترین مسائل سے بھی جو سیاسی و معاشی عدم استحکام کے بطنوں سے پیدا ہوئے۔
وہ جو کہتے تھے سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں غلط نہیں کہتے تھے ہم (یہاں ہم سے مراد اجتماعی بھی ہے اور 1980 کے بعد اور بالخصوص سال 2000ء کے بعد پیدا ہوئی نسلیں ہے) اگر پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی کی تاریخ کے اوراق الٹیں تو جان پائیں گے کہ تیسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی سرکار کے خلاف بننے والے سیاسی اتحاد ایم آر ڈی میں پی این اے کی وہ جماعتیں بھی شامل تھیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی میں کسی نہ کسی طرح سہولت کار رہیں۔
ایم آر ڈی نامی اتحاد کی تشکیل ہمیں سمجھاتی ہے کہ جمہوریت کیلئے ذاتی دکھ صدمات اور رنجشیں دفن کرکے آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ پھانسی چڑھا دیئے جانے والے ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ محترمہ بیگم نصرت بھٹو نے یہی کیا اپنا ذاتی دکھ بھول کر جمہوریت کے لئے ان جماعتوں کے ساتھ بیٹھ رہیں جو تیسرے مارشل لا اور بھٹو کی پھانسی میں سہولت کار رہیں۔ دستیاب تاریخ میں مزید مثالیں بھی موجود ہیں فی الوقت یہی کہ آج پچھلی صدی کی ساتویں آٹھویں دہائیوں جیسے حالات نہیں ہیں ہاں یہ حقیقت ہے کہ سب اچھا بھی نہیں ہے اور یہ بھی کہ عطار کے بالکوں کی گرفت ماضی کے مقابلے میں قدرے زیادہ مضبوط ہے۔
ملک میں طبقاتی نظام ہے رعایا کیلئے سوچنے والا کوئی نہیں بالک کی ساجھے داری میں ملے حصے پر سب راضی ہیں۔ درشنی فیشنی مخالفت اور بیانات جی کے بہلانے کا کوئی سامان بھی تو ہونا چاہئے مختصراً یہ کے حکومت حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی اور اپوزیشن رہنماوں کے درمیان رابطوں ملاقاتوں گل باتوں کا سلسلہ قائم رہنا چاہئے کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ اس ملک کو کب عوامی جمہوریت نصیب ہو تو چلو اس دستیاب طبقاتی جمہورہت کو ہی کچھ بہتر کرلیا جائے۔
رہی یہ بات کے دال میں کچھ کالا ہے یا پوری دال کالی ہے اس بارے بہتر تو دال کی ہنڈیا چولہے پہ دھرنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔ ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی ہاں ہمارے اہلِ سیاست کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ مسائل ہیں اور یہ ہرگزرنے والے دن کے ساتھ گھمبیر ہوتے جارہے ہیں مسائل حل کرنا ہیں تو عدم برداشت کی فصل جلانا ہوگی نفرتوں کی سیاست کو بنا غسل و کفن دفن کرنا ہوگا۔
9 مئی کے مقدمات کے حوالے سے ایک ریویو کمیشن بننا چاہئے تو یہ بھی ضروری ہے کہ مفروروں کی جنت بھی ختم ہو۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسائل کا حل تلاش کرنا از بس ضروری ہے کیونکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ 1973 کے دستور کی گرہیں ڈھیلی پڑ رہی ہیں بداعتمادی کی خلیج وسیع ہورہی ہے۔
پہلے کہا جاتا تھا وسائل پر چند طبقات قابض ہیں اب لوگ کہہ رہے ہیں وسائل پر محکمے قابض ہیں حواری طبقات کو خیرات مل رہی ہے یہ ساری باتیں چاراور ہورہی ہیں کان بند کر لینے سے کچھ نہیں ہوگا۔
حرفِ آخر یہ ہے کہ وسیع بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے سیاسی عمل کی نہروں کی بھل صفائی سیاسی جماعتوں کو خود کرنا ہوگی تبھی دوریاں ختم ہوں گی اور بہاو میں روانی آئے گی۔