Saturday, 28 February 2026
  1. Home/
  2. Haider Javed Syed/
  3. Baqi Sab Khairiyat Hai Aur Aap Ki Khairiyat Naik Matloob

Baqi Sab Khairiyat Hai Aur Aap Ki Khairiyat Naik Matloob

بھارت اسرائیل کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے، افغان رجیم کے " نکے وڈے" اپنے امیرالمومنین کے حکم کے منتظر ہیں، ٹرمپ ایران سے سینگ پھنسانے کیلئے "ورزش" کررہا ہے، ایرانی کہہ رہے ہیں آخری آدمی اور آخری راکٹ تک لڑیں گے، پاکستان میں ایک جانب پھر سے آو گستاخ مٹائیں کی دکانیں گلی گلی کھل رہی ہیں، وزارت داخلہ کالعدم تنظیموں اور سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر کارروائی کا ڈھول پیٹ رہی ہے اور وزیر مذہبی امور کالعدم تنظیموں کے بڑوں سے ملاقات کررہے ہیں۔

سہیل آفریدی کو شکوہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا حالانکہ وہ شب بھر کے جاگے ہوئے تھے۔ چیزا گروپ کہہ رہا ہے ہائے وہ گڈ ٹو سی یو کے موسم جب زنانیاں ٹیلفون پر ایک دوسرے سے شکوے کرتے ہوئے کہتی تھیں "یہ کم بخت مارشل لا بھی تو نہیں لگارہے"۔

اڈیالہ جیل روڈ پر محض دس میڑ پر زیر تعمیر نالے کو پار کرنے کا راستہ موجود تھا لیکن محبین نے محترمہ نورین نیازی کو نالہ پھلانگنے کا راستہ دیکھایا، وہ نالے میں گرگئیں پی ٹی آئی کے آفیشل پیچ سے اس واقع کے حوالے سے جو دعویٰ کیا گیا اس پر آنکھیں بھر آئیں۔

محترمہ نورین نیازی نے کہا عمران سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ گھروں سے باہر نکلیں، گھروں میں بیٹھ کر عشقِ عمران کے دعوے فضول ہیں۔ بات تو سچ ہے تینوں بہنیں کب سے اپیل کررہی ہیں کہ اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار کارکنوں کو آنا چاہئے۔

ساعت بھر کیلئے بنگلہ دیش چلتے ہیں جہاں جماعت اسلامی تاریخ ساز فتح سے 137 نشستیں پیچھے رہ گئی اتحادیوں سمیت اسے 75 نشستیں ملیں عالمگیر اسلامی انقلاب کی نشاط ثانیہ کا چھابہ بنگالیوں نے الٹا دیا۔

ادھر جماعت اسلامی کی پاکستانی برانچ کے امیر کا غصہ ہے تھمنے میں نہیں آرہا وہ کراچی میں مہاجر کارڈ کھیل رہے ہیں باقی کے "ملخ" میں اسلامی کارڈ مہاجر سیاست کی اسلام میں بہت اہمیت ہے لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں۔

بات بنگلہ دیش کی ہورہی تھی مرحومہ خالدہ ضیا کے صاحبزادے وزیراعظم بن گئے۔ اپنی اتحادی سیاست کی تاریخ میں جماعت اسلامی نے ریکارڈ نشستیں حاصل کیں ہائے مگر اس کا کیا کیجے کہ پاکستان میں عالمگیر انقلاب اسلامی کا خواب چکنا چور ہوگیا۔

تحریر نویس کو جماعت اسلامی سے دلی ہمدردی ہے یہ ہمارے مرحوم و مغفور ابا جی کی جماعت ہے۔ بہتر برس کی عمر میں اباجی جماعت اسلامی پر افغانستان میں جاکر قربان ہوگئے۔ کاش میرے پاس وسائل ہوتے میں ایک چارٹر طیارہ لے کر کابل جاتا منتیں ترلے کرکے اباجی کو واپس لے آتا۔ خیر مجھے خوشی ہے ان کا جو بھی نظریہ تھا اس پر قربان ہوئے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

ہم مقامی موضوعات کی طرف پلٹتے ہیں۔ محترمہ علیمہ خان نیازی کا غصہ ان دنوں عروج پر ہے پہلے انہوں نے محسن نقوی سے ملاقات کرنے اور پمز ہسپتال میں ڈاکٹروں سے بریفنگ لینے والوں کو بے بہا سنائیں۔ کل یعنی بروز بدھ انہوں نے کہا بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی کے چیئرمین بن گئے لیکن میرے بھائی کے مقدمات نہیں لگوا سکے لگے ہاتھوں انہوں نے وکالتوں کے پھٹوں سے اٹھاکر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پہنچائے گئے۔ وکیلوں بیرسٹر علی ظفر سردار عبدالطیف کھوسہ اور حامد خان وغیرہ کو ادھیڑ کر رکھ دیا یہ بھی کہا کہ جو عمران کے بیانیئے کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا سائیڈ پر ہوجائے۔

علیمہ خان نیازی نے دوٹوک انداز میں کہا عمران کی صحت سے متعلق فیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں ہمارا مینڈیٹ ہے۔ سمجھنے والوں کیلئے اس میں قیامت سے پہلے کی نشانیاں ہیں۔ ایک قیامت وہ چند دن قبل شیر افضل مروت اور ایک خاتون سینیٹر مشال یوسفزئی پر بھی توڑ چکیں جواباً شیر افضل مروت نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت سے علیمہ خان کو تین کروڑ روپے کے جرمانے سے بات شروع کی درمیان میں مری میں علیمہ خان اور مریم نوازشریف کی ملاقات کا قصہ لے آئے۔

سچ پوچھیں تو "مختاریا گل ودھ گئی اے" کے مصداق صورتحال ہے۔ برصغیر کے طول و عرض میں سیاست خاندانی وراثت سے چلتی چلائی جاتی ہے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان اسی وراثتی سیاست کے ناقد بنا کر ابھارے گئے تھے لیکن آج حالت یہ ہے کہ ان کی بہنیں سوشل میڈیا کی طاقت سے بھائی کی سیاسی وراثت کو سنبھالنے کیلئے میدان عمل میں ہیں۔

ایک خبری کا دعویٰ ہے محترمہ علیمہ خان نے علی امین گنڈا پور شیر افضل مروت اور سینیٹر مشال یوسفزئی کو ٹائٹ کرنے کا "حکم" دیا ہے۔ خبری دعویدار ہے کہ یہ حکم چند دن قبل کی اس ملاقات میں دیا گیا جو سہیل آفریدی نے اپنے قائد کی تینوں بہنوں سے اکٹھے کی تھی۔

کوئی مانے نہ مانے تحریک انصاف تقسیم کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دوسری بہت ساری وجوہات کے ساتھ دو باتیں اہم ہیں ایک یہ کہ ہمارے بھائی کی جماعت ہے۔ جماعت اور بھائی کی قربانیوں کی وارث ہم بہنیں ہیں دوسری وجہ سہیل آفریدی کی اعلان کردہ "عمران خان رہائی فورس" ہے۔ واقف حال کا دعویٰ ہے کہ فورس بنانے کا آئیڈیا تحریک انصاف کے مفرور رہنما مراد سعید کا ہے جس پر رضامندی کی مہر محترمہ علیمہ خان نے ثبت کی۔ یہی واقفِ حال سہیل آفریدی کی رواں ماہ کے ابتدائی دنوں میں ہونے والی ایک ملاقات کا قصہ سناتے ہوئے ملاقاتیوں کے نام بتارہا تھا تو جھر جھری سی آگئی سیاست بڑی بے رحم چیز ہے لوگ کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے درمیان بات تلخ نوائیوں سے اٹ کھڑکے کی طرف بڑھ رہی ہے تو وسطی پنجاب میں اٹھارہ انیس جیالے (ویسے یہ بائیس ہیں لیکن تین میں سے ایک پنجاب کا گورنر ہے دوسرا چوہدری منظور قصوری دانشور ہے تیسرا قمر زمان کائرہ) پنجاب حکومت کے نئے گیارہ ارب روپے کے جہاز کو لے کر بہت جذباتی ہیں جیالوں کے یہ سیلابی جذبات شکر ہے سوشل میڈیا تک محدود ہیں۔

ویسے ان اٹھارہ انیس جیالوں سے محترمہ مریم نواز شریف کی حکومت کو کوئی چھوٹا بڑا خطرہ بالکل نہیں۔ خدا لگتی بات یہی ہے کہ محترمہ کی حکومت جب بھی "بیٹھی" اپنے بوجھ سے بیٹھے گی یا ان چار پانچ نو رتنیوں کی وجہ سے جو اس حکومت کا چہرہ ہیں۔

معاف کیجے گا کرہ ارض کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کچھ لکھنے عرض کرنے سے قاصر ہیں۔ جوانی کے ماہ و سال کی دوسری محبت ہے کہتے ہیں مرد دوسری محبت کی کسک کفن میں باندھ کر ساتھ لیجاتا ہے۔

خیر چھوڑیئے ہم بھی کیا باتیں لے بیٹھے۔ آئیں ایک بار پھر افغانستان کی طالبان رجیم کی بڑھکوں پر بات کرتے ہیں۔ افغان طالبان رجیم کے وزیرداخلہ سمیت متعدد رہنما گزشتہ چند دنوں سے پاکستان کے حوالے سے جو کہہ رہے ہیں اور جس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں اس پر سوشل میڈیا کا محاذ بہت گرم ہے۔ بے حساب پشتون قوم پرست محض پشتون ولی میں طالبان کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ غیر پشتون پاکستانیوں بالخصوص پنجابیوں کیلئے جو زبان استعمال کرتے ہیں اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

بدقسمتی کہہ لیجے ہمارے سماج سے دلیل اور اخلاق سماج بدر کر دیئے گئے ہیں۔ ان کی جگہ واہی تباہی جگتوں اور سستے بازاری پن نے لے لی ہے دوسری جانب افغان طلاب کے بڑوں چھوٹوں کی میمز بھی بن رہی ہیں۔

افغان وزیرداخلہ کی پاکستان کو دی گئی دھمکی پر کہا جارہا ہے "چاچا ہمیں سری لنکا سے ورلڈ کپ میچ کھیل لینے دینا" کچھ لوگ کہہ رہے کہ ان بڑھک بازوں نے نئی انڈین فلم بارڈر دیکھ لی ہے کچھ نے مشورہ دیا ہے کہ جنگ کرنے کی بجائے افغانستان بھارت کے تعاون سے بارڈر جیسی فلم بنالے۔

لش پش جگتو جگتی کے اس موسم میں خون جلانے سے پرہیز بہتر ہے آپ بھی خوش رہا کیجے کتابیں پڑھیں دوستوں کے ساتھ افطاریاں کیجے باقی سب خیریت ہے اور آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais