مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے بہت اچھا کیا کہ حیات ٹاورز اسلام آباد میں خود سے منسوب 8 عدد فلیٹس کے حوالے الزامات لگانے والوں کے خلاف سائبر کرائم سے رجوع کرلیا لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ الزام پہلے پہل جس صحافی نے "گج وج" کے لگایا تھا اسے تو خواجہ سعد رفیق نے معاف کردیا مگر اس الزام کو آگے بڑھانے والے مردوزن کے خلاف این سی سی آئی اے میں درخواست دیدی اور اب این سی سی آئی اے نے ان سوشل میڈیا مجاہدین و مجاہدات کو نوٹس بھیجنا شروع کردیئے ہیں۔
جو اس الزام کو تکرار کے ساتھ اچھالتے رہے کہ حیات ٹاورز میں سعد رفیق کے آٹھ فلیٹس ہیں اور یہ کہ یہ فلیٹس ان کے کسی سوشل میڈیا منیجر نے ان کے نام سے بُک کروائے تھے۔
یہاں ساعت بھر کیلئے سانس لیجے میں آپ کو ایک پرانا قصہ یاد دلانا چاہتا ہوں، ڈاکٹر شاہد مسعود نامی ایک اینکرنے پیپلز پارٹی سندھ کے رہنما سعید غنی پر کچھ الزامات اپنے پروگرام میں مسلسل دہرائے۔ ایک شام سعید غنی اس ٹی وی چینل کی عمارت کے باہر پہنچ گئے ان کا کہنا تھا کہ اینکرنے جو الزامات مجھ پر لگائے ہیں وہ ثابت کریں۔ الزامات ثابت کرنے کی بجائے اینکرنے پولیس کو فون کردیا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ میرے دفتر کے باہر جمع ہیں میری "جان شان" کو خطرہ ہے۔
ہماری رائے میں آج سے بیس پچیس برس قبل جب اس ملک کے اصل مالکوں نے الزامات کے زہر آلودہ نیزے بھالے تھما کر ایک سیاپا فروش لشکر میدان میں اتارا اور کشتوں کے پشتے لگوانے شروع کیئے تھے تب اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ذمہ داران نے قانونی راستہ اختیار کیا ہوتا تو نہ دیوتا تراشا جاسکتا اور نہ بے لگام و بدزبان انبوہ کی پنیری لگ پاتی دونوں جماعتوں نے قانونی راستہ کیوں نہیں اختیار کیا یہ وہی بتا سکتی ہیں۔
خواجہ سعد رفیق کے خلاف 8 فلیٹس کی ملکیت کا قصہ ایک صحافی مطیع اللہ جان نے جو اب یوٹیوبر ہیں نے گھڑا تھا۔ سعد رفیق نے تردیدی بیان میں قانونی کارروائی کا اعلان کیا تو یوٹیوبر صحافی سوشل میڈیا پر معذرت نامہ لگا کر نکل لیئے۔ خود سعد رفیق نے سوشل میڈیا کی ہی ایک پوسٹ میں ان کی معذرت کا اچھے لفظوں میں ذکر کیا اب سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ الزام گھڑنے اور تشہیر کرنے والے کی معافی قبول کرلی گئی ہے تو اس "بڑے" نام والے صحافی و یوٹیوبر کی ٹیویٹ کو درست سمجھ کر آگے بڑھانے والوں کا کیا قصور ہے انہیں بھی معاف کردیا جانا چاہئے۔
یہ رائے کس حد تک درست یا نادرست ہے اس پر بات ہوسکتی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں ریاست کی سرپرستی میں ایک دیوتا تخلیق کرنے اور دیگر کی کردار کشی کا جو دھندہ شروع ہوا تھا وہ اب خود ریاست کے گلے پڑ چکا خیر یہ ہمارا مسئلہ ہے نہ معاملہ ریاست جانے اور ریاست کی تخلیق جو پچھلے چار برسوں سے خالق کے گریبان سے الجھ رہی ہے۔
ہم تو یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ باقی ماندہ سیاسی لوگوں کو خود پر لگائے جانے والے الزامات پر محض ایک تردیدی بیان کو کافی و شافی نہیں سمجھ لینا چاہئے بلکہ الزام لگانے والے یا والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا بندوبست کرنا چاہئے تاکہ ہم سادھو باقی چور کی لغویات کا سلسلہ بند ہو خواجہ سعد رفیق نے درست سمت قدم اٹھایا۔
اسی طرح اگر بلاول بھٹو حال ہی میں ہارون الرشید سے منسوب ایک گھٹیا ترین پوسٹ جو بلاول کی کردار کشی پر مبنی ہے پر قانونی کارروائی کا آغاز کریں تو اس سے ان تمام لوگوں کو حوصلہ مل سکتا ہے جو یہ کہہ کر چُپ ہوجاتے ہیں کہ کسی کارروائی کا کیا فائدہ؟
بات فائدے یا نقصان کی نہیں بات یہ ہے کہ اس بے لگام و بدزبان انبوہ کا شافی علاج بہت ضروری ہے۔
ہمارے ہاں سستی الزام تراشی نئی بات ہرگز نہیں اسی ملک کے اخبارات و جرائد میں ذوالفقار علی بھٹو کو گھاسی رام لکھا گیا، محترمہ بیگم نصرت بھٹو اور خود بھٹو صاحب کی مرحوم والدہ کیلئے اسلام پسندوں کے جرائد میں جو شُرلیاں چھوڑی گئیں وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، بینظیر بھٹو کو کیا کیا نہیں کہا گیا ایک مہاتمے نے تو اکتوبر 2007 میں کارساز کراچی کے مقام پر محترمہ بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر ہوئے خود کش حملے کو بینظیر کا اسٹیج کیا ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا "یہ لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کا کھیل ہے اُس وقت اگر بینظیر بھٹو نے قانون کا سہارا لیا ہوتا تو مذکورہ شخص کی چیخیں سننے والی ہوتیں"۔
اسی طرح اگر آصف علی زرداری نے ان ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی کی ہوتی جو ان کی ایک عدد اہلیہ ڈھونڈ لائے اور پیش کررہے تھے تو اصلاح احوال کا دروازہ کُھل سکتا تھا سیاسی عمل میں بدزبانی من گھڑت الزامات ہردو کی تاریخ بہت پرانی ہے کتنی پرانی؟
اس سوال کا جواب سب کو پتہ ہے جواب دینے سے ڈرتے ہیں سادہ لفظوں میں پاکستان کی تاریخ سے پرانی ہے ہاں پہلے طنزیہ جملے اچھالے جاتے تھے نام بگاڑے جاتے تھے اب سیدھے منہ منہ بھر کر گالیاں دی جاتی ہیں رہی سہی کسر ڈالر خور یوٹیوبرز نے پوری کردی ہے مزید ستم سوشل میڈیا مجاہدین ڈھارہے ہیں جو کسی قاعدے قانون اور اخلاقیات کو نہیں مانتے۔
ہم بطور سماج آج جہاں جی بس رہے ہیں اس کے ذمہ دار ہم سبھی ہیں ریاست سیاسی جماعتیں مذہبی تنظیمیں اور فرداً فرداً ہر شخص ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ نہیں رکھتے لیکن دوسرے کے گریبان سے الجھنا عینِ حق جانتے ہیں ہمارا یعنی ہم سب کا اپنا اپنا حق ہے۔
یقین مانیئے میں تو اس بات کے بھی حق میں ہوں کہ جناب عمران خان سے اڈیالہ جیل کا جو مذموم قصہ پچھلے برس بھارتی چینلز نے سنایا بڑھایا اس کی تحقیقات ہونی چاہئے اور پتہ لگایا جانا چاہئے کہ کس نے یہ کہانی کتنے ڈالرز میں بھارتی چینلز کو فروخت کی۔
بات فقط اتنی ہی نہیں ہے کہ خواجہ سعد رفیق والے معاملے کے کچھ متاثرین یا ایک خاتون کی روتی ہوئی ویڈیو دیکھ اور اس کی باتیں سُن کر انسانی ہمدردی کی لہر برپا ہوجائے۔ سیالکوٹ کی اس خاتون کے ٹیوٹر اکاونٹ جو اب تقریباً ڈیلیٹ کردیا گیا ہے کہ درجنوں سکرین شارٹ موجود و محفوظ ہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ اس بے لگام و بدزبان انبوہ کا کوئی شخص قابل معافی و رعایت نہیں یہ لوگ اپنے محبوب رہنما کے ہر مخالف کو گالی دینا ثواب جانتے ہیں اور اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ پہلی بار کسی نے ان کے خلاف قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ہماری دانست یہی درست طریقہ ہے کاش دوسرے وہ لوگ جو آئے روز بدزبانی اور گھٹیا الزامات کی زد میں آتے ہیں خواجہ سعد رفیق والا راستہ اختیار کرسکیں ایسا ہو تو بے لگام زبانوں کو لگام ڈالی جاسکے گی آخر کہیں سے تو ابتدا ہو۔۔