Sunday, 19 July 2026
  1. Home/
  2. Haider Javed Syed/
  3. Iran America Jang Se Sasti Jangon Tak

Iran America Jang Se Sasti Jangon Tak

اس امر پر دوآرا نہیں کے ایران و امریکا کے درمیان ہوا اسلام آباد ثالثی معاہدہ دھول ہوچکا اور میدانِ جنگ پھر گرما گرم ہے۔ امریکی صدر اور ایرانی رہنماوں کے درمیان دھمکیوں بھرے بیانات کا مقابلہ جاری ہے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران امریکہ نے ایران پر تباہ کن حملے کئے جواباً ایرانیوں نے خطے کے عرب ملکوں میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔ گزشتہ سے پیوستہ روز امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے ساتھ ثالثی معاہدہ کے بعد محدود پیمانہ پر اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ کردیں اس کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں بھی منجمند کردیئے۔

بدھ کو ہی چاہ بہار، فارس و ہرمز کے قریب کئی ساحلی علاقوں اور بامپور کی فوجی چھاونی پر امریکی حملوں سے 30 شہری 7 فوجی جاں بحق اور 300 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ادھر اسلام آباد ثالثی معاہدے کے حوالے سوشل میں پر ایرانی وزیرخارجہ سے منسوب ایک جعلی پوسٹ سے حکومت مخالف حلقوں کا جی بہلانا اور اس گھٹیا پوست کو تبرکاً آگے بڑھانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن موجودہ نظام میں دوصوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سمیت صدر مملکت کے منصب کے علاوہ دومزید چار مزید آئینی عہدے رکھنے والی پیپلز پارٹی کے باقی ماندہ دستیاب جیالے بھی سوشل میڈیا پر ات اٹھائے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جے یو آئی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمٰن کی ایک حالیہ تقریر کے بعد دیسی انقلابیوں کی امیدیں "روشن" ہوگئی ہیں جبکہ مسلم لیگ ن و ہمنوا اس تقریر پر "چاروں ہاتھوں" سے ٹوٹ پڑے ہیں۔ وسطی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں مولانا کو ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے اسی تقریر کے حوالے سے طلب بھی کرلیا ہے لاہور میں اندراج مقدمہ کے لئے ایک عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

ستم یہ ہے کہ مولانا کی اس تقریر کی مذمت تحریک انصاف بھی کررہی ہے وہی تحریک انصاف جس نے پچھلے چاربرسوں سے فورسز کے شہدا اور ان کے خانوادوں کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلائی یہاں تک کہ گزشتہ دنوں دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک خاندان کے جاں بحق ہونے پر مبارکباد کی پوسٹیں اس لئے لگائیں کہ جاں بحق ہونے والے خاندان کا سربراہ ریٹائرڈ فوجی افسر تھا حد ہے دورنگیوں کی اور بے حد ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بوقت ضرورت اخلاقیات پر جوتا شماری کرنے والے اپنے سیاسی مخالف کی کسی بات کو پکڑ کر ناصح بن جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کو لے کر یہی کچھ ہورہا ہے چند نابغوں کا یہ دعویٰ ہے کہ مولانا کی قصور میں کی گئی حالیہ تقریر سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اس مشن زیرو زیرو سیون کا حصہ ہے جو تحریک انصاف کی مقبولیت کا کمبل چرانے کیلئے ہے۔ بعض تجزیہ کار اس تقریر کو پاک افغان کشیدگی سے جوڑ کر کہہ رہے ہیں کہ اس تقریر کا بنیادی مقصد حکومت اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ پر دباو بڑھا کر اپنے ہم فہم افغان طالبان کی سرکار کو کچھ ریلیف دلوانا ہے۔

البتہ ایک دو دل جلوں کا دعویٰ ہے کہ لیگی قیادت نے جے یو آئی سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں ہوپائے مولانا کی تقریر وعدہ خلافیوں پر ردعمل ہے بہر حال معاملہ اور مقصد کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے کہ مولانا ایک جہاندیدہ سیاستدان ہیں اور اپنے تجربے سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کب وہ وقت ہاتھ لگتا ہے جب حکومت کی پشت پر تنکا رکھو تو حکومت کو پہاڑ محسوس ہوتا ہے۔

البتہ جو ذہنی مریض ان دنوں مولانا کے دادا کی افغانستان سے ہجرت کرکے ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد ہونے کی کہانی بیچ رہے ہیں ان میں سے اکثر کے بزرگ بھی کسی دوسرے علاقے سے ہجرت کرکے انڈس ویلی (موجودہ پاکستان) میں آن آباد ہوئے تھے سو اگر حالیہ تقریر سے مولانا کی حب الوطنی مشکوک قرار پاتی ہے تو ان کی حب الوطنی "امر" کیسے ہوگی یا پھر یہ کہ اپنی اپنی سیاسی ضرورتوں کیلئے ماضی میں جس جس نے پارلیمنٹ اور اس سے باہر مولانا جیسی تقاریر کی تھیں کیا ان تمام افراد کی مقامیت پر بھی بات ہوگی کہ ان میں سے قدیم مقامی کون ہے اور اِدھر اُدھر سے آن کر یہاں آباد ہونے والوں کی اولاد کون ہے؟

ہماری دانست میں غور اس امر پر ہونا چاہئے کہ مولانا نے جو کچھ اپنی تقریر میں کہا اس میں درست کتنا ہے اور ناروا کتنا اور کیا ان کی تقریر اس اعلان سے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ "عمران خان نہیں تو پاکستان بھی نہیں" خیال رہے یہ اعلان پی ٹی آئی کی پشاور سے خاتون رکن قومی اسمبلی کا ہے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاستدان بسا اوقات سخت باتیں کہہ کر جاتے ہیں ویسے یہی مولانا تھے نا جنہوں نے اپریل 2022 کی اس تحریک عدم اعتماد میں توانا حصہ ڈالا تھا جس نے اُس سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو محفوظ راستہ دیا جس نے 2018 میں پسندیدہ سیاسی جماعت کو برسراقتدار لانے کیلئے وہ سب کیا جسکا خمیازہ اگلی دوتین دہائیوں تک بھگتنا پڑے گا۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تنقید کرنے اور بھد اڑانے والوں سمیت چند پھدکتے چوزے آپ ہی اپنی اداوں پہ غور فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کی حالیہ لہر سے ہوا جانی نقصان اور متاثر ہوئے سماجی ماحول نے بھی چند سوالات کو جنم دیا ہے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا حالیہ امریکا ایران جنگ میں پرجوش درخواستوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے خطے کی ایک دو ریاستوں کی خواہش کے باوجود ایران کے خلاف کارروائی میں ہمنوا نہ بننے کے بعد یہ ریاستیں اپنا حساب چکتا کررہی ہیں؟

بعض امور پر بلوچ قوم پرستوں کی ناراضگی ایک حقیقت ہے اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض ریاستوں کو گوادر بندرگاہ کی ترقی پسند نہیں ناراض بلوچوں سے ان ریاستوں کا تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس تعاون اور دہشتگردی کی حالیہ لہر کو دوسرے انداز میں دیکھنے اور تجزیہ کرنے والوں کی بات کو حقارت سے رد کرنے کی بجائے اس پر سنجیدگی سے بات کی جانا چاہئے۔

اس امر پر دوآرا نہیں کہ بلوچستان میں سب اچھا نہیں ہے حالات یہاں تک پہنچے کیوں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں داخلی مسائل و اختلافات پر مکالمے کا رواج نہیں ریاستی حب الوطنی کے بھاشنوں سے مٹی پاو پروگرام چلائے جاتے ہیں صحافت تاریخ اور سیاسیات کے ایک طالبعلم کے طور پر ہماری اب بھی یہی رائے ہے کہ بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کرکے معاملات کو سلجھانے کی کوششیں ہونا چاہیں۔

غلطیاں سب سے ہوئیں ریاست سے بھی اور ان ناراض بلوچوں سے بھی جو عسکریت پسندی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جلتی پر تیل ڈالنے والے آگ بجھانے والوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ اندریں حالات آگ بجھانا اور مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کرنا اہمیت رکھتا ہے البتہ کچھ مجرموں کو "گود" لے کر کچھ لوگوں کو ناقابل اصلاح قراردے دینے کی سوچ درست نہیں۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں مسائل کا آتش فشاں مسلسل سلگ رہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد سے حالات سنبھل نہیں پارہے۔ اکبر بگٹی ایک شخص کی انا کی بھینٹ چڑھے وہ شخص موت کا رزق ہوا مگر بلوچستان جل رہا ہے ان حالات میں علاقائی اور بعض بین الاقوامی قوتوں کا لُچ تلنے کے پروگراموں کو آگے بڑھانے کیلئے کردار ادا کرنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ سو بارِ دیگر عرض ہے اصلاح احوال کی ضرورت پر زمینی حقائق کی روشنی میں غوروفکر کیا جانا چاہئے تاکہ نئے دور کی بنیاد رکھی جاسکے۔

ادھر آزاد کشمیر میں بداعتمادی ختم ہونے میں نہیں آرہی گو کہ راولا کوٹ دھرنے میں پچھلے چند دنوں کے دوران کی گئی بعض تقاریر میں غلیظ الفاظ استعمال ہوئے مثلاً مخالفین کو ہیرا منڈیوں کی اولاد تک کہا گیا افسوس کہ کسی نے اس بدزبانی پر انگلی اٹھائی نہ احتجاج کیا۔ بہرطور مقامی نوعیت کے 38 مطالبات کے حق میں شروع ہوئی تحریک نے یکسر مختلف رنگ کیسے اختیار کیا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی سے ریاستی حکومت اور وفاق پاکستان نے رواں برس مئی میں جو معاہدہ کیا تھا اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ معاہدے کی کوئی شق تجاوز کے زمرے میں آتی تھی تو یہ معاہدہ کرتے وقت سوچا جانا چاہئے تھا۔ بظاہر بات مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کے معاملے سے بگڑی سوال یہ ہے کہ جو بات اب کہی جارہی ہے کہ اس بارے فیصلہ آئندہ اسمبلی کرے گی یہ بات مئی یا اس سے قبل ہوئے مذاکراتوں کے دوران کیوں نہ کی گئی۔

نیز یہ کہ کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی ریاستی اسمبلی میں نمائندگی کے تناسب پر بات کرلی جاتی کیونکہ 12 نشستیں آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ ہیں اسی طرح ان نشستوں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے تھا کہ اگر موجودہ آزاد کشمیر منقسم ریاست جموں کشمیر کی آزادی کا واقعی بیس کیمپ ہے تو پھر اس کے وسائل اور دیگر امور پر منقسم ریاست کے تمام لوگوں کا مساوی حق ہے۔ جہاں تک مہاجرین کی نشستوں پر جعلی اسٹیٹ سبجیکٹ کے ذریعے منتخب ہونے والوں کے معاملے کا تعلق ہے تو اس بارے یہ رائے اہم ہے کہ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی دعویداری کرنے والے تمام خاندانوں کے اسٹیٹ سبجیکٹ کی چھان بین کیلئے ایک آزاد کمیشن جس کی سربراہی ریاستی سپریم کورٹ کے جج کے پاس ہو چھان بین کرے۔

ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ نشستوں میں کمی بیشی لازم ہے ان نشستوں کو متناسب نمائندگی کے اصول پر رکھ دیا جائے جیسا دیگر مخصوص نشستوں کی تقسیم میں ہوتا ہے یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ نفرتیں بو کر گلاب کی فصل اٹھانے کے خواب احمق ہی دیکھ سکتے ہیں۔

اسی طرح موجودہ آزاد کشمیر میں وادی اور جموں کے علاقوں کے تناسب کے حوالے سے شروع ہوئی بحث بھی صریحاً غلط ہے۔ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق پوری ریاست جموں کشمیر متنازع خطہ ہے فی الوقت یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ طرفین ہوش کے ناخن لیں سستی الزام تراشی اور بدزبانیوں سے عبارت تقاریر دونوں قابل مذمت ہیں۔

کوشش کی جانی چاہئے کہ رواں ماہ کے آخر میں منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات متنازع نہ ہونے پائیں نیز یہ کہ انتخابی عمل میں شریک سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستوں سمیت دیگر معاملات کا ٹھوس حل تجویز کریں تاکہ بداعتمادی کی وسیع ہوتی خلیج کم ہوسکے آزاد کشمیر میں پیداشدہ مسائل کے حل کیلئے بلاول بھٹو کی جانب سے ٹروتھ کمیشن بنانے کی تجویز بھی مناسب ہے اور اس کی یہ بات بھی کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے یہ ان کا حق ہے اس حق سے انکار ممکن نہیں۔

چلتے چلتے پنجاب کی خاتون وزیراطلاعات کی جانب سے پنجاب کے سرائیکی بولنے والے علاقوں کے لوگوں کی جانب سے الگ صوبے کے مطالبے پر سستی جگت بازی پر یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ موصوفہ اسی طرح کی جگتیں کبھی شریف فیملی کو بھی مارا کرتی تھیں جب وہ پیپلز پارٹی میں تھیں تب ایک سے زائد بار اس نے نوازشریف کو بھارتی ایجنٹ بھی کہا تھا۔ سرائیکی صوبہ کے مطالبہ پر سستی جگت پھڑکانے کے نتائج کا مسلم لیگ ن کو سامنا کرنا ہی پڑے گا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب میں دو نئے صوبوں، صوبہ بہاولپور اور صوبہ جنوبی پنجاب کی قرارداد مسلم لیگ ن نے ہی 2012 میں پنجاب اسمبلی سے منظور کروائی تھی ان دنوں موصوفہ پیپلز پارٹی میں مقیم تھیں۔۔

"اُنہیں یاد ہو کے نہ یاد ہو"

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais