Tuesday, 14 April 2026
  1. Home/
  2. Haider Javed Syed/
  3. Jang Bandi Ke Baad Hue Muzakrat

Jang Bandi Ke Baad Hue Muzakrat

ہم پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جذباتی لوگ ہیں۔ تجزیہ کرنے پر فیصلہ صادر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ جو ہم جانتے ہیں وہ کوئی نہیں جانتا جو ہم کہہ رہے ہیں سب اسے خاموشی سے سماعت فرمائیں اور یہی حرفِ آخر ہے۔ ہماری دنیا کرہ ارض کے باقی ماندہ لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ یہ سب چُنیدہ امت والی اُس متھ کا کیا دھرا ہے جس کی وجہ سے ہم پدرم سلطان بود کے نسلی عارضے میں مبتلا ہیں۔

حالانکہ زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کیلئے لازم ہے کہ چار اور کے معروضی حالات پر غور کے بعد مکالمہ کیا جائے۔ تجزیہ کرتے ہوئے تجزیہ سننے کا حوصلہ بھی رکھا جائے لیکن اس کا کیا کیجے گا کہ یہاں ہر شخص استاد الاساتذہ بننے کے گنوں سے مالا مال ہے طالبعلم کے طور پر جینے بسنے کا آرزو مند نہیں۔

ایسا کیوں ہے کبھی اس پہ غوروفکر کی زحمت کیجے چودہ نہیں اٹھارہ طبق روشن ہوجائیں گے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ یہ روشنی منزل کی سمت رہنمائی نہیں کرے گی بلکہ کوہلو کا بیل بنائے رکھے گی۔

گزشتہ شب دوستوں کی ایک نشست میں زیادہ تر دوست کج بحثی کے جنون کو مارشل لاوں کی عطا قرار دے رہے تھے۔ تب میں نے عرض کیا مذہبی اجارہ داری والے سماج میں فہمی ارتقا کی بجائے اللہ کریسی والی سوچ پنپتی ہے۔

یہ بھی عرض کیا کہ جب یہ طے کرلیا جائے کہ دنیا محض فریب ہے تو چار اور پُر فریب دھندے ہی پھلیں پھولیں گے ہمیں اس سوال پر غور کرنا ہوگا کہ "ہم جو جنت کے طلبگار ہیں دنیا کو جہنم بنائے رکھنے میں ساری توانائیاں کیوں صرف کرتے ہیں؟"

خیر چھوڑیئے میں بھی ابتدائی سطور میں کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا۔ ہم اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات پر بات کرتے ہیں لیکن آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ ایران پر مسلط جنگ میں عارضی جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں جمعہ کی شام تکنیکی ماہرین اور ہفتہ کو وفود کے درمیان مذاکرات ابتدا تھے انہیں ابھی کسی فریق نے ناکام قرار نہیں دیا۔

ایران اور امریکہ دونوں یہ کہہ رہے ہیں کہ بات چیت میں بہت سارے نکات پر اتفاق ہوا کچھ پر ابھی اختلاف ہے اس لئے معاہدہ نہیں ہوسکا، معاہدہ نہیں ہو سکا کا مطلب مذاکرات ناکام ہوگئے کیسے نکال لیا جائے؟ یہ بذات خود ایک سوال ہے۔

یہ سطور اتوار کی صبح سے کچھ آگے کے وقت میں تحریر کر رہا ہوں۔ اتوار کی صبح امریکی وفد کے سربراہ نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو مختصر بریفنگ دی۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بریفنگ امریکی صحافیوں تک محدود تھی یعنی اسلام آباد میں بین الاقوامی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے موجود نمائندگان نے اس حوالے سے جو بھی خبریں دیں ان کا ذریعہ امریکی صحافی ہوں گے یا امریکی نائب صدر کی بریفنگ کا وہ مختصر ویڈیو کلپ جو ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

اس ویڈیو میں تو جے ڈی وینس یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے بات چیت کی دونوں وفود نے ایک دوسرے کے سامنے اپنا اپنا موقف رکھا پاکستان نے مذاکرات کے عمل کیلئے لائق اعتماد و تحسین کردار ادا کیا۔

ہمیں انہی الفاظ کا تجزیہ کرنا چاہئے ناکہ قیاس کے گھوڑے دوڑانے کا شوق پورا کرنا چاہئے۔ امریکی نائب صدر کی بات بہت واضح ہے مطلب، مذاکرات رُکے ہیں ختم نہیں ہوئے، جنگ بندی رہے گی یا میدان جنگ دوبارہ گرم ہوگا؟ اس سوال کا جواب انہوں نے نہیں دیا مگر ایک طرح سے اس سوال کا جواب ان کی مختصر پریس بریفنگ کے الفاظ میں موجود ہے وہ یہ کہ انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان نہیں کیا۔

ہم سادہ لفظوں میں بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی بھی جنگ بندی کے بعد شروع ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے میں تمام معاملات طے نہیں پاجاتے پہلے مرحلے میں ابتدائی بات چیت ہوتی ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہی مسائل کے مستقل حل کی راہ ہموار کرتا ہے اس لئے ہمیں امید کا دامن تھامے رہنا چاہئے مایوس ہونے یا فیصلہ صادر کرنے سے گریز ازبس ضروری ہے۔

جنگ ہو کہ مذاکرات یہ ہماری ہمدردیوں امیدوں اور فہم سے آگے نہیں بڑھنے چلنے دنیا فقط ہمارا نام ہے نہ نظام کرہ ارض ہماری بدولت چلتا ہے خود امریکہ بھی جس قدر مرضی بے لگام ہو وہ بھی کرہ ارض پر ہی واقع ہے واحد سپریم طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا لیکن وہ ایک بڑی طاقت ہے جھوٹے سچے بھرم کو قائم رکھنے کیلئے ہاتھ پاوں مارے گا۔

ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہم آج کے حالات میں مذاکرات کیلئے میزبان بنے انگنت احمقوں کے لایعنی دعوے پانی ہوئے امریکی اور ایرانی وفود کے طیاروں نے رُخ بدل کر کسی اور ملک میں لینڈ نہیں کیا بلکہ دونوں وفود پاکستان پہنچے اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔

یہ جو مذاکرات کا پہلا دور کہہ لکھ رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ مذاکرات کے خاتمے یا اس کی ناکامی کا اعلان نہیں ہوا سو جب مذاکرات کرنے والے ناکامی کا نہیں کہہ رہے تو ہمیں لازمی طور پر امیدوں کی شمع روشن رکھنا ہوگی اب تک کی خبروں سے ہم یہی سمجھ پائے ہیں جنگ بندی کے خاتمے کا خطرہ کم اور جاری رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

اس تحریر نویس کے خیال میں ستر تیس کا معاملہ ہے ستر فیصد جنگ بندی رہے گی تیس فیصد جنگ کا خطرہ ہے جنگ بندی رہنے کی امید زیادہ اس لئے ہے کہ (بالائی سطور میں بھی عرض کرچکا) جنگ بندی کے بعد کسی بھی مذاکرات کے آغاز کو حتمی سمجھنا غلطی ہوگی ابتداً سارے معاملات طے نہیں پاتے اسی لئے مجھے مذاکرات کے دوسرے دور کے جلد شروع ہونے کی امید ہے اس امید کی بڑی وجہ دنیا کے غالب حصے کا امریکی پالیسیوں پر عدم اعتماد اور امریکہ کے کہنے کے باوجود ایران جنگ میں اس کا ساتھ نہ دینا ہے۔

ہم اس ساری صورتحال کو سلامتی کونسل میں بحرین کی ایران کے خلاف قرارداد کو امریکی تائید کے مقابلے میں چین اور روس کی جانب سے ویٹو کرنے سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔

یہ درست ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایک ناقابل اعتماد شخص ہیں وہ اگر ایک دن میں تین بیان دو انٹرویو اور ایکس اکاونٹ پر تین پوسٹیں کریں تو ان کی آٹھوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں یعنی ایک دوسرے کی تردید لئے ہوئے۔

اس کے باوجود جنگ بچوں کا کھیل نہیں محض یہ کہنا کہ ہم نے ایران کی عسکری طاقت تباہ کردی ہے کافی نہیں اس لئے کہ مذاکرات اسی ایران سے ہی ہوئے ان مذاکرات کا اگلا دور بھی ہوگا کم از کم مجھے یہی لگتا ہے عین ممکن ہے کہ دوسرا دور بھی پاکستان میں ہی ہو کیونکہ ایران اس وقت سب سے زیادہ پاکستان پر اعتماد ظاہر کررہا ہے۔

ثانیاً پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور ایٹمی طاقت والی حیثیت ہے ثالثاً مذاکرات کے پہلے دور کے حوالے سے چین روس ترکیہ سعودی عرب اور قطر کے پاکستان سے اعتماد بھرے رابطے ہیں۔ نیز یہ مشکل ہے کہ مذاکرات سے قبل سعودی وزیر خزانہ کی سربراہی میں وفد کے دورہ پاکستان کو یکسر نظر انداز کردیا جائے۔

اس لئے میرے عزیزو! مایوسی کاشت کرنے اور مذاکرات ناکام ہوگئے کا ڈھول پیٹنے سے اجتناب لازم ہے مذاکراتی وفود کے طیاروں کے رخ اگر پہلے نہیں بدلے تو اب بھی دنیا ختم نہیں ہوگئی۔

جنگ دوبارہ شروع نہ ہو یہ ہر کس و ناکس کی خواہش ہے امن عالم اور انسانیت مقدم ہیں۔

حرف آخر یہ ہے کہ اسلام آباد میں جنگ بندی کے بعد جارح اور جارحیت کا شکار ہونے والے کے درمیان مذاکرات ہورہے تھے یہ کوئی سیرتﷺ کانفرنس تھی نہ کسی صوفی و پیر کا میلہ کہ کس کس چیز کے اسٹال تھے اور کس کس چیز کے نہیں۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais