گرمی بڑھ رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ بھی بے قابو ہوتی جارہی ہے جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھائی جاچکی ہوں گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا کہ "پٹرولیم کا ہفتہ وار درآمدی بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے"۔ ظاہر ہے اس کی وجہ خلیج میں جاری جنگ ہے۔ ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر آئے دن ایران میں پٹرولیم مصنوعات کے روز مرہ نرخوں کی ویڈیو وائرل کرکے حکومت کو شرمندہ کرنے والے دلپشوری کرلیتے ہیں کرنا بھی چاہئے آخر یہ انہی لوگوں کی حکومت ہے جو کہا کرتے تھے ناتجربہ کاروں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے تجربہ کاروں نے کیا کیا ماسوائے ناتجربہ کاروں کے قصے کہانیاں سنانے کے؟ گزشتہ روز عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا ہوا 119,69 ڈالر فی بیرل قیمت ہوگئی یعنی 7-6 فیصد قیمت بڑھی مزید بڑھنے کے روشن امکانات ہیں کیونکہ اے آئی سے بندوق والی تصویر بنوا کر سوشل میڈیا شیئر کرکے "شرافت چھوڑ دی میں نے" کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ناکہ بندی جاری رہے گی ایران کیلئے کوئی رعایت نہیں ایران ہوش کے ناخن لے۔
ادھر بدھ کے روز امریکی کانگریس کے اجلاس میں ایران جنگ کے حوالے سے حکمران جماعت اور ڈیمو کریٹ ارکان کے درمیان خاصی لے دے ہوئی کہا گیا تہران حکومت بدستور قائم ہے میزائل و ڈرون نظام بدستور موجود جنگ کے نتیجے میں اس کے چین روس اور شمالی کوریا سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے یہ سوال بھی ہوا کہ کیا صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت ایسی ہے کہ کمانڈر انچیف کی ذمہ داریاں نبھا سکیں؟
ارکان کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیر دفاع جھوٹ کی دلدل میں پھنس چکے ہیں جنگ پر ہونے والے اخراجات کے معاملے پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا گیا دوسری جانب آج یکم مئی 2026 سے امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود ہوجائیں گے اب امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکی فوج کو 60 دن تک جنگ میں شامل کرسکے گا لیکن اس مدت سے زائد عرصے کیلئے کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی اسی اثنا میں یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ خود پینٹاگون کے اندر سے جنگ بندی کو جاری رکھنے کیلئے دباو ہے اس دباو کی وجہ جنگی اخراجات کیلئے مزید رقم کی فراہمی میں تاخیر بتائی جارہی ہے۔
ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور تو شروع نہیں ہوسکا البتہ توقع کی جارہی ہے یہ آئندہ ہفتے میں شروع ہو لیکن مذاکرات کی ناکامی کے دعویداروں میں بھارت و اسرائیل کے ذرائع ابلاغ کچھ دیسی بھگوڑے یوٹیوبرز اور ان کے ہزارہا انصافی ہمنوا یک زبان ہیں خیر ان کی مرضی ہے حکومت وقت سے نفرت میں جس حد تک جانا چاہیں البتہ امریکی دھمکیوں ڈیڈ لائنز اور صدر ٹرمپ کی کہہ مکرنیوں کے باوجود ابھی تک ایران نے مذاکرات کے اگلے دور کو ناممکن نہیں کہا جنگ بندی جاری ہے جہاں تک طرفین کے سخت بیانات اور ایک دوسرے کو شکست خوردہ قرار دینے کے دعووں کا تعلق ہے تو یہ پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔
البتہ یہ امر حیران کن ہے کہ پاکستان میں کچھ طبقات ایران پر مسلط جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے موقف کو آگے بڑھانے میں پورے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ جُتے ہوئے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ بوزنوں کے یہ ٹولے تاریخ سے بلاتکار کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ گو ایران کے حامی طبقات میں سے بھی کچھ عدم توازن کا شکار ہیں ہردو کی وجہ سے مقامی سماجیت پر نامناسب اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ حکومت نے اگر صورتحال کا ادراک نہ کیا تو خدشہ ہے کہ ان دھندے بازوں کی وجہ سے پاکستانی سماج 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں واپس نہ جاکھڑا ہو۔
صدر زرداری ابھی چین کے دورے پر ہیں ان کے استعفیٰ دینے یا ان سے استعفیٰ لیئے جانے کی جو ڈھمکیری بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے خون کے پیاسے کراچی بیس ایک مڈیا ہاوس کے اسلام آبادی ملازم نے تین ماہ قبل چھوڑی تھی اس پر یوٹیوبرز اور کچھ صحافیوں کی دانش کے ایسے ایسے مظاہرے دیکھنے میں آرہے ہیں کہ "رہے نام اللہ کا" کے مصداق صورتحال ہے۔ ہمارے ہمزاد فقیر راحموں دعویدار ہیں کہ "صدر آصف علی زرداری اپنے استعفے کی منظوری لینے ہی چین گئے تھے لیکن چینی قیادت نے کہا ہے کہ ابھی آپ اپنے منصب پر فائز رہیں" یہ اور اس سے ملتی جلتی پھلجڑیاں سوشل میڈیا پر بھاگ دوڑ رہی ہیں۔
دوسروں یعنی یوٹیوبرز اور مجاہدین پر تو نہیں البتہ صحافی کہلانے والے بعض افراد پر حیرانی ہوتی ہے کہ وہ کیسے زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے ایسی پھلجڑی چھوڑتے ہیں جو "ٹُھس" ہوجاتی ہے پندرہ پندرہ بیس بیس برس رپورٹنگ کے شعبے میں کھڑکی توڑ کارکردگی کے بعد بھی اگر آپ نظام اور ضرورتوں کا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں کرسکتے اور کسی منشی کی خواہش کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کرکے اتراتے ہیں تو بہتر ہے نان حلیم کا چھابہ لگا لیجے۔ پیپلز پارٹی دو صوبوں اور آزاد کشمیر میں حکمران جماعت ہے وفاق میں اس کے پاس تین اہم آئینی عہدے ہیں بشمول صدر مملکت کے منصب کے موجودہ حالات میں سب ایک دوسرے کی ضرورت اور مجبوری ہیں ایسے میں کسی اچھے میزبان منشی کی خواہش کو بریکنگ نیوز کا رنگ دینا کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرانے کے مصداق ہی ہے۔
ہاں موجودہ حکومت کی ابتدا سے اب تک پیپلز پارٹی سے جو غلطیاں ہوئیں ان پر بات کی جانی چاہئے اور یہ کفر ہوگا نہ شرک۔ سیاسی جماعت کی قیادت کو تنقید سننی چاہئے اور غلطیوں کی نشاندہی کا برا نہیں منانا چاہئے۔ ہمارا اجتماعی المیہ یہ ہے کہ ہم خوبیاں اپنی پسندیدہ شخصیت اور جماعت میں دیکھتے ہیں اور خرابیاں ناپسندیدہ شخصیت اور جماعت میں یہ بھی ایک طرح کی انتہا پسندی ہی ہے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کی خوبی نظرانداز ہوجاتی ہے۔
جیسا کہ پنجاب میں کم عمر بچیوں کی شادی کے قانون کے حوالے سے صوبائی حکومت کا موقف اور قانون سازی نظرانداز ہوئے حالانکہ پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کو اس کی کھل کر حمایت کرنا چاہئے تھی، اس امر پر دوآرا ہرگز نہیں کہ اس وقت ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے اس کی ایک وجہ خلیج کی جنگ ضرور ہے لیکن مکمل طور پر اس کا ملبہ جنگ پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نالائقیاں بھی مہنگائی میں اضافے کی وجہ ہیں ارباب اختیار کو مہنگائی میں کمی کیلئے مئوثر حکمت عملی وضع کرنا ہوگی عام آدمی کا بہت برا حال ہے دوکمروں کے پانچ مرلے والے گھر کا بجلی کا بل بیس ہزار روپے سے زیادہ آتا ہے وہ بھی لوڈ شیڈنگ کے باوجود اس پر ہمدردانہ طور پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔