Monday, 02 November 2026
  1. Home/
  2. Haider Javed Syed/
  3. Parlimani Mulakhre Aur Panipat Ki Aathvi Jang

Parlimani Mulakhre Aur Panipat Ki Aathvi Jang

سیاستدانوں کے درمیان پارلیمنٹ میں شروع ہوئے ملاکھڑے کو ان کے پرستاروں نے سوشل میڈیا پر پانی پت کی آٹھویں جنگ میں تبدیل کردیا ہے۔ طرفین کے لشکری ایک دوسرے کے ساتھ ملکی سیاسی تاریخ کی آنکھوں میں جوتوں سمیت گھس رہے ہیں لشکر میدان میں اتر چکے جنگ جاری ہے توپیں گولے اور دہن آگ برسا رہے ہیں سادہ الفاظ میں کہیں تو "اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں" محترم شعیب عزیز کا پورا شعر لکھنے کو جی چاہتا تھا لیکن بالائی سطور میں لکھے ایک مصرعے پر اکتفا کیجے یعنی "ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں"۔

چند دن قبل انہی سطور میں عرض کیا تھا سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور سیاست میں مستقل دوستیوں اور دشمنیوں کو بھی پالا پوسا نہیں جاتا پتہ نہیں سیاست کے کوچے کی کس گلی میں دوستی یا دشمنی کی شام ہوجائے اور نئے تعلق بن جائیں۔ ہاں ایک بات ہے وہ یہ کہ تیسرے فوجی آمر کی سول فوجی کابینہ میں جمیعت علمائے اسلام مفتی محمود گروپ کے بھی دوعدد وفاقی وزیر تھے ان میں سے ایک کا نام میر صبح صادق کھوسو تھا دوعدد وزیر ہمارے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی پی ڈی پی کے بھی تھے ان میں سے ایک ارشد چوہدری تھے یوں کہہ لیجے کہ پاکستان قومی اتحاد "باجماعت" تیسرے فوجی آمر جنرل چوہدری محمد ضیاالحق کی کابینہ میں شامل تھا۔ معاف کیجے گا شاہ احمد نورانی کی جے یو پی باجماعت فوجی کابینہ شامل نہیں ہوئی تھی اسی لئے ٹوٹ گئی۔

اسی تیسرے فوجی آمر کی قائم کردہ مجلس شوریٰ کے چیئرمین خواجہ محمد صفدر مرحوم تھے خواجہ صفدر موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے والد بزرگوار تھے تیسرا مارشل لاء لگتے وقت مارکیٹ میں چند مسلم لیگیں دستیاب تھیں ان میں سے ایک عدد مسلم لیگ کے صدر پیر پگاڑا تھے اس مسلم لیگ کے ایک سینئر نائب صدر سابق شیر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھر ہوا کرتے تھے (جو بعد ازاں واپس پیپلز پارٹی میں چلے گئے) جبکہ چیف آرگنائزر ہمارے قابل احترام دوست محمد حنیف رامے مرحوم تھے۔ رامے صاحب نے بعد میں مساوات پارٹی بنائی تھی پھر پیپلز پارٹی میں دوبارہ شامل ہوگئے اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر بنے (رامے صاحب بھٹو دور میں پنجاب کے وزیر خزانہ اور وزیراعلیٰ بھی رہے تھے)۔

آپ سوچ رہے ہوں گے بالائی سطور کے حوالہ جات کی ضرورت کیا تھی، بالکل تھی کیونکہ سیاستدانوں کا پارلیمنٹ سے شروع ہوا ملاکھڑا جسے ان کے دیوانوں نے سوشل میڈیا کے میدانوں میں پانی پت کی آٹھویں جنگ میں تبدیل کردیا ہے کی "چاندماری" میں تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔ آج جو مسلم لیگ ن نامی جماعت ہے اس نے مسلم لیگ جونیجو گروپ کے بطن سے جب جنم لیا تھا تو اس کا نام مسلم لیگ فدا گروپ تھا۔ آج جو جمیعت علمائے اسلام ف ہے یہ کبھی جمیعت علمائے اسلام مفتی محمود گروپ ہوا کرتی تھی۔ مقابلے میں جمیعت علمائے اسلام ہزاروی گروپ ہوتا تھا کچھ عرصہ مرحوم مولانا احتشام الحق تھانوی نے بھی اپنی جے یو آئی چلائی جیسے لاہور والے مولوی اجمل قادری ایک جے یو آئی چلاتے رہے۔ 1980 کی دہائی کے آخری برسوں میں لاہور کے درجنوں رکشوں کی بیک پر ان کے پوسٹر لگے ہوتے تھے مولوی اجمل قادری پہلے مولوی تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تب یار لوگ پیار سے انہیں مولوی اسرائیل کہا کرتے تھے۔

خیر ایک عدد جے یو آئی مرحوم مولانا سمیع الحق کی ملکیت رہی آجکل ان کے بچوں کی ملکیت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں جن مولوی صاحبان کے بچوں میں تقسیم در تقسیم کی ملکیت کا شکار ہیں یہ سارے خلافت "الہیہ" (ان کے بقول) میں وراثت کے بالکل قائل نہیں خیر اس رولے گولے والے مضمون سے دامن بچا کر نکلتے اور آگے بڑھ لیتے ہیں۔ تیسرے فوجی آمر کا ساتھ کس کس نے دیا یہ تاریخ کا حصہ ہے ہم سبھی چونکہ تاریخ کے اپنے اپنے پسندیدہ اوراق پلٹتے پڑھتے اور اپنی اپنی پسند کے کرداروں کی پوجا کرتے ہیں اس لئے ہمارا سچ ابدی اور دوسرے کا "سفید جھوٹ"۔

پارلیمنٹ سے شروع ہوا ملاکھڑا پانی پت کی آٹھویں جنگ میں تبدیل ہونے کے بعد زوروشور سے جاری ہے کشتوں کے پشتے لگ لگائے جارہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی بس تاریخ کی چیخیں ہیں زخمی اوراق کی کرلاہٹیں۔ ہمزاد فقیر راحموں کے بقول سنجیدہ سیاسی کارکن "اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر" یعنی سنجیدہ سیاسی کارکنوں کی جگہ اطاعت گزار پیروکاروں کا دور دورہ ہے اور اطاعت گزاروں کا "کاں" کوا چٹا ہوتا ہے۔ فقیر ایک اور بات بھی کہہ رہا ہے وہ یہ کہ "جنگ میں لشکری مرتے اور تاریخ میں ظلِ الہٰی بچ رہتے ہیں"۔

ضروری نہیں کہ آپ فقیر راحموں سے متفق ہوں ہمارا حال بھی وہی ہے "ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں"، مروجہ سیاست میں ہرچیز جائز ہے آج سے نہیں جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے یہی دیکھ بھگت رہے ہیں۔ ہمارے بہت سارے دوست اس صورتحال کا ذمہ دار تین اعلانیہ اور یک غیراعلانیہ مارشل لاء کو قرار دیتے ہیں۔ ہماری رائے کچھ مختلف ہے ہم ہمیشہ یہ عرض کرتے آئے ہیں کہ مارشل لاؤں کے جرائم اپنی جگہ مگر ان جرائم کی پردہ پوشی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے خان سردار چوہدری وڈیرے اور نودولتیئے بھی برابر کے مجرم ہیں کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

ویسے ہمارے یہاں کچھ کاریگر ایک ہاتھ سے تالی بجانے میں ماہر ہیں اور یہ کاریگر ہر حکومت میں ایسے سجھ رچ جاتے ہیں جیسے آلو ہر سبزی کے ساتھ۔ فقیر راحموں کو البتہ آلو گوشت اور آلومٹر پسند ہیں معاف کیجے گا پانی پت کی آٹھویں جنگ نے دماغ کی دہی بنادی ہے، بات سے بات نکلتی ہے اور دور تلک نکل جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی جیسے آجکل پنجاب کے مردِ اول کپتان ریٹائرڈ برخواست شدہ اے سی محمد صفدر اعوان مانسہروی اپنی زوجہ محترمہ کے بھی بس میں نہیں رہے جو منہ میں آتا ہے اچھال دیتے ہیں۔

پانی پت کی اس آٹھویں جنگ کے بارے میں ہمارے کچھ "سوشل میڈیائی دانشوروں کا خیال ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا لگوایا میلہ ہے اور اس میلے کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کا کمبل چوری کروانا ہے"۔ اللہ معاف کرے ہمارے سوشل میڈیائی دانشور کتنے ہی "سیانڑیں" سیانے ہوگئے ہیں یہ وہی ہیں جو کبھی ہمیں بتایا کرتے تھے کہ عمران خان چاہتا تو جمائمہ گولڈ سمتھ کی پانچ ہزار ارب پاؤنڈ کی جائیداد میں سے برطانوی قانون کے مطابق اپنا حصہ لے سکتا تھا لیکن اس نے پاکستان کو ترجیح دی تاکہ ملک سے "کرپشن ختم کرسکے"۔

بہر حال ایک بات ہے وہ یہ کہ سیاستدانوں کے پارلیمانی ملاکھڑے اور ان کے پجاریوں کی شروع کی گئی پانی پت کی آٹھویں جنگ نے ایک بار پھر یہ سمجھا دیا ہے کہ دشمن کی دیوار نہیں رہنا چاہئے بھلے اپنا سر ہی کیوں نہ رہے۔

خیر ہم دعا ہی کرسکتے ہیں جنگ لگی رہے رزق چلتا رہے ویسے بھی جنگ و جدل کے بنا سیاست کا میدان بھائیں بھائیں کرتا سوہنا تو نہیں لگتا نا حرکت میں برکت ہے بس برکتوں میں پجاریوں اور رعایا کا حصہ نہیں ہوتا۔ خیر کالم کے دامن میں گنجائش کم ہوتی جارہی ہے اس لئے مختصراً یہ عرض کردیں کے سازشی تھیوریوں کے دہی بھلے یا پکوڑے ابھی مزید فروخت ہوتے رہیں گے یوں بھی کوئی چیز خالص ہمیں ہضم کہاں ہوتی ہے۔

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui