Tuesday, 30 June 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Aabi Jarhiyat Aur Kasheedgi

Aabi Jarhiyat Aur Kasheedgi

پاک بھارت آبی تنازع ایک بار پھر دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھانے کا باعث ہے۔ موجودہ کشیدگی سے خدشہ ہے کہ دونوں جوہری ہمسایہ ممالک پھر ٹکراؤ کی طرف جاسکتے ہیں۔ اگر بڑی جنگ نہ بھی ہوئی تو بھی محدود سرحدی جھڑپوں کا اِمکان موجود ہے۔ اِن حالات میں عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ آگے آئے اور دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کو امن کی طرف لائے۔

بدقسمتی سے پاک بھارت روابط معطل ہیں حکومتی یا عوامی سطح پر بھی بات چیت یا ملاقاتوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جنگوں کے ایام میں بھی سفارتی زرائع پر اتنی قدغنیں نہیں لگائی جاتیں جتنی بھارت نے گزشتہ برس مئی کی زمینی اور فضائی جھڑپ میں ہزیمت کے بعد لگا رکھی ہیں جسے سراہا نہیں جاسکتا۔ دراصل تحقیقات سے قبل ہی دہشت گردی کو جواز بنا کر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھارت کی فاش غلطی تھی جو طاقت کے زعم میں کردی گئی جس سے واضح ہوگیا کہ وہ ذمہ داران کی گرفتاری اور اُنھیں سزا دینے کی بجائے صرف پاکستان سے کشیدگی بڑھانے میں سنجیدہ ہے۔ اب تو غیر جانبدار تجزیہ کار بھی کہنے لگے ہیں کہ پہلگام واقعہ بھارتی اِداروں نے خود کرایا اگر ایسا نہ ہوتا تو ذمہ داران کے خلاف کچھ تو کاروائی ہوتی لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔

بھارت کے غلط فیصلوں کے نتائج گزشتہ برس پاک بھارت جھڑپوں کی صورت میں ظاہر ہوئے جن میں بھارت نے منہ کی کھائی اور خطے میں اُس کی بالادستی کا دعویٰ بے بنیاد اور غیر حقیقی ثابت ہوا۔ یہ صورتحال بھارتی قیادت کے لیے قطعی طور پر ناقابلِ قبول تھی کہ پاکستان نے نہ صرف اُس کے جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے بلکہ جدید ترین دفاعی نظام اور تنصیبات کو بھی تباہ کردے جس کا غصہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی صورت میں نکالا جا رہا ہے۔ حالانکہ عالمی قوانین میں ایسے اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں جس سے حیات کو نقصان ہونے کا خدشہ ہو۔

پاکستان کا یہ موقف درست ہے کہ بھارت کا جہلم اور چناب کے دریاؤں پر ڈیم بنانا اور پانی کا رُخ موڑنا انسانی حیات کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اُس کے حصے کے دریاؤں پرپانی کے ذخائر کی تعمیر سے پاکستان کا بڑا حصہ بے آب و گیاہ ہو سکتا ہے۔ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں دونوں ممالک میں معاہدہ طے پایا جسے سندھ طاس معاہدہ کہا جاتا ہے جس پر صدر ایوب خان اور وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کیے اِس معاہدے سے اُمید لگی کہ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں طرف خوشحالی کا باعث بنے گا بلکہ مستقبل میں آبی تنازعات کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے اب دونوں ممالک میں اچھی ہمسائیگی ہوگی اور دوستی کے رشتے مضبوط ہوں گے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔

کشمیر پر ناجائز قبضے کو مستحکم کرنے کے بعد بھارت اب تیزی سے جہلم اور چناب دریاؤں پر پن بجلی کے متنازع منصوبے تعمیر کررہا ہے جس سے دریاؤں کی روانی متاثر اور پاکستان کے حصے کا پانی کم ہو رہا ہے اِن منصوبوں سے پاکستان کی زراعت اور حیات دونوں خطرے میں ہیں۔ پانی کی کمی خوراک کی کمیابی کے خطرات کو وسیع اور سخت کررہی ہے لہذا حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان آبی تنازع کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو وسیع اور جامع بنائے عالمی طاقتوں کو بھی قائل کرے کہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تا کہ وہ طے شدہ معاملات کو دوبارہ مسائل نہ بنائے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب بھارت نے متنازع منصوبے بنائے تو ابتدا میں پاکستان نے سنجیدہ نہ لیا اور ثالثوں کو آگاہ کرنے میں تاخیر کردی جس سے بھارت کو مزید آبی جارحیت کی حوصلہ افزائی ہوئی اب بھی ضرورت اِس امر کی ہے کہ آبی مسئلہ کوحل کرنے کے لیے پاکستان سنجیدہ ہو۔

یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ بھارت پانی روکے گا تو خون بہے گا یا سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم، پانی پر ہاتھ ڈالا تو کاٹ دیں گے زبانی کلامی اظہار سے زیادہ پاکستان کا عملی طور پر متحرک ہونا زیادہ ضروری ہے۔ تمام وسائل کو بروئے کار لانے اور بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے بہتر نتائج آسکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو بھارت یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا کیونکہ یہ دونوں ممالک میں طے پانے والا ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے مگر یہ ہرگز نہ بھولا جائے کہ بھارت کو بار بار پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی بھی کسی نے اجازت نہیں دی لیکن وہ ایسا کررہا ہے۔ پاکستان کو دولخت تک کر چکا پاکستان کے دوصوبوں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بھارت کے پالتو دہشت گرد سرگرمِ عمل ہیں جو نہ صرف پاکستان کی املاک اور اداروں پر حملہ آور ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ ہیں جن کی سرپرستی کا اعتراف خود بھارتی قیات کرتی ہے۔ یہ وہ مزموم سازش ہے جو پاکستان سمیت عالمی طاقتوں کو معلوم ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی ہے کہ خطے کے امن کے خلاف مسلسل کوشاں ہے لہذا تاخیر کیے بغیر نہ صرف بھارتی سازشوں سے عالمی برادری کو آگاہ کرناضروری ہے بلکہ آبی جارحیت کے خلاف موثر اور نتیجہ خیز لائحہ عمل بنانابھی۔

بھارت کا صرف پاکستان سے ہی آبی تنازع نہیں بلکہ چین، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان سے بھی ہے اسی لیے خطے میں کشیدگی فروغ پزیر ہے۔ دراصل بھارت چاہتا ہے کہ خطے میں اُس کی بالادستی ہو اور ہمسایہ ممالک اُس کی مرضی و منشا کے مطابق چلیں جو ممکن نہیں آزاد و خود مختار ممالک ہدایات پر نہیں چلتے بلکہ ملکی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بھارت کی تنگ نظر اور متعصب قیادت مداخلت کو اپنا حق تصور کرتی ہے اور ہمسایہ ممالک میں حامی حکومتیں بنوانے کی کوشش کرتی ہے۔ بنگلہ دیش اور نیپال میں آنے والی سیاسی تبدیلیاں اسی سوچ کا نتیجہ ہیں ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے آج بنگلہ دیش کی بھارتی حاشیہ بردار حسینہ واجد ملک بدر ہے تو نیپال سے سرحدی تنازعات پر تناؤ ہے جب بنگلہ دیش اور نیپال جیسے کمزور ممالک اپنی آزادی و خود مختاری بارے حساس ہیں تو کوئی اور ملک کیونکر نہیں ہوگا؟

مالدیپ اور سری لنکا سے بھارتی حفاظتی دستے نکالے جا چکے بھوٹان بھی بھارتی چیرہ دستیوں پر نالاں ہے تو پاکستان بھلا کیسے بھارتی بالا دستی تسلیم کرسکتا ہے؟ جو گزشتہ برس مئی میں اُسے بدترین ہزیمت سے دوچار کرچکا اگر بھارت طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کرے اور اچھی ہمسائیگی کا مظاہرہ کرے تو جنوبی ایشیا امن کا گہوارہ بن سکتا ہے وگرنہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے کسی نئے ٹاکرے کا امکان موجودرہے گا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais