Sunday, 15 February 2026
  1. Home/
  2. Hameed Ullah Bhatti/
  3. Bangladesh Ka Faisla

Bangladesh Ka Faisla

بنگلہ دیش آجکل جن تبدیلیوں کے مراحل میں ہے اِس حوالے سے رواں ماہ بارہ فروری کے 13 ویں عام انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اگست 2024 میں طلبا کی قیادت میں چلائی جانے والی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں پندرہ برس تک ملک پر بلاشرکت غیرے اقتدار میں رہنے والی حکمران شیخ حسینہ حکومت کاخاتمہ ہوا جس کے بعدعبوری بندوبست سے امورِ مملکت چلائے گئے اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ عام انتخابات کے ساتھ ہی جمہوریت بحال ہوچکی ہے اورانتخابی عمل جیسے اہم امتحان سے عوام بخیر وعافیت گزرگئے ہیں انتخابی نتائج سے یہ توطے ہوگیاہے کہ کون حکومتی اور کون حزبِ اختلاف کی نشستوں پر بیٹھے گاتین سو کے ایوان کی 299نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے جبکہ شیرپور3 سے ایک نشست کے امیدوار کے انتقال کے باعث یہ نشست فی الحال خالی ہے جس پربعد میں ووٹنگ ہوگی بنگلہ دیش ساڑھے سترہ کروڑ نفوس پر مشتمل ہے حالیہ انتخابات کی خاص بات بارہ کروڑ ستر لاکھ کے لگ بھگ ووٹرزکا ملکی قیادت کے انتخابات میں دلچسپی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرناہے پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی لمبی لبی قطاریں دکھائی دیں جو اُن کے سیاسی شعورکی پختگی کی عکاس ہیں محتاط اندازے کے مطابق حقِ رائے دہی کی شرح ساٹھ سے پینسٹھ فیصد کے درمیان رہی مجموعی طورپر پُر امن اور آزادانہ ماحول میں انتخابی عمل مکمل ہوا جس کی وجہ امن و امان بحال رکھنے کے لیے حکومتی انتظامات ہیں اِس طرح ملک بھر میں کہیں بھی بدانتظامی، بدنظمی اور دنگے فسادکی کوئی بڑی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی اِن انتخابی نتائج نے ایک تو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کافیصلہ کردیاہے دوسرا آئینی اصلاحات کے حوالے سے عوامی نقطہ نظر معلوم ہوگیاہے۔

حالیہ انتخابات روایتی حریف عوامی لیگ اور بی این پی کی خواتین قیادت کے بغیر ہوئے خالدہ ضیاتو داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں جبکہ شیخ حسینہ جنھوں نے جبروتشدداور ماردھاڑ کی سیاست کوفروغ دیا اب اپنے کرتوتوں کی وجہ سے بیرونِ ملک ہیں اوراب خالدہ ضیا کا صاحبزادہ طارق رحمن ملک پر حکمرانی کرے گا یہ35برس بعد پہلا موقع ہوگا کہ بنگلہ دیش میں کوئی مرد وزیرِ اعظم کے منصب پر ہوگا عام قیاس یہ ہے کہ عبوری حکومت عنانِ اقتدار منتقل کرنے میں سنجیدہ ہے اور اِس حوالے سے کسی قسم کی تاخیر نہیں کرنا چاہتی مگر آنے والی نئی حکومت کو جہاں معاشی مسائل کا سامنا ہوگا وہیں تیارکپڑوں کی گرتی برآمدات کودوبارہ پہلے والی سطح پر لانا ہوگا تاکہ ملک کو غربت کی دلدل میں گرنے سے بچایا جا سکے علاوہ ازیں عوامی لیگ پر پابندی کی وجہ سے اُس کے درجنوں امیدواروں نے بطورآزاد امیدوار انتخابی معرکے میں شرکت کی جن میں سے کچھ کامیاب بھی ہوئے ہیں اُنھیں بھارت کی اخلاقی، مالی اور سیاسی حمایت بھی حاصل ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ کسی وقت بھی احتجاجی لہر کاباعث سکتے ہیں لہذا نئی حکومت کو احتیاط سے اور سنبھل کر چلنا ہوگا۔

توقعات و اندازوں کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)کی قیادت میں قائم اتحاد کو دوتہائی سے زیادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے اور جماعت اسلامی کی زیرِ قیادت گیارہ سیاسی جماعتوں کااتحاد دوسرے نمبر پر ہے یہ تو طے ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کااتحاد اکٹھے حکومت میں شامل نہیں ہو سکتا لہذا جماعتِ اسلامی حزبِ اختلاف کاکردارہی اداکرے گی جماعتِ اسلامی کے انتخابی اتحاد میں ای سی پی بھی شامل تھی جس کے بانیوں میں وہ نوجوان شامل ہیں جنھوں نے شیخ حسینہ حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کی لیکن یہ جماعت انتخابی جیت میں معاونت نہیں کر سکی جس کا مطلب لیا جارہا ہے کہ عوام نے ملکی نظم و نسق کسی نوآموز یا ناتجربہ کارکو دینے کی بجائے تجربہ کار کو دینے کافیصلہ کیا تاکہ معاشی کامیابیاں رائےگاں نہ جائیں۔

بنگلہ دیشی عوام کو طویل عرصہ بے بنیاد وعدوں سے مطئمن نہیں رکھا جا سکتا مگر یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر شیخ حسینہ حکومت کے خلاف چلنے والی احتجاجی تحریک کے اثرات ہنوز موجود ہیں تو سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کابھی مکمل طورپرخاتمہ نہیں ہو سکا اِن اثرات سے نجات اور سیاسی استحکام کی سوچ کا ایک جماعت کو انتخابی برتری دلائی ہے تین سو رُکنی ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے 151نشستیں ضروری ہیں اور یہ ہندسہ بی این پی اتحاد کراس کرنے کے بعد حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آچکاہے مگر ملکی معیشت وصنعت میں بہتری کا عمل جاری رہتاہے اور بنگلہ دیش جوکچھ عرصہ قبل گارمنٹس میں دنیا کا دوسرابڑابرآمد کنندہ رہ چکاہے لیکن سیاسی عدمِ استحکام سے نہ صرف معیشت متاثر ہوئی بلکہ گارمنٹس صنعت پر بھی بُرے اثرات مرتب ہوئے جس سے ملکی آمدن میں نمایاں کمی ہوئی نئی حکومت کو ایسی پالیسیاں بناناہوں گی جس سے برآمدات کے ساتھ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔

بنگلہ دیش پر بیرونی عناصر بھی اثر انداز ہوتے ہیں یہاں ایک عشرے سے امریکہ اور چین کی کھینچاتانی ہے جبکہ بھارت الگ ایساکردار ہے جوہر صورت اِسے مطیع وفرمانبرداردیکھنا چاہتا ہے شیخ حسینہ نے جب ملک کے 12ویں عام انتخابات کے نتائج کو بزور طاقت لوٹ لیا اور خالدہ ضیا سمیت دیگر سیاسی جماعتوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا تو یہ بھارت ہی تھا جس نے امریکہ اور مغربی ممالک کو قائل کیا کہ انتخابی نتائج تسلیم کرلیں وگرنہ چینی رسوخ بڑھ سکتا ہے لیکن آج چاہے صورتحال بدل چکی ہے اور عوامی لیگ اپنے شرمناک ماضی کی پاداش میں ملک کے سیاسی منظر نامے پر موجود نہیں بیرونی عناصر سے ملک کو بچاناایسا امتحان ہے جو حکمت وتدبر کا متقاضی ہے نئے وزیرِ اعظم طارق رحمٰن کے لیے اقتدار کچھ زیادہ آسان نہیں ہوگاچین جو بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کررہا ہے اورجدید بنگلہ دیش کی تعمیر میں پیش پیش ہے اُسے نہ صرف مطمئن رکھنا ہوگا بلکہ امریکہ اورمغربی ممالک سے گارمنٹس کی صورت میں ملنے والے معاشی فوائد کوبھی برقراررکھنا ہوگاجبکہ بھارت جیسا کینہ پرور ہمسایہ جو کئی دہائیوں سے بنگلہ دیشی بیوروکریسی کی تربیت، تعلیم وثقافت سے ہر شعبے میں دورتک دخیل ہے اُس کی چالوں کو سمجھ کر ناکام بنانا ہوگا وگرنہ بنگلہ دیش کے لوگ اگر ٹوٹ کر چاہتے ہیں تو نفرت کرنے میں بھی اپنی مثال آپ ہیں یہ جس چاہت سے اقتدار میں لاتے ہیں عدم کارکردگی کی صورت میں نہ صرف اقتدار سے بے دخل کرتے ہیں بلکہ نام و نشان تک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں کیا یہ پہلو طارق رحمن کے ذہن میں ہے؟ اِس کاجواب مستقبل قریب میں حکومتی کارکردگی سے ملے گا۔

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais